ہم نے عمران خان کو بھی اس شہر کے وارثوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں بتایا لیکن کسی نے اس شہر کے نوجوان کی دادرسی نہیں کی۔ سید فیصل سبزواری
اگر پیپلز پارٹی قومی جماعت ہوتی تو اس صوبے بھر میں مہاجر، پنجابی، پشتون سمیت تمام زبانیں بولنے والے افراد سرکاری اداروں میں شامل ہوتے۔ سید فیصل سبزواری
ہم نے عمران خان کو بھی اس شہر کے وارثوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں بتایا لیکن کسی نے اس شہر کے نوجوان کی دادرسی نہیں کی۔ سید فیصل سبزواری
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زیر اہتمام عام انتخابات کے سلسلے میں عوامی رابطہ مہم کا سلسلہ جاری اس موقع پر شاہ فیصل ٹاؤن یوسی 13رفاہ عام سوسائٹی میں ایک شاندار اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ عوامی اجتماع میں سید فیصل سبزواری ، حق پرست امیدواران و رکن رابطہ کمیٹی محمد ابو بکر ، آسیہ اسحاق ، سینیٹر خالدہ اطیب اور حق پرست عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سید فیصل سبزواری نے کہا کہ آج اتنی بڑی تعداد میں حق پرست عوام کا یہاں آنے کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ سب کے یہ علم میں لانا چاہتا ہوں کہ آج کل سیاسی جماعتیں عوام کو بتا رہی ہیں کہ کس کو ووٹ دینا چاہئے اور کس کو نہیں میں اس سلسلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ جو کراچی بھر میں سرکاری پیسوں سے اشتہارات لگا رہے ہیں ہم انکی طرح نہیں ہیں ہم اپنے عوام کے درمیان رہ کر گھر گھر جاکر عوام کو آگاہی دیتے ہیں اور جو لوگ آج انتخاب میں اندھا لگا رہے ہیں وہ پیسا لگاکر پیسا کمانے آرہے ہیں آج میرے ساتھ خالدہ اطیب موجود ہیں انکو ایم کیو ایم نے ایوان بالا میں بھیجا اور انکا اور میرا ایک پیسا بھی سینیٹر بننے میں نہیں لگا جبکہ پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی پیسا لگاکر انتخابات جیتنا چاہتے ہیں یہ لوگ اگر جیت جائیں تو یہ حقیقی مسائل کو حل کرنے کے بجائے آپ کو ماضی کی طرح نظر نہیں آئینگی میں نے صدر عارف علوی سمیت پی ڈی ایم حکومت سے مسائل کو حل کرنے کیلئے معاہدے کئے ہم نے کراچی والوں کو درست گنے جانے کو کہا اور یہاں کہ عوام کو بازیاب کروایا اور اگر ہمیں صحیح نہیں گنا جاتا تو ہمیں پینے کا پانی ، تعلیمی نظام ، صحت سمیت کوئی بھی چیز پوری نہیں ملتی ہم نے اپنے حقوق کیلئے عدالت سمیت تمام اعلیٰ حکام سے رابطہ کہا ہم نے صرف بینرز نہیں لگائے اگر ہم نے بھی بینرز لگائے ہوتے تو آج کراچی کی مردم شماری کو درست کروایا۔
انہوں نے کہا پیپلز پارٹی سندھ پیپلز پارٹی ہے اگر یہ قومی جماعت ہوتی تو اس صوبے بھر کے اداروں میں مہاجر ، پنجابی ، پشتون سمیت تمام زبانیں بولنے والے افراد اداروں میں ہوپیپلز پارٹی ہے اگر یہ قومی جماعت ہوتی تو اس صوبے بھر کے اداروں میں مہاجر ، پنجابی ، پشتون سمیت تمام زبانیں بولنے والے افراد اداروں میں ہوتے تے لیکن ایسا نہیں ہوا یہ قوم پرست متعصب جماعت کبھی بھی اس شہر صوبے اور ملک کی خیر خواہ نہیں ہوسکتی، ماضی میں اسی حلقے میں ہمارے جیتے جانے والے امیدوار کو اگلے دن 3 سو جعلی ووٹوں سے ہروایا اب ہم ایسا نہیں ہونے دینگے اور میں بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ہم آپکو فلسطین ، اسلام کے نام پر ووٹ نہیں مانگےگے آج جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے نمائندے سرکاری پیسوں کو خرچ کر کہ عوام کو روڈ بنانے کی لالج دیکر دھاندلی کرنے کے چکر میں لگے ہیں لیکن الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔سید فیصل سبزواری نے کہا کہ صرف ایم کیو ایم پاکستان نے اس شہر کیلئے کام کئے ہم نے ہی با اختیار بلدیاتی نظام کیلئے جدوجہد کی اور عدالت سے فیصلہ اپنے حق دلوایا ہم نے ہی 73 یونین کونسل کم کرنے کی وجہ سے پیپلز مزاکرات کئے انکے خلاف عدالتی کروائی کروائی جبکہ جماعت اسلامی نے مئیر بننے کے چکر میں کراچی کا سودا کیا اور سودا کرنے کے باوجود وہ اپنا مئیر نہیں لاپائے اور ہم نے بلدیات سے بایکاٹ کر کہ الیکشن کمیشن کے زریعے 73سیٹوں کے فیصلے کو درست ثابت کروایا ہم ہی اس شہر کے حقیقی وارث ہیں اور ماضی میں ہم نے کو تکالیف برساشت کی ہیں وہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ہم نے اپنی عوام کیلئے ہر وہ قربانی دی ہے جو ہمارے حصے میں بھی نہیں تھے ہم میں عمران خان کو بھی اس شہر کے وارثوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں بتایا لیکن کسی نے اس شہر کے نوجوان کی دادرسی نہیں کی۔
رکن رابطہ کمیٹی و حق پرست امیدوار حلقہ این اے 232 آسیہ اسحاق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اس جماعت سے تعلق رکھتی ہوں جس میں 90 فیصد غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ جماعت غریب نوجوانوں کو پاکستان کے ایوانوں میں بھیجتی ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی امیدوار کا ایک پیسا بھی خرچ نہیں ہوتا، آج عوام کے دلوں میں یہ سوال ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی ہماری نمائندگی کیوں کر رہی ہے ؟ میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ ہم باقی سیاسی جماعتوں کی طرح صرف الیکشن کے وقت اپنے عوام کے درمیان نہیں آتے بلکہ ہر اچھے اور برے وقت میں ہم اپنے عوام کے مسائلوں کو حل کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں ہماری جدوجہد کی سب سے بڑی کامیابی اس شہر کے گمشدہ عوام کو ملک کے وزیر اعظم سمیت تمام اعلٰی حکام کے سامنے احتجاج کر کہ 73 لاکھ لوگوں کو بازیاب کروایا جب کراچی کے عوام کو کم گنا جا رہا تھا تو تب کوئی سیاسی جماعت اس شہر کیلئے نہ تو باہر نکلی اور نا تو کسی نے آواز بلند کی صرف واحد ایم کیو ایم پاکستان تھی جس نے اس مسئلے سمیت تمام مسائل کے حل کیلئے آواز حق بلند کی۔
رکن رابطہ کمیٹی و حق پرست امیدوار پی ایس 91 محمد ابو بکر نے عوام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 8فروری کو ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں ملک بھر کی سیاسی جماعتیں اپنے منشور اور پیغام کو عوام تک پہنچارہی ہیں میں اپکو اپنے منشور اور وژن کے ساتھ یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی جو پچھلی کئی دہائوں سے اس صوبے پر قابض تھی اس نے کوئی ایک نظام درست نہیں کیا بلکہ چلتے ہوئے نظام کو بھی تباہ کردیا یہ وہ شہر تھا کہ جس میں 60 کی دہائی میں ایسا نظام تھا جو کسی بڑے ملکوں میں پایا نہیں جاتا تھا لیکن آج اسکول ، پانی ، بجلی اور گیس سمیت تمام اداریں تباہ حالی کا شکار ہیں آج سرکاری اسکولوں کی حالت وہ ہے کہ کوئی بھی انسان اپنے بچے کو ان اسکولوں میں پڑھانا نہیں چاہتا یہ سب پیپلز کا ظلم ہے جو ہم کئی سالوں سے برداشت کر رہے ہیں لیکن اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم اس پیپلز پارٹی کو اس شہر نہیں بلکہ پورے صوبے سے صاف کرینگے اور انکے ظالمانہ نظام کا خاتمہ کر کہ عوام کو انکے بنیادی حقوق دلوائینگے اور مقامی نوجوانوں نو نوکریوں اور تعلیم سمیت تمام حقوق دلوائینگے۔
اس موقع پر سینیٹر خالدہ اطیب نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی اس خوبصورت محفل سجانے پر رفاع عام کے عوام اور کارکنان کو مبارکباد پیش کرتی ہوں آج ہم اس جگہ موجود ہیں جہاں ایم کیو ایم پاکستان اپنی تاریخ میں کبھی نہیں ہاری آج اتنی بڑی تعداد میں عوامی شرکت نے یہ ثابت کردیا کہ ایم کیو ایم آج پھر یہاں سے فتحیاب ہوگئی۔پروگرام کے اختتام پر اراکین رابطہ کمیٹی کی جانب سے الیکشن آفس کا افتتاح کیا اور بعد ازاں شاندار آتش بازی کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر انچارج اے پی ایم ایس او ، شعبہ خواتین ، اراکین سی او سی ، ٹاؤن و یوسی کے ذمہ داران و کارکنان نے بھی شرکت کی۔