دسویں سالانہ مائیکرو فنانس کانفرنس/سیکریٹری محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی سندھ فیصل احمد عُقیلی نے سندھ حکومت کے اقدامات اور ترجیحات سے تفصیلی آگاہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق دسویں سالانہ مائیکرو فنانس کانفرنس/سیکریٹری محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی سندھ فیصل احمد عُقیلی نے سندھ حکومت کے اقدامات اور ترجیحات سے تفصیلی آگاہ کیا۔
کاربن فنانسنگ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کا اہم ذریعہ ہے۔ سندھ حکومت نے کاربن کریڈٹ کے حصول کیلئے 13 منصوبے تیار کیے ہیں جو وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے متعلقہ نظام کے تحت آگے بڑھائے جارہے ہیں۔ کاربن کریڈٹس کے ذریعے ماحولیاتی منصوبوں کیلئے مالی وسائل پیدا کرنے کے ساتھ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جاسکتی ہے۔
سیکریٹری محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی سندھ فیصل احمد عُقیلی نے پاکستان مائیکرو فنانس نیٹ ورک کے زیر اہتمام اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے (یو این آئی ڈی او) کے اشتراک اور یورپی یونین کے تعاون سے منعقدہ دسویں سالانہ مائیکرو فنانس کانفرنس میں سندھ حکومت کے اقدامات اور ترجیحات سے تفصیلی آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ٹیکنالوجی کو مقامی لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے۔
سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کے ذریعے ایئر کوالٹی اور واٹر کوالٹی کی مانیٹرنگ، ماحولیاتی آلودگی کی نگرانی اور ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ابتدائی وارننگ سسٹمز، ماحولیاتی معیار کی مسلسل نگرانی اور گراس روٹ سطح پر بروقت معلومات کی فراہمی سے موسمیاتی خطرات اور ان کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔
سیکریٹری ماحولیات فیصل احمد عُقیلی نے آگاہ کیا کہ فضائی آلودگی پر قابو پانا انسانی صحت بالخصوص سانس کے امراض سے تحفظ کیلئے انتہائی اہم ہے۔ اس مقصد کیلئے ماحولیاتی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر اور جدید بنانا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے قابل اعتماد ڈیٹا کی تیاری بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔سندھ حکومت آغا خان یونیورسٹی کے ساتھ ماحولیاتی اور موسمیاتی صحت سے متعلق ڈیٹا ڈویلپمنٹ، تحقیق اور معلومات کے تبادلے کیلئے تعاون کررہی ہے جس سے ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی میں مدد ملے گی۔
سیکریٹری فیصل احمد عُقیلی نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے زراعت اور دیہی معیشت کو محفوظ بنانے کیلئے ٹیکنالوجی، بروقت ڈیٹا، کلائمیٹ فنانس اور مقامی سطح پر ابتدائی وارننگ سسٹمز کو فروغ دینا ہوگا۔ ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی لچک کیلئے حکومت، نجی شعبے، مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان مؤثر اشتراک ناگزیر ہے۔ سندھ میں کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنانے کیلئے مختلف پروگرامز جاری ہیں اور پبلک و پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے زرعی شعبے میں جدید اور موسمیاتی لحاظ سے موزوں ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔
کسانوں کو بروقت موسمی معلومات، پانی کی دستیابی اور ماحولیاتی خطرات سے متعلق ڈیٹا فراہم کرنا زرعی پیداوار اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (ایس آر ایس او) کے مائیکرو فنانس پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں میں مالی سہولیات، بالخصوص خواتین کیلئے مائیکرو فنانس اور آمدنی پیدا کرنے کے مواقع معاشی بااختیاری میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
سیکریٹری ماحولیات فیصل احمد عُقیلی نے کہا کہ سندھ حکومت اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی) سمیت مختلف ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ بھی کام کررہی ہے جبکہ نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے تحت ماحولیاتی اور ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ کراچی میں ٹی پی فور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ منصوبہ بھی آبی آلودگی کے خاتمے، پانی کے بہتر استعمال اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے اہم اقدام ہے۔ موسمیاتی لچک، زرعی ترقی اور مالی شمولیت کو مربوط انداز میں آگے بڑھا کر ہی دیہی آبادی کو مستقبل کے موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے ٹیکنالوجی، سائنسی ڈیٹا، ماحولیاتی نگرانی، کلائمیٹ فنانس اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو بنیادی حیثیت دینا ہوگی۔