Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

اسلام کوٹ کا آر او پلانٹ 1.5 ملین گیلن یومیہ پانی کی سپلائی کرنے والا میگا پلانٹ ہیں۔ سعید غنی

اسلام کوٹ کے آر او پلانٹ پر 434 ملین روپے اس کی بحالی کے لئے ہیں اور یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں ہے۔سعید غنی

0

اسلام کوٹ کا آر او پلانٹ 1.5 ملین گیلن یومیہ پانی کی سپلائی کرنے والا میگا پلانٹ ہیں۔ سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات، ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ، پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ و رورل ڈویلپمنٹ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ اسلام کوٹ کے آر او پلانٹ پر 434 ملین روپے اس کی بحالی کے لئے ہیں اور یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں ہے۔ پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ رولز کے تحت کام کرتا ہے اور اس ہے دائرہ اختیار میں کراچی واٹر بورڈ کارپوریشن اور واسا نہیں ہے، جہاں یہ دونوں ادارے کام کرتے ہیں پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ ڈپارٹمنٹ وہاں کام نہیں کرتا۔ اب تک 109 افراد کو فوتی کوٹہ یا 14 فیصد عدلیہ کے احکامات پر معذوروں کے کوٹہ سے ملازمتیں دی گئی ہیں۔ ابھی بھی گریڈ 1 سے 4 تک 1000 ملازمین کی بھرتی کی جاسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات میں ارکان اسمبلی کے تحریری اور ضمنی سوالات کے جواب میں کیا۔

ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایسٹ میں پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ کی کوئی اسکیم نہیں ہے اور معزز ممبر نے کارساز بائی پاس اسکیم کی جو نشاندہی کی ہے وہ اسکیم کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ ڈپارٹمنٹ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور حیدرآباد میں واسا کے زیر انتظام علاقوں میں کام نہیں کرسکتا، یہ رولز کے اندر ہے اس لئے کراچی میں واٹر بورڈ اور حیدرآباد میں واسا کے ہیں وہ ان کے تحت ہی ہوتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ کے تحت اسکیموں میں پانی کی ڈسٹریبیوشن، لائننگ، انڈر گرائونڈ ٹینک، بجلی کی فراہمی سمیت تمام شامل ہوتا ہے۔ بن قسم کے علی اکبر شاہ گوٹھ، رمضان گوٹھ اور مائی کلاچی گوٹھ کے حوالے سے معزز اپوزیشن رکن کے ضمنی سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ علی اکبر شاہ گوٹھ میں پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ کی اسکیم 2021 میں مکمل ہوچکی ہے، باقی مانندہ گوٹھوں میں پبلک ہیلتھ کی کوئی اسکیم ہی نہیں ہے۔ پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ ڈپارٹمنٹ میں فوتی اور معذوروں کے کوٹہ پر ملازمتیں دینے اور ان میں کراچی سمیت کچھ شہری علاقوں میں ملازمتیں نہ دینے کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ جن 109 ملازمین کو ملازمتیں دی گئی ہیں ان میں 86 فیصد فوتی کوٹہ میں جن جن علاقوں میں ملازمین فوت ہوگئے تھے ان کے بچوں کو دی گئی ہے جبکہ 14 فیصد ملازمتیں معزز عدلیہ۔کے فیصلہ کے بعد معذوروں کو دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معزز ممبر صاحبہ نے کراچی میں ملازمتیں نہ دینے کا شکوہ کیا ہے تو میں ان کو یہی کہہ سکتا ہوں کہ اللہ تعالی کراچی میں کام کرنے والے پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ کے ملازمین کو محفوظ رکھے دوسرا پبلک ہیلتھ کا کراچی اور حیدرآباد میں رول بہت کم ہے اور آئندہ حیدرآباد واٹر بورڈ کے بعد سکھر، نوابشاہ اور میرپور خاص میں بھی واٹر بورڈ بننے کے بعد پبلک ہیلتھ کا کام مزید کم سے کم ہوتا جائے گا۔ کے فور منصوبے میں پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ کے رول کے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ اس منصوبے میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور آبپاشی محکمہ کا کام ہے، اس میں پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اسلام کوٹ میگا آر او پلانٹ پر 434 ملین روپے مختص ہونے اور ماضی میں یہ اس آر او پلانٹ پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے ضمنی سوال کے جواب میں وزیر پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ سندھ سعید غنی نے کہا کہ اسلام کوٹ کا آر او پلانٹ 1.5 ملین گیلن یومیہ پانی کی سپلائی کرنے والا میگا پلانٹ ہیں، جو مختلف تکنیکی مسائل کے باعث چل نہیں رہا ہے۔ سابقہ حکومت میں اینگرو والوں نے اس کی بحالی اور چلانے کے لئے 1400 ملین روپے کے لگ بھگ مانگے تھے اور اس وقت کی کابینہ نے اس کی منظوری بھی دے دی تھی البتہ بعد میں اینگرو نے چار سال تک چلانے کے لئے مزید 600 ملین مانگے تھے، چونکہ سندھ کابینہ نے 1400 ملین کے لگ بھگ کی منظوری دی تھی تو دوبارہ 600 ملین کی منظوری ممکن نہ ہوسکی۔ پھر نگراں صوبائی حکومت بنی تو نگراں وزیر اعلٰی سندھ نے اسلام کوٹ کے دورے کے درمیان اس بند آر او پلانٹ کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی اور اس کی لاگت کے جائزہ کا ٹاسک مذکورہ کمیٹی کو دیا گیا۔

اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ وہ اس پلانٹ کی بحالی اور چلانے میں 434 ملین روپے میں کرسکتی ہے، جب یہ معاملہ موجودہ سندھ کابینہ میں آیا تو میں نے بحثیت وزیر اس ایجنڈے کو موخر کروایا کہ جہاں 2000 ملین روپے کی لاگت ایک کمپنی بتا رہی ہے وہاں 434 ملین میں یہ کام کیسے ہوگا، جس کے بعد مذکورہ کمیٹی جس میں محکمہ کے انجنئیرز شامل ہیں ان سے میں اور سیکریٹری دونوں نے اس پر تفصیلی بریفنگ لی اور ان سے تحریری طور پر انڈرٹیکنک لی ہے کہ وہ یہ کام 434 ملین روپے میں کرسکتے ہیں، البتہ اس کمیٹی نے اپنی کچھ شرائط بتائی، جس میں وہاں عملہ کو متعین کرنے اور اس منصوبے میں کسی قسم کی سیاسی و دیگر مداخلت نہ ہونے کی یقین دہانی مانگی، جس کو ہم نے منظور کیا اور یہ دوبارہ سندھ کابینہ میں اسلام کوٹ میگا آر او پلانٹ کی بحالی اور چلانے کے لئے 434 ملین کی منظوری دی گئی ہے اور جلد ہی اس منصوبے پر کام شروع ہوجائے گا، یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں بلکہ 2000 ملین کی بجائے 434 ملین روپے کا منصوبہ ہے۔

Comments
Loading...