ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کے موجودہ گورننس ماڈل کو یکسر تبدیل کر دیں گے۔ مصطفیٰ کمال
ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد میں بہت عرصے بعد بہت بڑی تعداد میں کارکنان کی ورکرز اجلاس میں شرکت۔
پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں ایم کیو ایم کے کارکنان کا سندھ کے شہری علاقوں کے حقوق کے لیے اپنی سرگرمیوں اور کاوشوں کو تیز کرنے کا اعادہ
کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ سندھ کی موجودہ حکومت گزشتہ 18 سال میں 22 ہزار ارب روپے وفاق سے لینے کے باوجود سندھ کو بالعموم اور کراچی اور حیدرآباد کو بالخصوص بنیادی ضروریات تک مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کے موجودہ گورننس ماڈل کو یکسر تبدیل کر دیں گے اور اختیارات اور وسائل ائینی طور پہ پاکستان کے لوگوں کے دروازے تک پہنچائیں گے اسی میں پاکستان کی بقا ہے۔
کراچی زخمی ہے اور اس سے خون رس رہا ہے کراچی کو اپنے پیروں پہ کھڑا کیے بغیر پاکستان کو مستحکم نہیں کیا جا سکتا۔ کارکنان نے اپنے حقوق کی جدوجہد کے لیے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پارٹی میں موجود گروپ بندی کو پارٹی کے آئین کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں کو ان کے آئینی و قانونی حقوق دلانے کے لیے ہر جمہوری راستہ اختیار کیا جائے گا اور 26 جولائی سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بہادر آباد میں عارضی دفتر سے متصل پارک میں منعقدہ عظیم الشان جنرل ورکر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر سینئر مرکزی رہنما انیس قائم خانی، سی او سی انچارج فرقان اطیب، اراکین مرکزی کمیٹی، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران، ٹاؤن و یوسی ذمہ داران اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والی جماعت ہے، کارکنان کو اپنی جدوجہد مکمل طور پر آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے جاری رکھنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ہمیشہ دلیل، آئین اور حق پرستی کی سیاست کی ہے اور آج بھی کارکنان کو سچائی پر مبنی بیانیہ عوام تک پہنچانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی دنیا کے بدترین رہائشی شہروں میں شمار ہونے لگا ہے، جہاں نہ صاف پانی دستیاب ہے، نہ سیوریج کا مناسب نظام ہے اور نہ ہی شہری سہولیات موجود ہیں، حالانکہ یہی شہر ملک کی معیشت میں سب سے بڑا حصہ ڈالتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو رواں مالی سال میں 2263 ارب روپے ملے ہیں جبکہ گزشتہ 18 برسوں میں تقریباً 22 ہزار ارب روپے مل چکے ہیں، مگر شہری مسائل جوں کے توں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان وسائل کی کمی کا شکار نہیں بلکہ حکمرانی کے طریقہ کار اور نیتوں کا مسئلہ ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت سازی کے وقت ایم کیو ایم پاکستان نے وزارتوں کے بجائے مؤثر بلدیاتی نظام اور آئینی اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا، تاہم پیپلز پارٹی نے چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم میں ایم کیو ایم کی تجاویز کی مخالفت کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر شہریوں کے حقوق کے لیے وزارت قربان کرنا پڑی تو وہ ایسی وزارت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ کریں بلکہ جماعت کے اتحاد کو برقرار رکھیں۔
اس موقع پر انیس قائم خانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کارکنان نے اپنی طاقت کا عملی مظاہرہ کر دیا ہے، کہا تھا کہ چند لوگ ڈرائنگ روم میں محلاتی سازشیں نہ کریں، یہ کارکنان، اسیروں، لاپتہ، شہداء کی جماعت ہے، جنہوں نے اپنی جوانیاں نظریے پر نثار کر دیں۔ ہم نے پیپلز پارٹی کے خلاف تحریک شروع کرنے کا کہا تو کہا گیا کہ تحریک نہ شروع کرو، یہ کہتے ہیں پیپلز پارٹی بہت طاقتور ہے لیکن بتا دوں میرے اللہ سے طاقتور نہیں، اوپر اللّٰہ ہے اور نیچے یہ ایم کیو ایم کے کارکنان ہیں۔
ظالم کے ہاتھ کو نہ روکا تو ڈر ہے کہ اللہ کا عذاب آئے گا۔ انیس قائم خانی نے کارکنان کی عدالت سے پیپلز پارٹی کے مظالم کے خلاف تحریک شروع کرنے کا سوال کیا تو کارکنان نے فلک شگاف نعروں سے فیصلے کی بھرپور حمایت کی۔ یہ تحریک صرف کراچی والوں کی نہیں، حیدرآباد اور لاڑکانہ والوں کی بھی ہے۔ یہ تحریک نہ کسی لسانی اکائی کی ہے نہ کسی لسانی اکائی کے خلاف ہے یہ تمام پاکستانیوں کی ہے۔
یہ تحریک پیپلز پارٹی کے 18 سالہ مظالم کو بہا لے جائے گی۔ قبل ازیں سی او سی انچارج فرقان اطیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا اجلاس پیپلز پارٹی کی 18 سالہ براہ راست اور بلواسطہ یا بلا واسطہ 50 سالہ زیادتیوں کے خلاف ہے۔ کراچی لاوارث نہیں، ہم آج سے پیپلز پارٹی کے ظلم کے خلاف عملی جدوجہد کی طرف جا رہے ہیں۔
دشمن بہت مضبوط ہے اس سے لڑنے کیلئے ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد رکھنا ہوگا۔ ایم کیو ایم پاکستان کسی فرد واحد کا نام نہیں، اس سلسلے میں تمام زمہ داران و کارکنان عوام سے رابطے تیز کریں اور انہیں جدوجہد کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کریں۔ کارکنان کو جلد تفصیلی لائحہ عمل دیا جائے گا۔
سوشل میڈیا سمیت کسی بھی محاز پر اب ہم اپنے شہر کے دشمنوں کو نہیں چھوڑیں گے۔