سید مصطفیٰ کمال کا سندھ میں بڑھتے ہوئے پولیو کیسز پر تشویش کا اظہار
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما و وفاقی وزیر برائے صحت سید مصطفیٰ کمال کا سینٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کراچی اور ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) سندھ کا دورہ
سید مصطفیٰ کمال کا سندھ میں بڑھتے ہوئے پولیو کیسز پر تشویش کا اظہار
کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما و وفاقی وزیر برائے صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ 5 سالہ ترقیاتی منصوبے کے تحت موجودہ سہولیات میں بتدریج بہتری لاکر سینٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کو مزید بہتر بنایا جائے عالمی معیار کے مطابق بنانے کا عمل بھی تیز کیا جائے۔ پاکستان کی عوام کو جدید ترین بہترین علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کراچی کے دورے پر متعلقہ افسران سے بات کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر سیف الرحمن خٹک نے وزیر صحت کو فیلڈ آفس ڈریپ کے فنکشنز، کارکردگی اور سینٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کراچی کے بارے میں بریفننگ دی نیز آگاہ کیا کہ آئندہ تین ماہ میں لیبارٹری ڈبلیو ایچ او سے پری کوالیفائی ہو جائے گی۔ یہ وفاقی حکومت کی پہلی لیبارٹری ہو گی جو عالمی ادارہ صحت سے پری کوالیفائی ہوگی۔
اس موقع پر سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ادویات کی ایکسپورٹ کو مزید بڑھانے کیلیے اقدامات کئے جائیں۔ فارما انڈسٹریز کو مقامی مینوفیکچرنگ کیلئے ترجیح بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جائیں جو عالمی معیار کے مطابق ادویات تیار کریں اور ایکسپورٹ بڑھائیں۔ بعد ازاں سید مصطفی کمال نے ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) سندھ کا دورہ کیا جہاں صوبائی کوآرڈینیٹر ارشاد سوڈھر کی جانب سے سندھ میں پولیو کے خاتمے کی کاوشوں پر بریفنگ دی گئی، پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے آپریشنل اور مواصلاتی سرگرمیوں کی تفصیلات فراہم کیں۔ ان سرگرمیوں میں ویکسین سے انکار کرنے والے خاندانوں کو آمادہ کرنا، ہدفی ویکسینیشن مہمات، حکومت، مذہبی اور کمیونٹی رہنماؤں کے ساتھ تعاون، اور ہائی رسک علاقوں تک ویکسینیشن کی رسائی کو یقینی بنانا، بشمول کراچی میں جزوی مہمات کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔
وفاقی وزیر صحت نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ اس سال رپورٹ ہونے والے 6 پولیو کیسز میں سے 4 سندھ میں سامنے آئے ہیں، جبکہ صوبے میں مجموعی طور پر تقریباً 43,000 والدین ویکسینیشن سے انکاری ہیں، جن میں سے تقریباً 42,000 صرف کراچی سے ہیں۔ مزید برآں، وفاقی وزیر صحت نے ماحولیاتی نگرانی کے نتائج پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جن کے مطابق کراچی کے تمام اضلاع میں سیوریج کے نمونوں میں مسلسل پولیو وائرس پایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وائرس کی منتقلی کے سلسلے کو توڑنے کے لیے ویکسینیشن مہم کو مزید مؤثر بنانے اور کمیونٹی انگیجمنٹ کو بڑھانے پر زور دیا۔