اگر ہماری تیاری نہ ہوتی تو 150 ملی میٹر بارش کا پانی کچھ گھنٹوں میں سڑکوں سے کیسے نکل سکتا تھا۔ سعید غنی
گذشتہ روز کی بارشوں کے بعد کراچی میں پانی کی نکاسی کا کام بارشوں کے تھم جانے کے فوری بعد شروع کردیا گیا تھا۔ سعید غنی
اگر ہماری تیاری نہ ہوتی تو 150 ملی میٹر بارش کا پانی کچھ گھنٹوں میں سڑکوں سے کیسے نکل سکتا تھا۔ سعید غنی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ گذشتہ روز کی بارشوں کے بعد کراچی میں پانی کی نکاسی کا کام بارشوں کے تھم جانے کے فوری بعد شروع کردیا گیا تھا۔ اچانک تیز بارش اور عوام کی جانب سے فوری ایک ساتھ گھروں کی روانگی کے باعث سڑکوں پر شدید ٹریفک جام ہوگیا اور متعدد گاڑیاں اس میں خراب ہونے سے صورتحال مزید ابتر ہوگئی تھی۔ آج صبح تک شہر بھر کی تمام اہم شاہراہوں کو کلئیر کردیا گیا ہے۔ البتہ نیپا چورنگی، یونیورسٹی روڈ، سپریم کورٹ کراچی رجسٹری سمیت کچھ مقامات پر تھوڑا پانی موجود ہے اور وہاں مشینری کام کررہی ہے۔
یہ کہنا کہ حکومت سندھ یا بلدیاتی حکومت کی جانب سے کوئی تیاری نہیں کی گئی یہ صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اگر ہماری تیاری نہ ہوتی تو 150 ملی میٹر بارش کا پانی کچھ گھنٹوں میں سڑکوں سے کیسے نکل سکتا تھا۔ جن جن مقامات پر بارش کے پانی کی نکاسی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے ان چوکنگ پوائنٹس کی نشاندہی بھی ہوگئی ہے اور وہاں پر مشینری اور عملہ مون سون سیزن کی بارشوں کے دوران تعینات رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کی صبح سے دوپہر گئے تک شہر کے مختلف علاقوں کے دورے کے دوران کیا۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور بارشوں کے بعد نکاسی آب کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سائوتھ جاوید نبی کھوسو، ڈپٹی کمشنر ایسٹ ابرار جعفر، میونسپل کمشنر صدر ٹائون نور حسین جوکھیو، ایم سی چنیسر ٹاؤن ڈاکٹر اقرار جلبانی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود ہیں۔ صوبائی وزیر نے ڈسٹرکٹ سائوتھ کے مختلف علاقوں کلفٹن، پی آئی ڈی سی، سپریم کورٹ، پاکستان چوک، ایم اے جناح روڈ، وزیر مینشن کھارادر، نواب مہابت خانجی روڈ، ڈسٹرکٹ ایسٹ کے علاقوں اسٹار گیٹ، ایئرپورٹ، ملیر، قائد آباد سے ہوتے ہوئے نیپا چورنگی اور یونیورسٹی روڈ کا دورہ کیا اور ان علاقوں میں بارشوں کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ جن جن سڑکوں پر ابھی بھی کچھ پانی موجود ہیں وہاں فوری مشینری لگا کر آئندہ ایک سے دو گھنٹے میں پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے۔
اس موقع پر انہوں نے سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ایم ڈی و دیگر سے بھی رابطہ کیا اور انہیں ہدایات دی کہ جن جن علاقوں سے پانی کی نکاسی کے بعد وہ کچرا موجود ہے وہاں فوری عملہ تعین کرکے صفائی کو یقینی بنایا جائے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہماری پوری انتظامیہ، تمام بلدیاتی عملہ اور منتخب نمائندے بارشوں کے بعد سے تاحال سڑکوں پر موجود ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ بارشوں کے بعد انتظامیہ نے کام نہیں کیا ہے۔
سعید غنی نے مزید کہا کہ شہر میں کچھ ایسے پوائنٹ ضرور ہیں جہاں پانی کی نکاسی میں کچھ مشکلات کا سامنا ہے اور ایسے تمام پوائنٹس کی نشاندہی کے بعد اب وہاں بھی پمپس لگا دئیے گئے ہیں۔ سعید غنی نے دورے کے دوران کھارادر میں کپڑا مارکیٹ اور وزیر مینشن کے اطراف جاری کاموں کے جائزہ کے دوران ڈی سی سائوتھ اور اسسٹنٹ کمشنر کھارادر کو ہدایات دی کہ فوری طور ان مقامات سے پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے۔
اس موقع پر صدر ٹائون کے میونسپل کمشنر نورحسن جوکھیو کو صوبائی وزیر نے ان علاقوں میں فوری صفائی کی ہدایات دی۔ بعد ازاں صوبائی وزیر سعید غنی نے ڈسٹرکٹ ایسٹ اور ملیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے ڈسٹرک ایسٹ کے کچھ علاقوں میں ابھی بھی کچھ مقامات پر پانی کی موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر ان مقامات پر ہیوی اور چھوٹے پمپس لگانے کی ہدایات دی۔ نیپا چورنگی اور اردو سائنس کالج کے اطراف نکاسی آب میں درپیش مسائل پر وہاں جاری ریڈ لائن انتظامیہ سے رابطہ کرکے انہیں لوکل ایڈمنسٹریشن سے کوآرڈینیشن کی ہدایات دی۔
انہوں نے متعلقہ عملہ کو ہدایات دی کہ جن جن مقامات پر اتنا پانی ہے جس سے ٹریفک کی روانی میں مشکلات کا سامنا ہے وہاں زیادہ سے زیادہ مشینری لگا کر آئندہ ایک سے دو گھنٹے میں ان مقامات سے پانی کی نکاسی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ سعید غنی نے ڈی آئی جی ٹریفک سے بھی رابطہ کرکے انہیں وہ تمام خراب گاڑیاں جو سڑکوں کے دونوں اطراف کھڑی ہیں انہیں بھی ایک سائیڈ کرنے کی بھی ہدایات دی۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت مجموعی طور پر شہر کی تمام شاہراہوں سے پانی کی نکاسی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔
البتہ کچھ مقامات پر ابھی بھی پانی کی نکاسی میں رکاوٹ ضرور ہے البتہ اس کے لئے تمام متعلقہ اداروں اور ملازمین کو سخت ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام سے بھی ہونے والی مشکلات سے ان سے معذرت خواہ ہیں البتہ موجودہ سندھ اور مقامی حکومت دستیاب تمام وسائل کو بروئے کار لارہی ہے۔ گذشتہ روز دو گھنٹوں میں شدید بارشوں کے بعد عوام کی بڑی تعداد واپسی کی جانب جیسے ہی گامزن ہوئی تو سینکڑوں گاڑیاں پانی میں بند ہوگئی جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی تھی۔