ہلک ہوگن، اب ہمارے درمیان موجود نہیں ۔۔۔
ہوگن کو پیشہ ورانہ ریسلنگ کی دنیا میں ایک آئیکونک شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے
ہلک ہوگن، اب ہمارے درمیان موجود نہیں ۔۔۔
ہلک ہوگن ، جن کا اصل نام ٹیری جین بولیا تھا، ایک مشہور امریکی پیشہ ور ریسلر، اداکار، اور ٹیلی ویژن شخصیت تھے۔ وہ 11 اگست 1953 کو پیدا ہوئے اور 24 جولائی 2025 کو فلوریڈا میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ ہوگن کو پیشہ ورانہ ریسلنگ کی دنیا میں ایک آئیکونک شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے، جنہوں نے 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں ریسلنگ کی مقبولیت کو عروج پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ریسلنگ کیریئرورلڈ ریسلنگ فیڈریشن (ڈبلیو ڈبلیو ایف/ڈبلیو ڈبلیو ای): ہوگن نے 1983 میں ڈبلیو ڈبلیو ایف جو اب ڈبلیو ڈبلیو ای میں شمولیت اختیار کی اور اپنے “آل امریکن ہیرو” کردار سے عالمی شہرت حاصل کی۔ وہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے پہلے نو ریسل مینیا ایونٹس میں سے آٹھ کے مرکزی مقابلوں میں شامل رہے۔ وہ چھ بار ڈبلیو ڈبلیو ایف/ڈبلیو ڈبلیو ای ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن رہے۔
ورلڈ چیمپیئن شپ ریسلنگ (ڈبلیو سی ڈبلیو): 1990 کی دہائی کے وسط میں، انہوں نے ڈبلیو سی ڈبلیو میں “ہالی ووڈ” ہوگن کے طور پر ولن کردار ادا کیا اور این ڈبلیو او (نیو ورلڈ آرڈر) گروپ کے لیڈر کے طور پر مشہور ہوئے۔ وہ چھ بار ڈبلیو سی ڈبلیو ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن بھی رہے۔
ہال آف فیم: ہوگن کو 2005 میں ڈبلیو ڈبلیو ای ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔ وہ 1990 اور 1991 میں رائل رمبل جیتنے والے پہلے ریسلر تھے جنہوں نے لگاتار دو بار یہ اعزاز حاصل کیا۔
اداکاری اور دیگر سرگرمیاںہوگن نے ریسلنگ کے علاوہ ہالی ووڈ میں بھی کیریئر بنایا۔ ان کی چند نمایاں فلموں میں شامل ہیں:راکی تھری (1982): انہوں نے تھنڈرلپس کے کردار میں ایک چیریٹی ریسلنگ میچ میں سلویسٹر اسٹالون کے مقابل اداکاری کی۔
نو ہولڈز بارڈ (1989): یہ ان کی پہلی مرکزی کردار والی فلم تھی۔
سبربن کمانڈو (1991) اور مسٹر نینی (1993): یہ دونوں فامیلی کامیڈی فلمیں تھیں جنہوں نے ان کی شہرت کو ریسلنگ سے باہر بڑھایا۔
سانتا ود مسلز (1996): ایک اور فامیلی فلم جس میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔
انہوں نے 2005 سے 2007 تک ریئلٹی شو ہوگن نوز بیسٹ میں بھی کام کیا، جو ان کے خاندانی زندگی پر مبنی تھا اور وی ایچ1 پر نشر ہوا۔
سیاسی اور سماجی کردارہوگن نے 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی اور ریپبلکن نیشنل کنونشن میں ایک یادگار تقریر کی، جس میں انہوں نے اپنی مشہور شرٹ پھاڑنے والی پرفارمنس بھی دکھائی۔ وہ ٹرمپ کے قریبی دوست تھے، اور ان کی موت پر ٹرمپ نے گہرے دکھ کا اظہار کیا، انہیں “ہلکوسٹر” اور ایک عظیم شخصیت قرار دیا۔
تنازعاتہوگن اپنے کیریئر میں کئی تنازعات کا شکار بھی رہے، جن میں نسلی تبصروں سے متعلق ایک اسکینڈل بھی شامل ہے، جس کی وجہ سے ڈبلیو ڈبلیو ای نے انہیں عارضی طور پر ہال آف فیم سے ہٹایا تھا، لیکن بعد میں بحال کیا گیا۔
انتقالہوگن کا انتقال 71 سال کی عمر میں فلوریڈا میں دل کے دورے سے ہوا۔ ان کے مینیجر کرس وولو نے بتایا کہ وہ اپنے گھر میں تھے اور اہل خانہ ان کے ساتھ موجود تھے۔ ان کی موت پر ڈبلیو ڈبلیو ای، ریسلنگ کمیونٹی، اور سیاسی شخصیات نے گہرے رنج کا اظہار کیا۔
ہلک ہوگن نہ صرف ریسلنگ کے لیجنڈ تھے بلکہ امریکی پاپ کلچر کا ایک اہم حصہ تھے، جن کی شخصیت، کرشمہ، اور شومین شپ نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔