میری اقدار اور ترقی کی بنیاد رکھنے والا یہ ادارہ آج چمک دمک رہا ہے۔ مراد علی شاہ
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سینٹ پیٹرک ثقافتی ڈے کی تقریب میں شرکت
میری اقدار اور ترقی کی بنیاد رکھنے والا یہ ادارہ آج چمک دمک رہا ہے۔ مراد علی شاہ
کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سینٹ پیٹرک ثقافتی ڈے کی تقریب میں شرکت۔ وزیراعلیٰ سندھ کی آمد پر پرنسل سینٹ پیٹرک ہائی اسکول ماریو اے روڈریگس نے استقبال کیا۔ تقریب میں وزیر تعلیم سید سردار شاہ، ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی نوید انتھونی بھی شریک۔ سینٹ پیٹرک ہائی اسکول میں کلچر ڈے کے پروگرام میں ملک کے چاروں صوبوں کی ثقافت کے رنگ بکھیرے گئے۔ بچوں نے ثقافتی ٹیبلوز پیش کیئے اور خوب داد حاصل کی۔
وزیراعلیٰ سندھ کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں آنا صرف ایک اعزاز ہی نہیں بلکہ دلی خوشی بھی ہورہی ہے۔ میری اقدار اور ترقی کی بنیاد رکھنے والا یہ ادارہ آج چمک دمک رہا ہے۔ سینٹ پیٹرک ہمیشہ میرے دل میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اس ادارے کے پاس جب بھی گزر ہوتا ہے مجھے ہمیشہ پرانی یادوں سے جوڑ دیتا ہے۔ ثقافتی دن محض ایک جشن نہیں یہ افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کا عکاس ہے۔ آج رنگارنگی ورثے کو منانے اور روایات سے سیکھنے کا دن ہے۔ ثقافتی لمحات اور مشاہدات ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ متحد رکھے ہوئے ہیں۔ اجتماعی شناخت کی ثقافت ہمیں منفرد دھاگے میں پروئے رکھتی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ثقافتی پہلوؤں سے ہی ہم اپنے وطن کی حقیقی تفہیم کو اجاگر کرسکتے ہیں۔ ہمارا ورثہ صرف سندھ، پنجاب، بلوچستان یا خیبرپختونخوا نہیں بلکہ پاکستان ہمارا ورثہ ہے۔ منفرد شناختوں کی پہنچان رکھنے والا ہمارا ملک ہم آھنگی کی بڑی مثال ہے۔ اس ورثے کو منانے کیلئے موجود طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں، جذبے اور لگن کی تعریف کرتا ہوں۔ طلباء کا جوش و جذبہ ہمارے ثقافتی رنگوں کی طاقت اور خوبصورتی کی یاد دلاتا ہے۔ آپکی شناخت اور دوسروں کیلئے احترام ہماری قوم کے مستقبل کو روشن کرے گا۔ ثقافتی اقدار کو پروان چڑھانے میں فیکلٹی اور اسٹاف کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ تعلیم کیلئے آپکی لگن اور نوجوان کیلئے آپ کا عزم وہ ستون ہیں جن پر پاکستان کا مستقبل کھڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئیے! ایک ایسے پاکستان کی تعمیر جاری رکھیں جو افہام و تفہیم، مہربانی اور اتحاد سے پروان چڑھے۔ میں سینٹ پیٹرک اسکول کا طالبعلم رہا ہوں؛ ایک زبردست نظم و ضبط والا ادارا ہے۔ پنشمینٹ سے بچنے کے لیئے میں یقینی بناتا تھا کہ بال صحیح بنے ہوئے ہوں اور شرٹ کے بٹن ٹھیک طریقے سے بند ہوں۔ سینٹ پیٹرک کی طالبہ علمی کے زمانے میں ہماری شامیں کرسچن دوستوں کے ساتھ صدر میں گزرتی تہیں۔