Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

ملکی ترقی کے لیے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مصطفیٰ کمال

سندھ کے ظالم اور متعصب حکمران ہمارا وجود تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مصطفیٰ کمال

0

نئے انتظامی یونٹس کا قیام ملک کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ مصطفیٰ کمال

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کو بچانے اور چلانے کا واحد حل نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں کا قیام ہے۔ آج پاکستان کے فیصلہ ساز بھی اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ موجودہ نظام کے تحت ملک مزید نہیں چل سکتا۔ ایم کیو ایم کوئی غیر آئینی بات نہیں کر رہی بلکہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 239 کے تحت نئے صوبوں کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی یوسی 3 میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے منعقدہ ایک گرینڈ عوامی رابطہ مہم کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ گزشتہ 18 سالوں میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو 22 ہزار ارب روپے ملے، اس رقم سے 50 مرتبہ نیا سندھ بن سکتا تھا، لیکن یہ پیسہ کراچی اور سندھ پر خرچ ہونے کے بجائے دبئی، لندن اور امریکہ میں انویسٹ کیا گیا۔ آج کورنگی سمیت پورے کراچی میں پینے کا پانی، گیس، بجلی، سرکاری اسکول اور اسپتال ناپید ہیں۔ شہری کوٹے پر جعلی ڈومیسائل بنا کر کراچی کے نوجوانوں کا حق مارا جا رہا ہے اور 18 سالوں میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو ایک چپراسی کی نوکری تک نہیں دی گئی۔

انہوں نے سندھ کے اربابِ اختیار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اپنے ہی لوگوں کو گننے سے ڈرتی ہے۔ پہلے آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ بتائی گئی اور پھر اسے کم کر کے ایک کروڑ تیس لاکھ کر دیا گیا۔ ایم کیو ایم کی وفاق میں مسلسل کوششوں اور دباؤ کے بعد بمشکل دو کروڑ تین لاکھ تک گنتی پوری کی گئی، حالانکہ کراچی کی اصل آبادی ساڑھے تین کروڑ سے زائد ہے۔ ہمارا وجود تسلیم کرنے کے بجائے ہمیں دیوار سے لگایا گیا۔

مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کی بات کرنا کوئی کفر نہیں ہے۔ آئین کا یہ حصہ خود بانی پی پی پی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے شامل کیا تھا۔ پاکستان بنتے وقت ساڑھے تین کروڑ آبادی پر 4 صوبے تھے اور آج 26 کروڑ آبادی پر بھی صرف 4 صوبے ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقی کے لیے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

چھ ہفتے بعد تاریخی عوامی طاقت سے انتظامی یونٹس بنوائیں گے۔ کورنگی کے عوام اور بالخصوص ماؤں، بہنوں اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ مظلوم کے خاموش رہنے سے ظالم طاقتور ہوتا ہے۔ ایم کیو ایم آج ووٹ مانگنے نہیں بلکہ نسلوں کی بقا کی جنگ لڑنے نکلی ہے۔ سید مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا کہ آج سے ٹھیک 6 ہفتے بعد ایم کیو ایم کراچی کے عوام کو ایک بڑی کال دے گی۔ اس دن شارع فیصل پر کراچی میں بسنے والا ہر پنجابی، پختون، بلوچ، سندھی اور مہاجر اپنے بچوں کو لے کر پرامن طریقے سے نکلے گا اور پاکستان کے فیصلہ سازوں کو دکھائے گا کہ کراچی کی عوام نیا انتظامی یونٹ چاہتی ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں عوام سے اپیل کی کہ وہ ذاتی رنجشیں بھلا کر اپنی آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل اور حقوق کے حصول کے لیے اس جدوجہد میں ایم کیو ایم کا ساتھ دیں۔
انتظامی یونٹس عوامی رابطہ مہم کے اجتماع میں سینیئر مرکزی رہنماء انیس قائم خانی، انچارج سی او سی فرقان اطیب، انتظامی یونٹس ڈسٹرکٹ انچارج فاروق سلیم، اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، تاجر برادری، مقامی عمائدین اور عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Comments
Loading...