وزیر اعظم صاحب! یہ وقت سنجیدہ فیصلوں اور عوام کو فوری ریلیف دینے کا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن
کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام بجلی کے بلوں میں ظالمانہ اضافے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
وزیر اعظم صاحب! یہ وقت سنجیدہ فیصلوں اور عوام کو فوری ریلیف دینے کا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن
کراچی : امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا فائیواسٹار چورنگی نارتھ ناظم آباد میں بجلی کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافے، بھاری بلوں میں مختلف سرچارج او رٹیکسوں کی بھرمار،اووربلنگ، اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ او ردیگر مسائل کے حوالے سے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام بجلی کے بلوں میں ظالمانہ اضافے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ حکومت ظالمانہ اضافے کے خلاف اپنا کوئی کردار ادا نہیں کررہی۔ نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی دانشوارانہ باتوں سے بجلی کے بل جمع نہیں ہوسکتے۔ متوسط طبقہ سے وابستہ لوگوں کے لیے بجلی کے بھاری بل جمع کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکمران طبقے میں 90فیصد ایسے لوگ ہیں جنہوں نے کبھی بھی پیٹرول اور بجلی کے بل اپنی جیب سے جمع نہیں کروائے۔ حکمران طبقے میں بیوروکریٹ موجود ہیں جنہوں نے کبھی بھی عوام کا خیال نہیں کیا۔ عوام سڑکوں پر آچکے ہیں،حکمران طبقے کو اب نوشتہ دیوار کرنا ہوگا۔ حکمران طبقے کوغلط فہمی ہے کہ اگر عوام بیدار ہوگئے تو ہم بیرون ملک چلے جائیں گے۔ ماضی میں بڑے بڑے سیاستدان اور جرنیل ملک سے فرار ہوکر بیرون ملک میں پہنچ گئے ہیں۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں ایسا نہ ہوں کہ عوام گھروں سے نکل کر محلوں کا رخ کریں اور بیرون ملک جانے کا موقع بھی نہ مل سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کے لیکچر اب بے اثر ہوچکے ہیں، بجلی کے بل کم کرو، اپنی عیاشیاں ختم کرو۔ 500ارب روپے کی مفت بجلی صرف حکمران طبقہ استعمال کررہا ہے۔ یہی حکمران طبقہ آئی ایم ایف کی ایماء پر بجلی بم گرارہا ہے لیکن عیاشیاں ختم نہیں کی جارہی۔ ملک میں معاشی ادارے نہیں طاغوتی ادارے کام کررہے ہیں جو 76سال سے ملک پر مسلط ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جاگیرداروں اور وڈیروں کو ٹیکس فری قراردے دیا۔ جاگیردار طبقہ 40فیصد اراضی پر قبضہ ہے انہیں ٹیکس فری قراردے دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے ساتھ خواص سے بھی ٹیکس لیا جائے کسی بھی کو ٹیکس فری نہ کیا جائے۔ وڈیرے اور جاگیردار اپنی اولادوں کو بیرون ملک میں پڑھاتے ہیں لیکن قوم کو جاہل رکھتے ہیں۔ ٹیکس کا ظالمانہ نظام کسی صورت قبول نہیں، جرنیلوں،جاگیرداروں اور وڈیروں پر بھی ٹیکس لگایا جائے۔ بجلی کے ظالمانہ اضافے کے خلاف کوئی بھی سیاسی پارٹی میدان میں موجود نہیں ہے۔ جماعت اسلامی واحد پارٹی ہے جو پورے ملک میں بجلی کے ظالمانہ اضافے کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہڑتال بھی ہوگی، گورنر ہاؤس کا گھیراؤ بھی کریں گے۔ وائٹ کالر کرمنلز نے ویڈیو جاری کی اور کہاکہ کے الیکٹرک کے عملے پر جس نے حملہ کیا اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ ہم کے الیکٹرک کے عملے سے الجھنا نہیں چاہتے، بجلی کے بلوں میں ظالمانہ اضافہ واپس لیا جائے۔ نگراں وزیر اعظم بجلی کے بلوں میں کمی کریں اور ظالمانہ ٹیکس واپس لیں ورنہ حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ مشاورتی اجلاس جاری ہے، ہم عنقریب فیصلہ کریں گے کہ پورے پاکستان میں بجلی کے بل جمع کروا ئے جائیں یا نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل ہم فیصلہ کریں، حکومت بجلی کے بل کم کرے اور ظالمانہ ٹیکس واپس لے۔ حکومت پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافے کی کوشش کررہی ہے۔ نگراں وزیراعظم سن لیں کہ پیٹرول کی قیمت بڑھانے کا سوچنا بھی نہیں۔ اگر نگراں وزیر اعظم کہتے ہیں کہ پیٹرول اور بجلی کم کرنے کا اختیار نہیں ہے تو وہ گھر چلے جائیں۔ عوام پریشان حال ہیں، اگر عوام کے صبر کا دامن چھوٹ گیا تو حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ چاہے مسٹر ہو یا مولانا جنہوں نے ملک کو لوٹا ہے ان سے ٹیکس لے کر قرضہ ادا کیا جائے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا نگران وزیراعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم صاحب! یہ وقت سنجیدہ فیصلوں اور عوام کو فوری ریلیف دینے کا ہے۔ رپورٹیں طلب کرنے جیسے روایتی اور نمائشی اقدامات کا وقت نہیں۔ معاملات ہاتھوں سے نکل جائیں گے تو کسی کے بس میں کچھ نہیں رہے گا۔ آپ فوری طور بجلی کے بلوں کو کم کریں۔ غیرمعمولی ٹیکس اور طرح طرح کی مدات کے نام پر بھتے کو بلوں سے منہاکرنے کا آرڈر جاری کریں۔ کمپنیوں کو ریورس بل نئی آخری تاریخ کے ساتھ بھیجنے کا پابند کریں۔