لوگ اپنے پیاروں کو دفناتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی سے کہنا امت نے چھوڑدیا۔ آبش صدیقی
مارچ میں جامعہ کراچی کے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد میں شرکت
لوگ اپنے پیاروں کو دفناتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی سے کہنا امت نے چھوڑدیا۔ آبش صدیقی
کراچی : اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے جامعہ کراچی میں غزہ یک جہتی مارچ کا انعقاد۔ مارچ میں جامعہ کراچی کے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مارچ پوائنٹ ٹرمینل سے فارمیسی تک نکالا گیا۔
غزہ یکجہتی مارچ سے ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کراچی آبش صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ غزہ کے مظلوم مسلمانوں کو طلبہ تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ اسلامی جمعیت طلبہ مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ ہم کولمبیا یونیورسٹی کے طلبہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں ۔
غزہ مارچ میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان کی شرکت۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی: طلبہ فلسطینوں سے اظہار یکجہتی کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ پچھلے سات مہینے سے پوری دنیا میں کوئی موضوع ہے تو فلسطین کا ہے۔ غزہ کے لوگوں نے اپنے استقامت کے ذریعے پوری دنیا کو بیدار کردیا ہے۔ یہ آج کا معاملہ نہیں ہے۔ پوری دنیا سے یہودیوں کو لے جا کر اسرائیل میں بسایا گیا۔ اور 1948 میں اسرائیل وجود میں آیا۔ اگر کوئی مذمت کرے تو اسرائیل پر ظلم کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین 75 سالوں سے اپنے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ کسی کے گھر ہر قبضہ کرلو اور اسے ایک کمرہ دے دو۔ آج فلسطین کی اس جدوجہد میں پوری دنیا شامل ہوگئی ہے۔ پوری دنیاکے یونیورسٹیوں میں آواز بلند ہورہی ہے۔ ان کے طلبہ ان کی زبان بولنے والے آذادی اظہار رائے کے نام پر بولتے ہیں۔ کہ غزہ میں خون ہمیں منظور نہیں۔ لیکن جو لوگ آزادی اظہار رائے کی بات کرتے تھے انھوں نے شوکاس نوٹس دئکہ اگر طلبہ نے آواز بلند کی تو انھیں نکل دیا جائے گا۔ طلبہ نے یونیورسٹی کمیپس میں کیپمس لگادئے۔ انسو گیس ان پر پھینکی جارہی ہے لیکن یہ طلبہ احتجاج پورے امریکہ میں پھیل گئی ہے۔ ایک ہی مطالبہ ہے کہ اسرائیلی ظلم و بربریت ختم کرے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کو ازادی دی جائے۔ کراچی یونیورسٹی جے باشعور طلبہ ہمارا فرض ہے کہ ہم مسلمان ہیں کلمہ گو ہیں۔ ہمارے نبی نے معراج کے موقع پر مسجد اقصی میں امامت فرمائی۔ اس جذبے کو بیدار کرنا چاہئے۔ صرف جامعہ کراچی نہیں بلکہ ایک فیکلٹی نہیں ساری فیکلٹی کے طلبہ روز تھوڑی دیر کے لئے جمع ہوں۔ ہم نے سارے منظر دیکھے ہیں۔ چھوٹے فلسطینی بچے کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارا رب کافی ہے۔ یہ انکا جذبہ ہے لوگ اپنے پیاروں کو دفناتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی سے کہنا امت نے چھوڑدیا۔ ہیروشیما اور ناگا ساکی ہر بم گرایا عراق پر بمباری امریکہ نے کیا۔ یہ ہیں وہ لوگ جو خود کو انسانی حقوق کے علمبردار کہتے تھے۔ کہ لاکھوں لوگوں کو ماردو کیونکہ دوسری طرف مسلمان ہیں۔ ہماری جدوجہد غزہ کی ازادی تک جاری رہے گی۔