ورلڈ فوڈ پروگرام کی اسٹریٹجک شراکت داریوں سے پائیدار ترقی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ مراد علی شاہ
وفاقی حکومت کا بینظیر نشوونما پروگرام سندھ کے 29 اضلاع میں فعال ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ
سندھ میں ورلڈ فوڈ پروگرام غذائی ضروریات کے فوری حل کے لیے سرگرم ہے۔ کوکو یُشیاما
کراچی : زیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائرکیٹر مس کوکو یُشیاما کی ملاقات۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی صوبائی سربراہ ہلڈے برگسامہ اور ڈبلیو ایف پی پالیسی آفیسر سلمہ یعقوب بھی ملاقات میں شریک۔ پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی اور سیکریٹری صحت ریحان بلوچ بھی شریک۔ سندھ حکومت اور ورلڈ فوڈ پروگرام کا ملکر نیا نشوونما پروگرام شروع کرنے پر اتفاق۔
ملاقات میں واش (پانی، صفائی اور حفظان صحت) پروگرام اسکول کی سطح پر شروع کرنے پر بات چیت۔ دیہی علاقوں کے اسکولوں واش پروگرام شروع کیا جائے گا، ملاقات میں اتفاق۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کیلئے ملکر کام کرنے پر بھی اتفاق۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کا بینظیر نشوونما پروگرام سندھ کے 29 اضلاع میں فعال ہے۔ نیا نشوونما پروگرام 30 اضلاع شروع کرنے کا مقصد حاملہ خواتین اور بچوں میں غذائی قلت کا خاتمہ ہے۔ نئے نشونما پروگرام کے تحت دو سال سے کم عمر بچوں کو چھوٹے قد سے بچانا ہدف ہے۔ نئے نشونما پروگرام کے تحت حاملہ خواتین کو خصوصی خوراک، طبی سہولیات اور مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ پراگرام کے تحت مستحق خواتین کو ہر سہ ماہی میں 3000 روپے نقد امداد دی جائے گی۔ لڑکیوں کیلئے امدادی رقم زیادہ رکھی جائے گی، غذائی عدم توازن پر قابو پانے کی کوشش جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت یہ پروگرام اسکولوں میں شروع کرنے کیلئے اپنے فنڈز بھی شامل کرے گی۔ پروگرام کے تحت ویکسینیشن، طبی معائنہ اور آگاہی سیشنز لازمی قرار دیے گئے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں اضافی سہولیات اور مالی امداد دی جا رہی ہے۔ نیا نشوونما پروگرام شروع کرنے سے جاری مالی، صحت اور دیگر امداد مزید بہتر کی جائے گی۔
نئے نشوونما پروگرام کو حتمی شکل دے کر ورلڈ فوڈ پروگرام سے اجلاس کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ کی چیئرمین پی اینڈ ڈی، اسکول ایجوکیشن اور سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کو ہدایت۔
کنٹری ڈائرکیٹر کوکو یُشیاما نے کہا کہ سندھ حکومت اور ڈبلیو ایف پی کے درمیان 12 جنوری 2024 کو ایم او یو پر دستخط ہوئے۔ معاہدے کا مقصد سندھ میں غذائی تحفظ اور ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ معاہدے کے تحت 2027 تک کمزور طبقات کی غذائیت، صحت اور تعلیم تک رسائی بہتر بنانا ہدف ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ کی متاثرہ آبادی کے لیے پائیدار روزگار اور مضبوط نظامِ خوراک کا قیام ہدف ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور دیگر خطرات کے دوران متاثرہ افراد کو خوراک و غذائیت کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ معاہدے پر عملدرآمد فریقین کے اپنے قوانین اور ضوابط کے مطابق ہوگا۔
کنٹری ڈائرکیٹر ڈبلیو ایف پی نے کہا کہ آئندہ مزید منصوبے باہمی رضامندی اور دستیاب وسائل کے تحت شروع کیے جائیں گے۔ سندھ میں ورلڈ فوڈ پروگرام غذائی ضروریات کے فوری حل کے لیے سرگرم ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ فوڈ سسٹمز اور موسمیاتی جھٹکوں کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی اسٹریٹجک شراکت داریوں سے پائیدار ترقی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔