تعلیم اور شعور ہی فلاح کا واحد راستہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کراچی کو تعلیمی اور تکنیکی میدان میں ملک کا قائد بنانا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم
تعلیم کی روشنی کو پاکستان کے طول و عرض میں عام کرنا ہمارا نصب العین ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سرپرستی میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز (بی ای سی ایس) کے زیرِ اہتمام 100 نو قائم شدہ اسکولوں کے اساتذہ کی تربیت کی تقریبِ اختتام لیاقت میموریل لائبریری آڈیٹوریم، اسٹیڈیم روڈ کراچی میں بھرپور کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس پُروقار تقریب میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد ملک کا قومی ترانہ پیش کیا گیا۔
اس موقع پر تربیت مکمل کرنے والے اساتذہ نے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بی ای سی ایس کی ٹیم نے انہیں سیکھنے اور سکھانے کا ایک انمول عمل فراہم کیا ہے اور آج کا استاد تکنیکی اور تعلیمی سرگرمیوں کا بہترین امتزاج ہے۔ اساتذہ نے اس بات پر عزم کا اظہار کیا کہ وہ نئی نسل کو زمانے کے تقاضوں کے مطابق علم و دانش سے آراستہ کریں گے اور شہرِ کراچی سمیت پورے پاکستان میں تعلیم کی روشنی کو عام کرنے کے مشن میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے ٹیم کی کوششوں کو سراہا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس مشن کو کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے۔وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہم ایک ایسے شہر میں موجود ہیں جو آج کے پاکستان کا سارا بوجھ اٹھا رہا ہے اور اس کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پورے پاکستان میں اسلام آباد سے لے کر کراچی تک تعلیم کے میدان میں بڑی شاندار تعمیر ہو رہی ہے۔
انہوں نے اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کے مستقبل کے معمار ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کی محنت سے ہمارے ملک میں معیاری تعلیم کا فروغ ہوگا۔ انہوں نے ملک میں تعلیم کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری ایک اعداد و شمار کے مطابق 2.5 کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں اور ہر پانچ میں سے ایک بچہ غربت کی وجہ سے 10 سال کے بعد تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جمہوری نظام کی بعض مشکلات کی وجہ سے ہم تعلیم کے حوالے سے قرآن و سنت کی واضح تعلیمات کو کماحقہُ اپنا نہیں پا رہے، جبکہ دین کا پہلا حکم ہی تعلیم کے حوالے سے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی ای سی ایس کا یہ نظام سب سے پہلے برازیل میں شروع ہوا اور اب دنیا کے تمام ممالک اس کی اہمیت کو تسلیم کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم نے کراچی سے یہ مشن شروع کیا ہے جہاں کچی آبادیوں سے 60 فیصد عزت نفس رکھنے والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچے زیر تعلیم ہیں اور جہاں مزدور کسان اپنے بچے کو پڑھانے کی مجبوری میں ہیں، ان کے پاس اپنے تمام مشکلات کے باوجود ایک برتن دھونے کی نوکری ہے تاکہ وہ اپنی آئینی صورتحال کے مطابق اپنے بچے کو پڑھا سکے۔ انہوں نے بی ای سی ایس کی خواتین اساتذہ کی خدمات کو سراہا، جو کم وسائل کے باوجود ایک مزدور کے برابر تنخواہ لے رہی ہیں اور اپنے گھر کا چولہا بھی سنبھال رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے کچھ لے نہیں رہے، بلکہ حکومت کو بھی دے رہے ہیں، اور یہ ماڈل پوری دنیا میں چلے گا۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے عزم کا اظہار کیا کہ ہم ان اسکولوں کو وہ فیکٹری بنائیں گے جہاں سے علم اور دانش کو کشید کیا جائے اور علم سے روشنی خود آخرین کا سفر کرے۔ آخر میں ڈائریکٹوریٹ جنرل بی ای سی ایس کی پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ تقریب کا اختتام اعزازی اسناد اور شیلڈز کی تقسیم اور دعائے خیر پر ہوا۔اس موقع پر ایم کیوایم پاکستان کے مرکزی ذمہ دارن اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔