پاکستان ماحولیاتی نظام کی تبدیلی میں 7واں خطرناک ملک بن گیا ماحولیاتی نظام کو بچانے کیلئے ایم کیو ایم نے شجر کاری مہم کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار
ہم نے مسلم لیگ ن سے کوئی سودے بازی نہیں کی بلکہ انتخابات سے 4 ماہ قبل غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ سید مصطفیٰ کمال
مینگروز کا پیڑ کراچی کے ماحولیاتی نظام کو بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نسرین جلیل
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ہم نے مسلم لیگ ن کے ساتھ حکومت سازی کیلئے دوسری جماعتوں کی طرح کسی قسم کی کوئی سودے بازی نہیں کی بلکہ انتخابات کے انعقاد سے بھی 4 ماہ قبل ہم نے خود جاکر مسلم لیگ ن کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا، ہمارا ہمیشہ سے ایک اصولی مطالبہ رہا ہے کہ ملک میں اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منصفانہ منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔ آج تک ہم نے وفاقی حکومت میں اپنے اتحادی مسلم لیگ ن کے رہنماؤں سے بند کمروں کی ملاقاتوں میں یہی گزارشات رکھی ہیں تاکہ پاکستان کے عوام اور بلخصوص شہری سندھ کے عوام کی بہتری کیلئے کوئی کام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی بات مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مابین سن 2006 میں ہونے والے معاہدے چارٹر آف ڈیموکریسی کے نکات نمبر10 میں بھی درج ہے کہ اختیارات و وسائل کو نچلی سطح پر منتقل کیا جائے، جب وفاقی حکومت میں شامل دونوں جماعتیں عدالتی اصلاحات کیلئے چارٹر آف ڈیموکریسی کا حوالہ دیتی ہیں تو پھر وہ اُس چارٹر کے نکات نمبر 10 پر عملدرآمد کیلئے ہماری عملی مدد کیوں نہیں کرتی؟
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے علاقے ہاکس بے روڈ پر قومی شجر کاری کے سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہماری گزارشات پر ہمیشہ رضامندی کا اظہار کیا اور شہری سندھ کے حوالے سے ہمارے موخر کی ہمیشہ تائید کی ہے لیکن عملاً اقدامات کہیں نظر نہیں آرہے ہیں، ہم انتہائی احترام سے شکوہ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے کم کہے کو زیادہ سمجھا جائے اور مسلم لیگ ن ایم کیو ایم کے حوالے سے اپنے رویے پر نظر ثانی کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن اس بات کا خیال رکھے کہ ہم بھی ایک سیاسی جماعت ہیں اور ہمیں پہلے ہی اپنے لوگوں کو جواب دینا مشکل ہو رہا ہے اوپر سے ایسے وقت میں کوٹہ سسٹم میں 20 سال توسیع کا بل آنا ہمیں مزید سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ جب ہم اپنے لوگوں کے مسائل حل نہیں کر پارہے ہیں تو پھر اسمبلی کی رکنیت رکھنے کا کیا فائدہ؟ اگر ہمارے اسمبلیوں میں ہوتے ہوئے کوٹہ سسٹم میں 20 سال کی توسیع کردی جائے تو لعنت بھیجتے ہیں ہم ایسی رکنیت پر۔ انہوں نے ایک بار پھر مسلم لیگ ن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پیپلز پارٹی یا کسی دوسری جماعت سے کوئی تعلق نہیں، ہم آپ کے اتحادی ہیں اور ہمیں درپیش مسائل کو حل کرنا آپ کی ذمہ داری ہے، جس کوٹہ سسٹم نے سالوں تک شہری سندھ کے عوام کا تعلیمی اور معاشی استحصال کیا ہے ہم اس میں توسیع کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے شرکاء سے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے یکم اگست سے شجر کاری مہم کا آغاز کیا تھا جو ابھی تک جاری ہے کراچی کے ساحلی علاقوں میں شجر کاری مہم کا آغاز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مینگروز کی شجر کاری ساحلی علاقوں میں بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی میں پودے بھی بہت اہمیت کا حامل ہوتے ہیں پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے سلسلے میں 7 واں خطرناک ملک ہے جس پر ایم کیو ایم پاکستان نے اس چیلنج کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے شجر کاری مہم کا آغاز کردیا تھا تاکہ شہر میں جو آلودگی ہوگئی ہے اس کا خاتمہ کیا جا سکے، انکا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں پھولوں کی نمائش کی جاتی ہے ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک پاکستان بھی سر سبز و شاداب ہو ہم سب تمام شہریوں کو اپنے اپنے علاقوں میں پودے لگانا چاہیے تاکہ شجر کاری زیادہ سے زیادہ ہوسکے ہمارے ساحل بہتر ہونگے تو باہر ممالک سے نایاب پرندے بھی آئینگے اور سرمایہ کار اور فنڈ بھی آنے لگے گے۔
سینئر رہنما نسرین جلیل نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ایم کیو ایم پاکستان نے ہاکس بے کے علاقے میں جنگل میں منگل کردیا ہے اس قومی شجر کاری مہم میں حصہ لینے والوں کی تعداد 25000 ہے جس میں بچوں اور بچیوں کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے شجر کاری مہم کا جو بیڑا اٹھایا ہے وہ کامیاب ہوگا اور آج جو مینگروز کا پیڑ لگایا جا رہا ہے وہ کراچی کے ماحولیاتی نظام کو بچانے میں اہم کردار ادا کرے گا مینگروز نا صرف ہماری جان بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ کاربن آکسائیڈ بھی تیزی سے نکالتے ہیں یہ قدرتی بے پناہ صلاحیتوں کا پودا ہے اس کی حفاظت ہم سب کی زمہ داری ہے۔ اس موقع پر سینئر رہنماء انیس احمد قائم خانی، سید امین الحق سمیت مرکزی کمیٹی کے اراکین، انچارج و اراکین سی او سی، اپوزیشن لیڈر برائے صوبائی اسمبلی علی خورشیدی سمیت دیگر اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، حق پرست کارکنان اور عوام نے بڑی تعداد میں مہم میں شرکت کی۔