سندھ حکومت کا ’’کھیل سب کے لیے‘‘ سندھ اسپورٹس پالیسی 2026ء صوبے بھر میں نافذ کرنے کا اعلان
کراچی : سیکریٹری کھیل و امورِ نوجوانان سندھ منور علی مہیسر نے کہا ہے کہ سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد سندھ اسپورٹس پالیسی 2026ء صوبے بھر میں نافذ العمل ہوچکی ہے، جو صوبے میں کھیلوں کی ترقی کے لیے ایک جامع فریم ورک ثابت ہوگی۔ پالیسی کا بنیادی مقصد ’’کھیل سب کے لیے‘‘ کے اصول کے تحت کھیلوں کو ہر فرد تک پہنچانا اور گراس روٹ لیول سے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانا ہے۔
سندھ اسپورٹس پالیسی 2026ء کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے منور علی مہیسر نے کہا کہ سندھ اسپورٹس پالیسی وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر کا ویژن تھا، آئین کی 18ویں ترمیم کے تحت سندھ حکومت کو کھیلوں کے شعبے میں قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔ پالیسی کے تحت گراؤنڈز کی تعمیر و بحالی، کھلاڑیوں کے لیے ویلفیئر پروگرامز اور کھیلوں کی بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ 7 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ضلعی سطح پر ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیا جائے گا، جبکہ کھیلوں کو گراس روٹ لیول تک وسعت دی جائے گی۔ سندھ کے ہر ڈویژن میں ملٹی پرپز اسپورٹس کمپلیکس، اکیڈمیز اور اسپورٹس سٹی قائم کیے جائیں گے، جبکہ ضلعی سطح پر بھی کھیلوں کی سرگرمیوں کو وسیع کیا جائے گا۔
سیکریٹری کھیل نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں جسمانی تعلیم (Physical Education) اور کھیلوں میں شرکت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سندھ میں اسپورٹس سائنس سینٹرز، بائیو مکینکس لیبز اور اینٹی ڈوپنگ سسٹم قائم کیے جائیں گے تاکہ کھلاڑیوں کو جدید سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
منور علی مہیسر نے کہا کہ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ماہانہ وظائف، تعلیمی وظائف اور انشورنس کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ خواتین، اسپیشل ایتھلیٹس اور پنک گیمز کے فروغ کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔ سندھ سمیت وفاقی سطح پر نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کو بھی محکمہ کھیل کی جانب سے پروموٹ اور سپورٹ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اولمپک اور نان اولمپک کھیلوں کو پالیسی میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ ای اسپورٹس، روایتی، ثقافتی اور جدید کھیلوں کو بھی یکساں فروغ دیا جائے گا۔ سندھ کی قدیم تہذیب موئن جو دڑو سے بھی کھیلوں کے آثار ملے ہیں، جو اس خطے میں کھیلوں کی قدیم روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔ رنگ، نسل، تہذیب اور مذہب سے بالاتر ہوکر کھیلوں کو فروغ دینا حکومت کی ترجیح ہے۔
سیکریٹری کھیل منور علی مہیسر نے کہا کہ سندھ اسپورٹس بورڈ کو مزید فعال کیا جا رہا ہے اور بورڈ میں اصلاحات و بحالی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سندھ اسپورٹس بورڈ کے چیئرمین ہوں گے، جبکہ بورڈ کا پہلا اجلاس جلد طلب کیا جائے گا، جس میں ملازمین اور انتظامی امور سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی تنظیموں اور اسپورٹس ایسوسی ایشنز میں شفافیت اور میرٹ کے لیے الیکشن اور ریگولیشنز متعارف کرائے گئے ہیں۔ پرائیویٹ اسپورٹس کلبز کو بھی اسپورٹس گورننس کے دائرے میں لایا جائے گا اور تمام کلبز، گراؤنڈز اور متعلقہ سہولیات کی رجسٹریشن کی جائے گی۔
منور علی مہیسر نے کہا کہ جن اسپورٹس ایسوسی ایشنز کو سرکاری بجٹ فراہم کیا جائے گا، انکی سرگرمیوں اور فنڈز کے استعمال کی بھی نگرانی کی جائے گی۔ فنڈز کے معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ سندھ کے ہر شہر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کھیلوں کے ایونٹس منعقد کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آنر پلیئر پالیسی کے تحت باصلاحیت کھلاڑیوں کو مختلف سرکاری محکموں میں مواقع فراہم کیے جائیں گے، جبکہ سرکاری کوٹے کے تحت کھلاڑیوں کو ملازمتیں بھی دی جائیں گی۔ کھلاڑیوں کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ ترتیب دیا جا رہا ہے، جس میں اینٹی ڈوپنگ کے حوالے سے ضوابط بھی شامل ہوں گے۔
سیکریٹری کھیل نے کہا کہ حکومت کا ہدف 2040 تک کھیلوں کے شعبے کو مزید فروغ دینا ہے۔ جاپانی حکومت سندھ کے ساتھ رابطے میں ہے اور کھیلوں کے فروغ کے لیے تعاون میں دلچسپی رکھتی ہے۔ پہلے مرحلے میں اسپورٹس ایکسچینج پروگرام شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ساؤتھ ایشین گیمز کے بعض مقابلے سندھ میں کرانے کے لیے بھی کوششیں کی گئی ہیں، جبکہ اسپورٹس پالیسی کے تحت مخصوص رقبے کے اندر کھیلوں کی بنیادی سہولیات کی دستیابی ضروری ہوگی۔
اس موقع پر ڈائریکٹر اسپورٹس سندھ اسد اسحاق نے کہا کہ سندھ اسپورٹس پالیسی صوبائی وزیرِ کھیل سردار محمد بخش مہر کا وژن تھا۔ سندھ حکومت نے پالیسی کی منظوری دے دی ہے اور تمام اسپورٹس کلبز، گراؤنڈز اور متعلقہ سہولیات کو رجسٹرڈ کیا جائے گا۔