بھارت کے مشہور کھلاڑی نے کچھ وجوہات کی وجہ سے ان کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکال کر ان کا کیرئر ہی ختم کردیا۔
ٹیم انڈیا کے دھونی پر لگائے جانے والے یہ الزام کتنے صحیح ہیں اس بات کو ہم یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے ہیں لیکن جو باتیں ہمیں سوشل میڈیا سے ملئ ہیں وہ ہم نے بیان کی ہے۔ آپ اپنی رائے ضرور دیں۔
کرکٹ : بھارت کے مشہور کھلاڑی نے کچھ وجوہات کی وجہ سے ان کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکال کر ان کا کیرئر ہی ختم کردیا۔
جیسا کے سننے میں آیا ہے کہ دنیا بھر میں سیاست کا ایک اہم قردار ہے۔ ایسی طرح کھیل میں بھی سیاست نے اپنی جگہ بنارکھی ہے۔ بھارت کے مشہور کھلاڑی نے کچھ وجوہات کی وجہ سے ان کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکال کر ان کا کیرئر ہی ختم کردیا۔ اس فہرست میں نمبر 5 پر موجود ہیں دینیش کارتک۔ دھونی کی وجہ سے کارتک کو کھیلنے کے موقع نہیں ملے۔ کیونکہ دینیش کارتک بھی دھونی کی طرح ہی وکٹ کیپر اور بلے باز تھے۔ ٹیم میں یہ فنیشر کے طور پر موجود تھے۔17 سال کی عمر میں 2004 میں انہوں نے ٹیم میں اپنی جگہ بنائی تھی۔ لیکن جیسے ہی دھونی نے ٹیم انڈیا کے لئے ڈیبیو کیا تو کارتک ٹیم سے باہر ہوگئے۔
اس میں نمبر 4پر موجود ہیں ویندر سیواگ۔ ان کے کیرئر کو ختم کرنے کا الزام بھی دھونی پر ہی لگایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بی سی سی آئی نے جیسے ہی ٹیم انڈیا کی کپتانی دھونی کو دی، تو دھونی نے ٹیم میں سے سب سے پہلے ان کو ہی باہر کا راستہ دیکھایا اور جب تک دھونی کپتان تھے ان کو کھیلنے کے موقع بھی نہیں دیتے تھے۔ سیواگ کو اس وقت یہ امید بھی تھی کہ ان کو کپتان بنایا جائے گا، ہو سکتا ہے کہ دھونی کو بھی یہ ڈر ہوکہ آگے چل کہ ان کو ہٹا کر کہیں سیواگ کو کپتان نا بنادیا جائے۔
اس میں نمبر 3 پر موجود ہیں یووراج سنگھ۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ٹیم انڈیا کہ اب تک کے سب سے بہترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔ لیکن ان کے کئریر کو ختم کرنے کا الزام بھی دھونی پر ہی لگایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یووراج اور دھونی کے درمیان کچھ آپسی رنجش تھی جس کی وجہ سے ان دونوں کی کبھی بن ہی نہیں پائی اور ٹیم میں جگہ نہیں بنانے دی۔ یووراج سنگھ کے والد بھی اس بات کو کئی دفعہ میڈیا پر بیان کرچکے ہیں۔
اس میں نمبر 2 پر موجود ہیں روبن اتھپا۔ روبن نے سال 2006 میں اپنے ون ڈے کئریر کی شروعات کی۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ دھونی کی وجہ سے سال 2008 میں ان کے کئریر پر بریک لگ گیا۔ اس کے بعد ان کو سال 2014 میں واپسی کا موقع ملا۔ اتنے بڑے بریک کے بعد ان کی واپسی بھی ٹیم انڈیا میں ان کو جگہ بنانے میں کامیاب ثابت نہیں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ روبن اوپن کیا کرتے تھے لیکن دھونی کی وجہ سے ان کو کبھی 5 یا کبھی 7 نمبر پر جانا پڑا ۔ جس کی وجہ سے ان کی بلے باری میں کافی فرق پڑا اور اس کو بہانا بناتے ہوئے ان کو باہر کا راستہ دیکھا دیا گیا۔
اس فہرست میں نمر 1 پر موجود ہیں گوتم گمبیر۔ ان کا ٹیم انڈیا میں سلامی بلے باز بھی کہا جاتا تھا۔ گوتم نے کئی دفعہ یہ الزام لگایا کہ دھونی نے نا صرف انکا کئریر ختم کیا بلکہ اور بھی کئی لڑکوں کو ٹیم سے باہر کرنے میں دھونی کا ہی ہاتھ ہے۔ گوتم شروع سے ہی مینجمنٹ اور دھونی کے فیصلوں پر سوال اٹھایا کرتے تھے۔ لیکن پھر دھونی نے اپنی عنا کو دیکھتے ہوئے ان کو ہی ٹیم سے باہر کردیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دھونی اور گوتم ایک وقت میں کافی اچھے دوست بھی ہوا کرتے تھے۔
ٹیم انڈیا کے دھونی پر لگائے جانے والے یہ الزام کتنے صحیح ہیں اس بات کو ہم یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے ہیں لیکن جو باتیں ہمیں سوشل میڈیا سے ملئ ہیں وہ ہم نے بیان کی ہے۔ آپ اپنی رائے ضرور دیں۔