Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

اشرافیہ کیلئے لیا جانے والا قرض عوام ادا کرتی ہے۔ آفاق احمد

افسران اور وزراء نے 34 کروڑ یونٹ بجلی فری استعمال کی،

0

اشرافیہ کیلئے لیا جانے والا قرض عوام ادا کرتی ہے۔ آفاق احمد

کراچی : چیئرمین آفاق احمد نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی،وہ سندھ اربن گریجویٹ فورم کے سالانہ اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل ایوب کے دور سے ہماری حکومتوں نے ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے بجائے قرض اور امداد سے اشرافیہ کو پالنے کی ریت ڈالی ہے،اسے کسی حکمران نے ختم کرنے کی کوشش بھی نہیں کی،جنرل ضیاء کے دور میں افغان جنگ میں امریکہ کی مدد کرنے پر پیسے مل گئے اشرافیہ کا گزارا ہوتا رہا،پھر نائن الیون ہوگیا،تو جنرل مشرف کے دور میں نائن الیون کے ردِعمل کے خوف سے پاکستانیوں کی بڑی تعداد اپنا سب کچھ سمیٹ کر پاکستان واپس آگئی تو زرِمبادلہ کے زخائر میں اضافہ ہوگیا جو اشرافیہ کے کام آیا،نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر نیٹو اتحادی بن کر پاکستان جنگ کے اختتام تک اپنا حصہ وصول کرتا رہا اور یہ بھی صرف اشرافیہ کے کام آیا،ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اپنی اشرافیہ کو پالنے کیلئے اپنے ملک کو قرضوں میں ڈبو دیا اور ان قرضوں کی ادائیگی مجبور اور بے بس عوام مہنگائی کی صورت میں ادا کر رہی ہے۔

آفاق احمد نے کہا ہماری حکومیتں سمندر پار پاکستانیوں کے بھیجے گئی رقوم امداد اور قرض کو آمدنی قرار دیتی رہی ہیں۔

آفاق احمد نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے ملک بچانے کیلئے زراعت سے ہونے والی آمدنی پر بھی ٹیکس لگایا جائے،برآمدات سے جڑی ہر صنعت کو خصوصی رعایت دے کر برآمدات کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے،بے لگام درآمدات کو لگام دی جائے۔ آفاق احمد نے کہا کہ مہنگائی تلے کچلے ہوئے عوام تو مہنگی بجلی کے بل دینے پر مجبور ہیں، لیکن سرکاری افسران،وزراء اور مشیر ان مفت بجلی استعمال کرتے ہیں جو اشرافیہ کو نوازنے کی بدترین مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس اس اشرافیہ کو 34 کروڑ یونٹ سے زیادہ فری بجلی فراہم کی گئی۔

آفاق احمد نے کہا کہ کسی مہذب معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا کہ پرانے نرخوں پر کوئی چیز خریدی جائے یا استعمال کی جائے اور اسکے 20 دن کے بعد اسکی قیمت بڑھا کر وصول کی جائے۔

آفاق احمد نے کہا کہ اگر حکومت آج بجلی کی قیمت بڑھا رہی ہے تو صارف کی مرضی ہے کہ وہ استعمال کرے یا نہ کرے لیکن صارف جو بجلی استعمال کرچکا اس پر آج کی قیمت کا اطلاق کاروباری اصولوں کے منافی اور دھوکہ دہی کے مترادف ہے،اعلیٰ عدلیہ حکومت کے اس بے حودہ اقدام کا فوری نوٹس لے آج سے پہلے استعمال کی گئی بجلی پر آج کی قیمت کے اطلاق کو کالعدم قرار دے۔

Comments
Loading...