Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

کراچی دنیا کے سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا شہر ہے، مگر اس کی آبادی جان بوجھ کر کم دکھائی جاتی ہے۔مرکزی رہنما سید حیدر عباس رضوی

ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد سے متصل پارک میں کراچی ماسٹر پلان 2020کے حوالے سے دستخطی مہم کے آغاز کے سلسلے میں ذمہ داران و کارکنان کا اجلاس

0

کراچی دنیا کے سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا شہر ہے، مگر اس کی آبادی جان بوجھ کر کم دکھائی جاتی ہے۔ مرکزی رہنما سید حیدر عباس رضوی

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادر آباد سے متصل پارک میں کراچی ماسٹر پلان 2020کے حوالے سے دستخطی مہم کے آغاز کے سلسلے میں ذمہ داران و کارکنان کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس سے مرکزی رہنما سید حیدر عباس رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے ماسٹر پلان کے معاملے کو توانا آواز کے ساتھ اٹھایا ہوا ہے اور اس سلسلے میں دو پریس کانفرنسز پہلے ہی کی جا چکی ہیں۔ کراچی دنیا کے سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا شہر ہے اور سندھ کی مجموعی آبادی کا 37 فیصد ہے لیکن اس شہر کی آبادی جان بوجھ کر کم دکھائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کراچی کو اس کے جائز حقوق نہ ملے تو یہ شہر کبھی ترقی کے منازل طے نہیں کرے گا، یہاں کے شہری اکثریت سے اقلیت میں بدل جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ماسٹر پلان ایم کیو ایم کے دور نظامت میں شہر کے تمام اسٹیک ہولڈرز، دنیا بھر کے ماہرین اور شعبہ جاتی ایکسپرٹس کی مشاورت سے ترتیب دیا گیا، جسے کراچی کی بلدیاتی اسمبلی، تمام کنٹونمنٹ بورڈز اور وفاقی اداروں نے منظور کیا، ایم کیو ایم اس ماسٹر پلان پر عملدرآمد کے لئے سندھ ہائی کورٹ میں مقدمہ لڑ رہی ہے اور اس کیس میں عوامی حمایت اور کراچی کے عوام کا اجتماعی شعور بیدار کرنے کے لئے دستخطی مہم کا آغاز کر رہی ہے۔

ایم کیو ایم کے وکیل ایڈوکیٹ طارق منصور نے وضاحت کی کہ 10 اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ کی مداخلت کے باعث یہ کراچی اسٹریٹیجک ماسٹر پلان نوٹیفائی کیا گیا جو کہ مشرف دور حکومت میں 274 ارب روپے سے بنایا گیا تھا، مگر 2010 کے بعد سٹی گورنمنٹ کے بعد یہ پلان غائب کر دیا گیا اور 10 اکتوبر 2018 کوایک بار پھر چیف منسٹر نے اس پلان کو غائب کر دیا اور اس کی نقل نہیں رکھی گئی۔ انکا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اس بات کی متقاضی ہے کہ آپ اس ماسٹر پلان پر عملدرآمد کے لئے دستخط کریں اور کراچی کے عوام سے کروائیں کیونکہ یہ کراچی کے لیے بنیاد رکھ دی گئی ہے۔

سندھ حکومت آپ کو اقلیت میں بنا دینا چاہتی ہے، ہمیں 2 دسمبر کو عوامی طور پر اس بات کو منظر عام پر لانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماسٹر پلان کراچی ایک گھر کی مانند ہے، کونسی چیز کہاں ہوگی یہ رہنے والوں کی اختیار میں ہونا چاہیے، ورلڈ بینک، ایشیا بینک اور جائیکہ کے ادارے کی جانب سے 14 ارب کے قرضے سے لوکل گورنمنٹ کو ماسٹر پلان بنانا عمل میں آیا تھا،ایم کیو ایم پاکستان کی طرف سے یہ پٹیشن دائر ہوئی اور یہ وہی چیز ہے جو 2007 میں ایم کیو ایم پاکستان نے شروع کی تھی اور 12 سال سے بند محکمہ ہے۔ اس سنجیدہ نوعیت کے مسئلے پر ایم کیو ایم بڑی جاں فشانی، دل اور خلوص نیت سے اہل کراچی کی طرف سے لڑ رہی ہے۔

اجلاس میں سینئر مرکزی رہنما نسرین جلیل، رضوان بابر، سینٹرل آرگنائزنگ اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اراکین، سی اؤ سی انچارج فرقان اطیب، اپوزیشن لیڈر برائے سندھ اسمبلی علی خورشیدی سمیت اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بھی شریک تھے۔

Comments
Loading...