اندور، پینے کے پانی کی لائین میں سیوریج کا پانی شامل، 10 لوگ جان کی بازی ہار گئے۔
اندور مغربی وسطی ہندوستان کا ایک شہر ہے۔ یہ 7 منزلہ راجواڑا محل اور لال باغ محل کے لیے جانا جاتا ہے، جو اندور کے 19ویں صدی کے ہولکر خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔
بھارت : اندور کو بھارت کا سب سے زیادہ صاف شہر مانا جاتا ہے۔ 8 سال سے یہ سہر نمبر 1 پر آرہا ہے۔ لیکن پچھلے مہینے اس شہر میں 10 لوگ اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ صرف اس لئے کہ صاف پانی سیوریج کے پانی میں مل گیا۔
تفصیلات کے مطابق اندور میں موجود ایک پولیس چوکی کا باتھ روم ٹھیک پانی کی لائین کے اوپر بنایا گیا۔ اس کے نیچے کوئی سیفٹی ٹینک بھی نہیں بنایا گیا تھا۔ یہ سارا سیورج کا پانی ایک گڈھے میں جمع ہوتا تھا۔ ایک دن سیوریج کی پائیپ لائین ٹوٹ جاتی ہے اور نیچے پانی کی لائین میں اس کا پانی شامل ہونے لگتا ہے۔ یہی پانی لوگوں کے گھروں میں پہنچ جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے 1400 لوگ بیمار ہوجاتے ہیں۔ جس میں 200 سے زیادہ لوگ سرکاری اسپتال میں بھی داخل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر بیمار ہونے والوں میں خواتین اور بچے شامل تھے۔ حالہ کے اس پانی کے خراب ہونے کی خبر سب سے پہلے اکتوبر 2025 میں درج کرائی گئی تھی۔ لیکن حکومتی اداروں نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ جس کی وجہ سے حالت خراب سے خراب ہوتی چلی گئی۔ بہت سے لوگوں کی کڈنیا فیل ہونے کی بھی اطلاع آئی۔
نو
نومبر 2025 میں بھی لوگوں نے پانی میں ایسڈ کے ملنے کی شکایت درج کرائی تھی اور دسمبر 2025 میں لوگوں نے پانی میں سے بدبو آنے کی شکایت درج کرائی تھی۔ 28 دسمبر تک اندور میں رہنے والے 90 فیصد لوگ بیماری کی لپیٹ میں آگئے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس کی فائیل نومبر 2025 میں تیار کرلی گئی تھی اور بجٹ بھی پاس کرالیا گیا تھا۔ لیکن اس پر کام کرنے کا ورک پرمٹ 26 دسمبر 2025 کو جاری کیا گیا۔ وہ بھی اس وجہ سے کہ وہاں کی حکومت میں موجود لوگوں نے بیماری بڑھتے ہوئے دیکھا تو کام کرنے کا سوچا۔
اس تمام چیزوں کو روکا جاسکتا تھا اگر وقت پر ہی اس پر ایکشن لے لیا جاتا۔