Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

ہماری کوشش ہونی چاہیئے کہ اچھے سے اچھے پروڈیکٹ بنائیں اور ایمانداری سے فروخت کریں۔ کراچی چیمبر آف کامرس شکیل صاحب

حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت پر فیصلہ کیا گیا کہ لمبے وقت کے لیے پاکستانی پروڈیکٹ کو متعارف کروایا جائے۔ چئیرمین پی ایچ ایم اے انجینئر بابر خان

0

ہماری کوشش ہونی چاہیئے کہ اچھے سے اچھے پروڈیکٹ بنائیں اور ایمانداری سے فروخت کریں۔ کراچی چیمبر آف کامرس شکیل صاحب

کراچی : پاکستان بزنس فورم کے سہیل عزیز کاادارہ نور حق میں سیمینار سے خطاب۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بزنس فورم انٹر نیشنل فورم کا ایک چیپٹر ہے۔ انٹر نیشنل فورم کا چیپٹر 1997 میں اسی لیے بنایا گیا تھا تاکہ دیگر ممالک سے رابطے میں رہا جائے۔ 42 ممالک میں پاکستان بزنس فورم کے چیپٹر موجود ہیں۔ پاکستان میں بزنس فورم کی سرگرمی یہی ہے کہ جو لوگ پاکستان میں بزنس کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں۔ آج کل ملک کی معیشت تباہ حال ہے۔ پاکستان کی ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لیے جماعت اسلامی اور پاکستان بزنس فورم مل کر کام کریں گے۔ مقامی طور پر بنائے گئے تمام برانڈز موجود ہیں اور ہم کوشش کریں گے کہ اسے دوسرے ممالک میں بھی ایکسپورٹ کریں گے۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے شکیل کا ادارہ نور حق میں سیمینار سے خطاب۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی بنیے اور پاکستان سے خریدیے ہمیں سلوگن بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستانیوں میں ایسے افراد موجود ہیں جنہوں نے خریدوفروخت میں جھوٹ کو شامل کرلیا ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہیئے کہ اچھے سے اچھے پروڈیکٹ بنائیں اور ایمانداری سے فروخت کریں۔

چئیرمین پی ایچ ایم اے انجینئر بابر خان کا ادارہ نور حق میں سیمینار سے خطاب۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی شہریوں نے اسرائیلی مصنوعات کا بڑی تعداد میں بائیکاٹ کیا ہے۔تقریبا ایسی اشیاء کا بائیکاٹ کیا گیا جو گھریلو استعمال کے لیے تھی۔ حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت پر فیصلہ کیا گیا کہ لمبے وقت کے لیے پاکستانی پروڈیکٹ کو متعارف کروایا جائے۔ ایسی مصنوعات متعارف کروایا جائے جس سے گھریلو ضروریات پوری ہوسکے۔ پاکستان میں ایسا کوئی فورم موجود نہیں ہے جس میں صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق برانڈز تیار کیے جائیں۔ مصنوعات کو برانڈز بنانے کے لیے توجہ کی ضرورت ہے۔ آج کے دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ کم ٹریننگ پروگرامز منعقد کریں اور مقامی مصنوعات کو متعارف کرائیں۔ کوالٹی کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان بزنس فورم کے تحت معاشرے میں موجود بزنس کرنے والوں کو ٹریننگ کروائیں گے۔ ٹریننگ کا اثر لمبے اثر تک ہونا ضروری ہے، ٹریننگ میں چھوٹے اور بڑے دونوں برانڈز کو شامل کریں گے۔ پاکستان میں موجود بزنس کرنے والے کے لیے ضروری کے وہ محنت کرے اور کاروبار میں سچ بولے۔

سابق ایم ڈی ایس جی ایچ و ایف اینڈ ایم کے ڈائریکٹر سید فرخ کا ادارہ نور حق میں سیمینار سے خطاب۔ انہوں نے کہا کہ ایس جی ایچ میں 26 سال کام کیا۔ ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرنے کے بعد میں پاکستانی کمپنی بنائی جس کا نام ایف اینڈ ایم رکھا۔ پاکستان واحد ملک ہے جہاں آپ بزنس میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ہم نے پاکستان میں موجود تمام ایسوسی ایشن کے ساتھ کام کیا۔ کسی بھی کاروبار میں ضروری ہے کہ آپ کام کو ایمانداری کے ساتھ کریں۔ ہم پاکستان میں رہتے ہوئے اپنی برانڈز بناسکتے ہیں ہمیں باہر کی پروڈکٹ کی ضرورت نہیں۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے ممبر اور یونائیٹڈ کنگ بانی تحسین شیخ کا ادارہ نور حق میں سیمینار سے خطاب۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے برانڈ کو پہچاننا چاہیئے۔ کراچی سے پاکستان اور انٹر نیشنل میں اپنے برانڈز کو رجسٹرڈ کروایا۔ 50 ممالک میں ہمارے برانڈز رجسٹرڈ ہے۔ ہمیں اپنے برانڈ کو پہچاننا پے، ہمیں اپنے ملک کی ایکسپورٹ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہم نے اپنے برانڈز کو قومی و بین الاقوامی متعارف کروایا ہے۔

پاکستان فوڈ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹ ایسوسی ایشن کے وحید احمد کا ادارہ نور حق میں سیمینار سے خطاب۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم پاکستانی مصنوعات کو متعارف کروانے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ ہمیں خود سوچنے کی ضرورت ہے کہ عوام پاکستانی برانڈز کو کیوں قبول نہیں کرتے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں جس طرح کوالٹی کو بہتر بناتے ہیں ہمیں بھی اپنی برانڈز کی کوالٹی کو بہتر کرنا ہوگا۔ فوڈز اینڈ ویجیٹیبل کی ایکسپورٹ 30 ممالک کی جاتی ہے۔ ہمیں اپنی مصنوعات پر بھروسہ ہونا چاہیے کہ اس سے بہتر کوئی نہیں ہوسکتی ۔ ہمیں مصنوعات کے معیار کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے 75 سال میں ملک میں کوئی ایسی انڈسٹری نہیں بنائی جو دنیا میں ایکسپورٹ کرتی ہو۔

Comments
Loading...