اسرائیل کی دہشت گردی نے پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ حافظ نعیم الرحمن
امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا جماعت اسلامی اور پاکستان بزنس فورم کے تحت ادارہ نورحق میں سیمینار سے خطاب
اسرائیل کی دہشت گردی نے پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ حافظ نعیم الرحمن
کراچی : امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا جماعت اسلامی اور پاکستان بزنس فورم کے تحت ادارہ نورحق میں سیمینار سے خطاب۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں اسی لیے جمع ہوئے ہیں کہ ہم پاکستانی مصنوعات کو کیسے برانڈز بناسکتے ہیں۔ آج کی نشست کا حوالہ حماس کے مجاہدین کی مزحمت بنی ہے۔ فلسطین میں 4 دن سے جنگ بندی ہوئی جس میں حماس نے بہت ساری چیزیں منوائی ہے۔ اسرائیل نے جتنی بڑی تعداد میں بمباری کی ایسے حالات میں غزہ کے لوگوں کو حماس کے خلاف کھڑا ہونا چاہیئے تھا فلسطین اور اہل غزہ کے مسلمانوں صبر و ہمت کے ساتھ میدان میں موجود رہے اور حماس کے ساتھ شانہ بشانہ رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں نے اپنی مزاحمت سے پوری دنیا کا رخ اپنی طرف موڑ لیا ہے۔ مغرب کے حکمرانوں نے اپنے عوام کو خوف میں مبتلا میں رکھا حماس نے سیاسی طور پر بھی ثابت کیا کہ وہ ایک جدوجہد کرنے والی تحریک ہے۔ اسرائیل کی دہشت گردی نے پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ ایک جانب امریکہ ، برطانیہ سمیت بے ضمیر حکمران اور دوسری جانب عالم اسلام اور باضمیر انسان ہیں۔ اخلاقی برائیوں ، علم سے دوری ، جہالت کے نتیجے میں اور انسانوں کو خدا سمجھ لینے کے نتیجے میں انسان کمزور ہوئے اور تقسیم در تقسیم ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت بڑا موقع دیا ہے کہ ہم اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کر کے پاکستانی مصنوعات کو متعارف کروائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات کو متعارف کروانے سے ملک کی معیشت اور ایکسپورٹ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ پوری دنیا میں جہاں یورپ اور امریکہ کے لوگ ہوں یا اسلامی ممالک کے لوگ ہوں ہر فرد یہی دیکھ رہا ہے کہ اسرائیلی مصنوعات سے بائیکاٹ کیا جائے۔ آج کے سیمینار کو تاریخی بنانے کی ضرورت ہے، آج تاجر و صنعت کار صرف اور صرف فلسطینیوں کی قربانیوں کے نتیجے میں جمع ہیں۔ تاجر و صنعت کار اگر پاکستانی مصنوعات کو متعارف نہیں کروائیں گے تو فلسطینی مسلمانوں سے زیادتی ہوگی۔ آج ہم فلسطینی مسلمانوں کی قربانی کی وجہ سے ہی پوری دنیا کے عوام اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔ پاکستان میں موجود اسٹور مالکان سے بھی درخواست کروں گا کہ پاکستان کی بہت اچھی پروڈکٹ ہونے کے باوجود سامنے نہیں آتی ۔
انہوں نے کہا کہ اسٹور مالکان اپنے شیلف میں بیرونی مصنوعات کو پیچھے رکھ کر پاکستانی مصنوعات کو سامنے لائیں۔ ہم غزہ نہیں جاسکتے لیکن معاشی طور پر اسرائیل کا مقابلہ تو کرسکتے ہیں۔ تاجر و صنعت کار مارکیٹ میں پاکستانی پروڈکٹ متعارف کروائیں اور کمپیٹیشن پیدا کریں۔ چیمبر آف کامرس و دیگر تاجر وصنعت کار اپنا کلسٹر بنائیں اگر کسی بھی برانڈ کو آگے بڑھانے میں حکومت رکاوٹ بنے گی تو جماعت اسلامی آپ کا ساتھ دے گی۔ تمام تاجر و صنعت کار ایکسپورٹ کے لیے مل کر کام کریں جس سے ملک کی معیشت کو بہتر بنائیں۔ فلسطین میں بمباری کے باوجود ڈٹے ہوئے ہیں تو ہم کیوں اپنی زمیں ساہوکاروں کے ہاتھ چھوڑ کر باہر جائیں۔
انکا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں رہتے ہوئے ساہوکاروں کا مقابلہ کریں گے اور ایمانداری کے ساتھ کام کریں گے۔