امریکی بینکوں کا زوال۔ سلیکن ویلی بینک کریش
امریکی بینکوں کا زوال۔ سلیکن ویلی بینک کریش
امریکی بینکوں کا زوال۔ سلیکن ویلی بینک کریش
ذرائع کے مطابق امریکہ کے دو بڑے بینک ڈوب گئے ہیں۔ جس میں سے ایک کیلیفورنیا کا سلیکون ویلی بینک اور دوسرا نیویارک کا سیگنیچر بینک۔ بتایا جارہا ہے کہ امریکہ میں دوسرا سب سے بڑا بینکنگ فیلئر ہے۔ اس سے پہلے سال 2008 میں واشنگٹن میوٹل بینگ کولیپس ہوا تھا وہ سب سے بڑا تھا۔
جس کے بعد دنیا بھر میں 2008 کی کرائسس دیکھنے کو ملی تھیں۔ اب لوگوں کو ایک دفعہ پھر سے یہ ڈر ہے کہ سال 2008 کی طرح دوبارہ کرائسس دیکھنے کو نا ملیں۔ کیونکہ اگر امریکہ کا فاینینشیل سسٹم اگر کریش کرتا ہے تو اس کا اثر دنیا پھر کے ملکوں پر پڑتا ہے۔
سلیکون ویلی بینک سال 1983 میں وجود میں آیا تھا۔ سینٹا کارلا، کیلیفورنیا میں اس کا ہیڈ کواٹر موجود ہے۔ شروعات میں یہ بینک لوگوں کو پیسہ ریل اسٹیٹ میں لگایا کرتا تھا۔ 1990 تک اس کا آدھہ پورٹ فولیو اس ریل اسٹیٹ کے بسنس سے ہی بنتا تھا۔ اس دوران 1992 میں کیلیفورنیا کی ریل اسٹیٹ مارکیٹ بری طرح کریش کرگئی۔
جس کی وجہ سے اس بینک کو 2.2 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ 1995 کے بعد سے انہوں نے ریل اسٹیٹ میں پیسہ لگانا کم کردیا یہاں تک کے وہ صرف 10 فیصد ہی ریل اسٹیٹ میں پیسہ لگایا کرتے تھے۔ 2000 کے بعدسے اس بینک کو نئی بزنس میں پیسہ لگانے والے بینک کے نام سے جانا جانے لگا۔ یہ ان کمپنیوں کو لون دینے کا کام کرنے لگا۔
سال 2015 تک یہ اتنا بڑا بن گیا کہ اس نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ امریکہ میں 65 فیصد نئے کاروبار کو یہ بینک لون دے رہا ہے۔ یاد رہے کہ ان نئے کاروبار میں 90 فیصد ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے کمپنیاں موجود تھیں۔
سال 2022 کے آخر تک سلیکون ویلی بینک 16 بڑے بینکوں میں شمار ہونے لگا تھا اور اس کے کل ایسٹ 200 بلین ڈالر تک جاپہنچے تھے۔ سلیکون ویلی بینک نے بلین ڈالر کا استعمال کیا اور بونڈ خرید لئے۔ ان بونڈز میں سرکاری ہی نہیں بلکہ کارپوریٹ بونڈز بھی خریدے گئے۔
انہوں نے جب بونڈز خریدے تو اس وقت ان بونڈز کا انٹرسٹ ریٹ بہت کم چل رہا تھا۔ امید یہی تھی کہ یہ کم ہی رہے گا لیکن ایسا ہوا نہیں اور انٹرسٹ ریٹ اوپر چلا گیا۔ امریکہ کی سرکار نے انٹرسٹ ریٹ بڑھادیا ان بونڈز کا اور ان کی ویلیو کم ہوگئی۔ جس کی وجہ سے سلیکون ویلی بینک کو کافی نقصان ہوا۔
اس کے ساتھ ساتھ انٹرسٹ ریٹ بڑھنے کی وجہ سے لوگوں نے لون لینا بند کردیا اور جن لوگوں نے اپنا پیشہ سلیکون ویلی بینک میں رکھا ہوا تھا انہوں نے پیسہ نکالنا شروع کردیا۔ لیکن سلیکون ویلی بینک کے پاس پیسہ تو تھا نہیں کیونکہ وہ ان پیسوں سے بونڈز خرید چکے تھے۔
اس وجہ سے انہوں نے لوگوں کو پیسہ دینے کے لئے بونڈز کو نقصان میں بیچنا شروع کردیا۔ انہوں نے تقریبا 21 بلین ڈالرز کے بونڈ بیچ دئیے۔ جس میں ان کو 1.8 بلین ڈالرز کا نقصان ہوا۔
جیسے ہی یہ خبر مارکیٹ میں آئی، سلیکون ویلی بینک کے اپنے شئیرز بھی نیچے گرنا شروع ہوگئے۔ 9 مارچ 2023 تک اس کے شئیرز 60 فیصد نیچے گرجاتے ہیں اور اس سے ایک دن پہلے ہی موڈیز نے اس بینک کی ریٹنگ کو ڈاون گریڈ بھی کردیا تھا۔
خبر مارکیٹ میں آئی تو اور بھی لوگوں نے سلیکون ویلی بینک کا رخ کیا۔ تقریبا سب ہی لوگوں نے اپنے اپنے پیسے نکالنے شروع کرئیے۔ جس کی وجہ سے سلیکون ویلی بینک کریش ہوگیا۔
امریکہ میں پچھلے کچھ مہینوں سے مہنگائی کافی بڑھ رہی تھی جس کی وجہ سے امریکہ نے انٹرسٹ ریٹ کو بڑھانے کا فیصلہ لیا تھا۔ اب مسلہ یہ تھا کہ سال 1995 کی طرح یہ بینک صرف ایک ہی جیز پر پیسہ نہیں لگاتا تو کریش نہیں ہوتا۔ لیکن انہوں نے اس دفعہ ریل اسٹیٹ پر پیسہ لگایا تھا اور اس دفعہ بونڈز پر۔