۔1۔ زری پالیسی کمیٹی نے آج اپنے اجلاس میں پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا جس کا اطلاق 27 اکتوبر 2026ء سے ہوگا۔ کمیٹی کے دس میں سے 9 ارکان نے اس فیصلے کے حق میں رائے دی۔کمیٹی نے محسوس کیا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں شدت اور مستقبل قریب میں اس کے حل کے کم امکانات کی بنا پر توانائی کی عالمی قیمتیں مسلسل بلند سطح پر ہیں۔ اگرچہ محتاط زری پالیسی ردوبدل اور جاری مالیاتی نظم و ضبط کے باوجود اس عالمی دھچکے کا ملکی معیشت پر اثر اب تک محدود رہا ہے، تاہم جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں نے مہنگائی کے منظرنامے کو پہلے سے بدتر کر دیا ہے۔ اگرچہ بیرونی کھاتے اور نمو کا منظرنامہ بڑی حد تک برقرار رہاہے، تاہم خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ان تبدیلیوں اور ارتقا پانے والے خطرات کے پیش نظر ، کمیٹی نے آج کا فیصلہ مہنگائی کی توقعات کو مستحکم رکھنے، رسدی دھچکوں کے دورِ ثانی کے اثرات کو روکنے، اور مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد ہدف کے اندر لانے کے لیے ضروری قرار دیا۔ یہ فیصلہ اقتصادی استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد دے گا، جو پائیدار اقتصادی نمو کے لیے ضروری ہے۔
۔2۔ کمیٹی اپنے گذشتہ اجلاس کے بعد سے حالات میں آنے والی ان تبدیلیوں کو زیرِ غور لائی۔ پہلی، زرِ مبادلہ کی خریداری سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر پر مستحکم ہیں، جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ دوسری، آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول کا ایک معاہدہ ہوگیا ہے۔ تیسری، احساسات کے تازہ ترین سروے سے معلوم ہوا ہے کہ صارفین میں مہنگائی کی توقعات بڑھ گئی ہیں جبکہ کاروباری اداروں کی یہ توقعات گھٹ گئی ہیں۔ دریں اثنا صارفین اور کاروباری اداروں دونوں کے اعتماد کے اظہاریے کمزور ہوئے ہیں۔ چوتھی، پاکستان دفترِ شماریات نے بتایا ہے کہ مالی سال 26ءمیں حقیقی جی ڈی پی کی نمو کے نظرِ ثانی شدہ اعدادوشمار 3.7 فیصد رہے، جو ابتدائی تخمینے کے تقریباً مساوی ہے۔ پانچویں، مالی سال 27ء کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر نے اپنے ہدف سے زیادہ محاصل وصول کیے۔ آخری بات یہ کہ بڑے مرکزی بینکوں نے مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر شرحِ سود بڑھا دی ہے، جبکہ آئی ایم ایف نے بھی نظرِ ثانی کرتے ہوئے عالمی مہنگائی میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔
۔3۔ زری پالیسی کمیٹی نے حالات میں آنے والی ان تبدیلیوں کو، اور عالمی رسد میں بار بار دھچکوں کے وقوع پذیر ہونے کو مدِنظر رکھ کر بیرونی اور مالیاتی بفرز بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ معیشت کی لچک کو مزید مضبوط کیا جائے۔ کمیٹی نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ موجودہ محتاط زری اور مالیاتی پالیسی، اور اس کے ساتھ ساتھ ساختی اصلاحات پر بروقت عمل درآمد بلند اور پائیدار اقتصادی نمو کے لیے لازم ہے۔
حقیقی شعبہ
۔4۔ رواں مالی سال کے شروع ہی میں اقتصادی سرگرمیاں توقعات کے مطابق مالی سال 26ء کی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں بتدریج بحال ہونے لگی ہیں۔ جولائی تا اگست مالی سال 27ء کے دوران بڑے پیمانے کی اشیا سازی کی پیداوار سال بسال 1.9 فیصد بڑھی جبکہ مالی سال 26ء کی چوتھی سہ ماہی کے دوران اس میں صرف 0.4 فیصد کا واجبی اضافہ ہوا تھا۔ اسی طرح، بلند تعدد کے دیگر اظہاریوں، مثلاً سیمنٹ اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت، نجی شعبے کے قرضے اور پرچیزنگ منیجرز انڈیکس سے بھی معاشی سرگرمیوں کی بحالی ظاہر ہوتی ہے۔اس کے علاوہ رات کے وقت روشنیوں اور نائٹروجن ڈائی آکسائڈ (این او2) کے اخراج کی خلائی سیارے سے لی گئی تصاویر سے بھی اس رائے کو تقویت ملتی ہے۔ دریں اثنا، خریف کی فصلوں کے ابتدائی سرکاری تخمینے سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پیداوار توقع سے زائد رہی ہے اس طرح زرعی شعبے کا منظرنامہ بہتر ہے۔ خدمات کے شعبے میں بلند تعدد کے اظہاریوں پر دستیاب معلومات سے، مثلاً آئی سی ٹی کی برآمدات، درآمدی حجم، اور خدمات کی فرموں کا اعتماد، بتدریج بہتر ہوتے ہوئے امکانات ظاہر ہوتے ہیں جنہیں اجناس پیدا کرنے والے شعبے میں مثبت پیش رفت سے تقویت ملتی ہے۔ بحیثیتِ مجموعی زری پالیسی کمیٹی نے توقع ظاہر کی کہ مالی سال 27ء میں حقیقی جی ڈی پی کی نمو پچھلے تخمینے 3.5 تا 4.5 فیصد تک رہے گی۔ تاہم اس منظرنامے کا انحصار بنیادی طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں مزید شدت آنے کے سبب خطرات میں اضافے ، اور اس کے علاوہ ایل نینو کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال میں شدید موسمیاتی واقعات پر بھی ہے۔
بیرونی شعبہ
۔5۔ مالی سال 27ء کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ میں 874 ملین ڈالر کا خسارہ درج ہوا۔ برآمدات بحال ہو رہی ہیں جن میں چاول، بلند قدرِ اضافی (ایچ وی اے) والی ٹیکسٹائل اور خدمات کی برآمدات آگے آگے ہیں، جبکہ کارکنوں کی ترسیلات مستحکم رہی ہیں اور تخمینہ یہی ہے کہ ترسیلات سابقہ پیش گوئی کے مقابلے میں زائد رہیں گی۔ اس کے علاوہ معاشی سرگرمیوں میں بحالی کے سبب اور بلند قیمتوں کے نتیجے میں درآمدات بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں جن میں غیر توانائی درآمدات نمایاں ہیں۔ اس پیش رفت کی بنیاد پر تخمینہ ہے کہ مالی سال 27ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سابقہ پیش گوئی یعنی جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان ہی رہے گا۔ اس کے علاوہ بلند مالی رقوم کی آمد سے توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر موجودہ سطح سے بڑھ جائیں گے۔ تاہم یہ منظرنامہ متعدد خطرات سے مشروط ہے جن میں اجناس کی بڑھی ہوئی عالمی قیمتیں، بین الاقوامی طور پر سخت مالی حالات، اور رسد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
مالیاتی شعبہ
۔6۔ مالی سال 27ء کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی سال بسال 7.0 فیصد بڑھ گئی اور 33 ارب روپے کے ہدف سے بھی آگے نکل گئی۔ اسٹیٹ بینک کے معقول منافع کی منتقلی اور اخراجات کی روک تھام کے سبب مجموعی مالیاتی اور بنیادی توازن مالی سال 27ء کی پہلی سہ ماہی میں سرپلس رہنے کا تخمینہ ہے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ کا تنازع شدید ہونے سے مالیاتی انتظام مزید دشوار ہوگیا ہے۔ اس تناظر میں زری پالیسی کمیٹی نے زور دیا کہ مالیاتی نظم و ضبط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے، ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھا کر محاصل کی وصولی میں اضافے کے لیے، اور ساختی اصلاحات پر عمل درآمد تیز کرنے کے لیے مستقل اور مشترکہ کوششیں درکار ہوں گی۔ کمیٹی نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پائیدار اقتصادی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے محتاط مالیاتی انتظام لازم ہے۔
زر اور قرضہ
۔7۔ زرِ وسیع (ایم ٹو) کی نمو جو 28 اگست کو 11.4 فیصد تھی، 9 اکتوبر تک بڑھ کر سال بسال 12.7 فیصد ہوگئی۔ اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر میں اضافہ اس کا سبب تھا جس نے اس عرصے کے دوران خالص بیرونی اثاثوں کی نمو کو بڑھا دیا۔ اسی اثنا میں خالص ملکی اثاثوں میں نمو جاری مالیاتی یکجائی اور بلند بیرونی مالکاری کے دوران سست پڑ گئی جو بینکوں سے خالص میزانی قرض گیری میں کمی کا سبب بنی۔ چنانچہ بینکوں کو گنجائش ملی کہ وہ نجی شعبے کو قرضے دیں جو سال بسال 14.1 فیصد بڑھ گئے۔ نیز، نجی شعبے کے قرضوں میں نمو وسیع البنیاد رہی یعنی جاری سرمائے، معینہ سرمایہ کاری اور صارفی مالکاری سمیت اقسام کے قرضوں میں اضافہ ہوا۔ قرضہ لینے والے اہم شعبوں میں ٹیکسٹائل، تھوک اور خردہ تجارت، اور زراعت شامل ہیں۔ امید ہے کہ تخمینے کے مطابق اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ جاری رہے گا۔
مہنگائی
۔8۔ کمیٹی نے محسوس کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں دوبارہ شدت اور گندم کی ملکی رسد میں رکاوٹیں ایسی دو بڑی وجوہات ہیں جنہوں نے مہنگائی کو بلند سطح پر رکھا ہوا ہے، اور اگر یہ دونوں وجوہات متوقع طور پر اگلے چند مہینوں میں بھی جاری رہیں تو مہنگائی کا منظرنامہ بدتر ہو سکتا ہے۔ توانائی اور گندم ، اور گندم کی مصنوعات کی بلند قیمتوں نے ستمبر میں عمومی مہنگائی سال بسال 10.3 فیصد تک پہنچانے میں اپنا نمایاں حصہ ڈالا جو کہ کمیٹی کی توقعات سے زائد رہی۔ دریں اثنا، قوزی مہنگائی تقریباً 8.4 فیصد کی بلند سطح پر جمی ہوئی ہے۔ تاہم یہ خطرہ موجود ہے کہ غذا اور توانائی کی بلند مہنگائی کے سبب مہنگائی کی توقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو مستقبل میں قوزی مہنگائی میں سرایت کرسکتا ہے۔ حالات میں آنے والی ان تبدیلیوں اور مہنگائی کے منظرنامے کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر کمیٹی کی رائے ہے کہ آج کا فیصلہ پیش بینی کی بنیاد پر حقیقی پالیسی ریٹ کو مناسب حد تک مثبت رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ مہنگائی کو وسط مدت میں ہدف کے اندر لانے کے لیے ضروری ہے۔ مہنگائی کا منظرنامہ متعدد خطرات پر منحصر ہے جن میں جغرافیائی وسیاسی کشیدگی، اجناس کی عالمی قیمتوں میں تغیر، توانائی کے نرخوں میں غیر متوقع ردوبدل، گندم اور اس کی مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ، اور شدید موسمی حالات شامل ہیں۔