مجھے عمران نیازی سے اسی اچھے کی امید نہیں ہے۔ سعید غنی
کل جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں نے فوجی جوانوں کو شہید کیا، ہم ان شہداء کی ہمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ سعید غنی
مجھے عمران نیازی سے اسی اچھے کی امید نہیں ہے۔ سعید غنی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ مجھے عمران نیازی سے اسی اچھے کی امید نہیں ہے، مذاکرات کے موقع پر وہ گلاٹی مار سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے درخواست ہے شہریوں کے مسائل کے لیے بات کریں تو شہریوں کے لیے مزید مسائل پیدا کرنے کا سبب نہ بنیں۔ کل جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں نے فوجی جوانوں کو شہید کیا، ہم ان شہداء کی ہمت کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان جوانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کی مذمت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز مسلم لیگ نون سندھ کے سنئیر نائب صدر اور سینٹرل ورکنگ کمیٹی نون لیگ رانا احسان کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری و وزیر اعلٰی سندھ کے معاون خصوصی سید وقار مہدی، ڈپٹی مئیر کراچی سلمان عبداللہ مراد، سنئیر رہنما پیپلز پارٹی حاجی چن زیب، پیپلز پارٹی بہاولنگر کے جنرل سیکرٹری رانا انتظار، سردار نزاکت، نون لیگ کے علی بھٹی، محمد سرور جٹ، عمران گجر و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ آج ہمارے لئے یہ خوشی کی بات ہے کہ ن لیگ سندھ کے سینئر نائب صدر رانا احسان نے اپنے ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت اور میں رانا احسان کو پیپلز پارٹی میں خوش آمدید کہتا ہوں ۔ سعید غنی نے کہا کہ بڑی تعداد میں مختلف سیاسی جماعتوں کے عہدیداران و کارکنان کی پیپلزپارٹی میں شمولیت سے کراچی میں پیپلز پارٹی مضبوط ہورہی ہے اور اب جہاں مقابلہ سخت ہوگا وہاں ہمارے لئے الیکشن جیتنا آسان ہوجائیگا۔
سعید غنی نے کہا کہ کل جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں نے فوجی جوانوں کو شہید کیا، ہم اس سانحہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ہم ان شہداء کی ہمت کو سلام پیش کرتے ہیں، جو اس ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے ان دہشتگردں کے سامنے شیشہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم ان جوانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کی مذمت کرتے ہیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ گذشتہ روز جماعت اسلامی نے احتجاج کیا اور پورے شہر کے ٹریفک کا نظام برباد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پر امن احتجاج کرنا چاہیے اور احتجاج اس انداز میں ہو کہ کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا وطیرہ بن گیا ہے کہ وہ ایک منظم سازش کے تحت احتجاج کی کال دیتے ہیں اور شہر کی اہم شاہراہیں بند کرتے ہیں، جبکہ گزشتہ روز انہوں جو ٹینکر گزر رہے تھے اسکا پانی سڑکوں پر چھوڑ دیا تاکہ ٹریفک مزید جام ہو اور ایک تکلیف کا جواز بناتے ہوئے پورے شہر کے لوگوں کو تکلیف دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کو پانی سپلائی کرنے والی مین لائن حادثاتی طور پر توٹ گئی اور اس لائن کی مرمت میں وقت زیادہ لگ گیا اس کو جواز بنا کر اس طرح شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دینا کسی طرح بھی مناسب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پانی کا مسئلہ شہر میں ہوا اور اس کے سدباب کے لئے اور کراچی کے پانی کی طلب اور رسد میں 50 فیصد کمی کو پورا کرنے کے لئے سندھ حکومت اقدامات کررہی ہے۔ ہم نے حب ڈیم کی پرانی کینال کی مرمت اور اس کے ساتھ نئی کینال پر کام کا آغاز کردیا ہے اور اس سے شہر کو 60 سے 70 ملین گیلن یومیہ اضافی پانی دستیاب ہوسکے گا ساتھ ہی کے فور منصوبے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے اور انشاء اللہ دسمبر 2025 تک اس سے بھی پانی کی فراہمی میں بہتری آسکے گی۔
سعید غنی نے کہا کہ ہم جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ شہریوں کے مسائل کے لیے ضرور بات کریں لیکن شہریوں کے لیے مزید مسائل پیدا کرنے کا سبب نہ بنیں۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ملک میں پانی کی تقسیم کا آئینی اور قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم میں صدر پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پانی کی تقسیم کے لیے ارسا اور سی سی آئی کا پلیٹ فارم موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور سندھ اسمبلی نے 6 کینال پر پہلے ہی سندھ اسمبلی میں قرارداد متفقہ طور پر منظوری کرلی ہے اور ارسا اور بعد ازاں ایکنک نے بھی سندھ حکومت کے تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے اس معاملے کو جب سی سی آئی میں بھیجا ہے تو واضح طور پر اس میں سندھ حکومت کے تحفظات کو مدنظر رکھتے کا کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے کچھ علاقوں کو سرسبز بنانے کے لئے ان کینال کی تعمیر سے سندھ کی زراعت شدید متاثر ہوگی اور زراعت کے متاثر ہونے سے سندھ نہیں پورا پاکستان متاثر ہوگا۔ جو علاقے پہلے سے آباد ہیں انہیں غیر آباد کیا جا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اس شہر نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب ایم کیو ایم غنڈہ گردی کرتی تھی، اب بوری بند لاشوں کا دور ختم ہوا اور سیاست کے لیے اسپیس ملا اور پیپلز پارٹی نے اپنی جگہ بنائی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبہ سندھ میں جماعت اسلامی کے پاس نو ٹاونز ہیں پی ٹی آئی کے پاس تین ہیں ، ہم سے اس سال 80 ارب زیادہ بلدیاتی اداروں کو او جی ٹی کی مد میں دئیے ہیں اور سندھ بھر کی کونسلز کا او جی ٹی میں یکساں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے پاس کراچی کے باہر کوئی یوسی نہیں ہم اگر دوسری جماعتوں کو فنڈز نہیں دینا چاہتے تو ہم اپنی یوسیز اور ٹائونز کو اسپیشل گرانٹ دے سکتے تھے لیکن ہم نے بلا رنگ و نسل و سیاست سے بالاتر تمام یوسیز جو شہری ہیں ان کو 5 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ اور دیہی کونسلز کو 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کردئیے ہیں۔ تمام کونسلز کو انصاف کے ساتھ فنڈز میں اضافہ کیا۔
ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ڈائیلاگ ہر صورتحال میں ہو سکتے ہیں۔ لیکن مجھے عمران خان سے امید نہیں کہ وہ سیاسی اپروچ لائیں گے۔ مذاکرات سے ہم وہ سب نہیں بھول سکتے جو نو مئی کو ہوا تھا اور کم از کم مجھے ذاتی طور پر عمران خان سے اچھے فیصلے کی کوئی امید نہیں ہے اور یہ کسی بھی وقت گلاٹی مار سکتا ہے کیونکہ ان کو جو ملک دشمن بیرون ملک سے فنڈنگ کررہے ہیں وہ پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام نہیں چاہتے اس لئے وہ اپنے بیرونی آقائوں کو کیا جواب دے گا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام گذشتہ 2 سے 3 سال بہتر ہورہا ہے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے مسلم لیگ نون کے سنئیر نائب صدر رانا احسان نے کہا کہ ان کے ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں عہدیداران و کارکنان نے آج شمولیت کرنا تھا اب ان کی شمولیتی پروگرام وہ اپنے حلقے میں کروں گا اور اس میں کثیر تعداد میں لوگوں کو پی پی میں شمولیت کروائیں گے۔
رانا احسان نے کہا کہ میں مسلم لیگ نون کے مختلف عہدوں پر رہا ہوں۔ مرکزی و صوبائی عہدوں پر فائز رہا، 2018 کے انتخابات میں قومی اور صوبائی دو انتخاب لڑے تھے۔ جب شہر میں دہشتگردی کا راج تھا،تو میرے بھائی نے شہادت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کئی عرصے بعد میں اپنے نظریے کو بدلا اسکی وجہ پیپلز پارٹی ہے کیونکہ اس شہر کی مقبول جماعت پیپلز پارٹی ہے اور پیپلز پارٹی ہمیشہ اپنے کارکنان کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑی ہوتی ہے۔ رانا احسان نے کہا کہ میں جس پارٹی میں رہا وہاں بہت سی خامیاں تھی۔ اب میرا جینا مرنا پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری و وزیر اعلٰی سندھ کے معاون خصوصی سید وقار مہدی نے کہا کہ رانا احسان پرانے سیاسی کارکن ہیں۔ آج رانا احسان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ ملک کی ترقی کے لیے کام کر رہی ہے او4 پیپلز پارٹی پر لوگوں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔ وقار مہدی نے کہا کہ پچھلے بلدیاتی انتخابات میں کراچی کے شہریوں نے پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا اور پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔
انہوں نے کہا کہ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی سترہویں برسی گڑھی خدا بخش میں ہے، مرکزی تقریب گڑھی خدا بخش میں منعقد ہوگی، جس میں شریک چیئرمین و صدر پاکستان آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر مرکزی قیادت شرکت کرے گی۔ بعد نماز جمعہ برسی کی تقریبات کا آغاز کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ تقریب میں شرکت کے لئے سندھ بھر اور بالخصوص کراچی سے ہزاروں کی تعداد میں کارکنان گڑھی خدا بخش روانہ ہوں گے۔