Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

ایم کیو ایم نے وزارتیں، عہدے اور پیکیجز مانگنے کے بجائے صرف ایک نکاتی ایجنڈے پر حکومت میں شمولیت اختیار کی۔ مصطفیٰ کمال

ایم کیو ایم نے یہ طے کیا بلدیاتی اختیارات کا بل کابینہ میں پیش نہ ہوا تو 27 ویں ترمیم پر ووٹ دینے کے بعد ہم وزارتوں سے احتجاجا استعفے دیں گے، سید مصطفی کمال

0

ایم کیو ایم کی جدوجہد کے باعث پنجاب اسمبلی نے یک زباں ہو کر بلدیاتی اختیارات کی قرارداد پیش کی جو کہ ہماری مجوزہ آئینی ترمیم کی حمایت ہے۔ سینئر مرکزی رہنما سید مصطفی کمال

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بہادرآباد مرکز پر اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی مجوزہ آئینی ترمیم اب صرف کراچی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ پورے پاکستان کا معاملہ بن چکا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کی یہ جدوجہد کئی سالوں کی مسلسل محنت اور تحقیق کا نتیجہ ہے، جس پر پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں، علماء کرام، این جی اوز، صحافیوں، وکلاء برادری، سوشل ورکرز سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو دعوت دی اور بیٹھ کر برین اسٹورمنگ کی، تجاویز شامل کیں۔ یہاں تک کہ آج پنجاب اسمبلی نے یک زبان ایک قرارداد پیش کی جو من و عن ایم کیو ایم پاکستان کی مجوزہ آئینی ترمیم کی حمایت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینئر مرکزی رہنما انیس قائم خانی، سینیٹر فیصل سبزواری، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سی او سی انچارج فرقان اطیب سمیت کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ 2024 میں پہلی بار پاکستان کی تاریخ میں ایم کیو ایم نے وزارتیں، عہدے اور پیکیجز مانگنے کے بجائے صرف ایک نکاتی ایجنڈے پر حکومت میں شمولیت اختیار کی۔ ہم نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جو ایگریمنٹ کیا وہ صرف اور صرف ہماری آئینی ترمیم کی حمایت کے لیے تھا، کوئی وزارت، کوئی ٹھیکہ اور کوئی ذاتی مفاد شامل نہیں تھا۔ لیکن جب ایم کیو ایم نے چھبیسویں ترمیم کے موقع پر اپنا بل پیش کیا تو ہمارے پاس نمبرز کم تھے، اور ملک کو درپیش چیلنجز کی وجہ سے اس بل کو اس وقت موخر کر دیا گیا۔ ہمارا بل لاء اینڈ جسٹس کی قائمہ کمیٹی میں رہا، ایک سال بعد جب ستائیسویں ترمیم کا موقع آیا تو پیپلز پارٹی کے علاوہ پاکستان کی تمام پارٹیز نے ایم کیو ایم کے بل کی حمایت کی۔

جس کی وجہ سے ایک ڈیڈلاک پیدا ہوا اور قومی مفاد میں وزیراعظم نے ہم سے گزارش کی کہ اس معاملے کو اگلی ترمیم کے لیے روک دیا جائے۔ یہ بل مردہ نہیں ہوا، یہ زندہ ہے۔ جیسے 26ویں ترمیم کے بعد یہ زندہ رہا، ویسے ہی 27ویں ترمیم کے بعد بھی زندہ ہے۔ عوام کے حقوق کا یہ آئینی بل انشاءاللہ آنے والے مہینوں میں اسمبلی میں آئے گا اور عوام کے گھروں تک اختیارات اور وسائل پہنچیں گے۔ مصطفیٰ کمال نے وفاقی کابینہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور میں کیبنٹ میٹنگ سے قبل یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ اگر یہ ترمیم کیبنٹ میں نہ لائی گئی تو ملکی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ترمیم کے حق میں ووٹ دیں گے تاکہ کوئی منفی تاثر نہ جانے لیکن اس کے بعد ہم استعفیٰ دے دیں گے لیکن کابینہ نے خود اس بل کی حمایت کی اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس کو میڈیا پر لا کر مکمل تائید کا اعلان کیا۔

نیز پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب نے متفقہ قرارداد منظور کر کے وہی باتیں مان لی ہیں جو ہماری آئینی ترمیم میں شامل ہیں۔ یہ ایم کیو ایم کی جدوجہد اور سیاسی تحریک کا اثر ہے کہ آج پورا پاکستان اس مطالبے کی آواز اٹھا رہا ہے کیونکہ اب یہ ایڈمنسٹریٹو معاملہ نہیں رہا، یہ پاکستان کی قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔ بلوچستان میں ایک ایم این اے اپنے حلقے کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تین دن میں پہنچتا ہے۔ ایسی صورتحال میں لوگوں کی ضروریات کیسے پوری ہوں؟ جب اختیارات نچلی سطح پر نہیں ہوں گے تو محرومیاں جنم لیں گی، لوگ پہاڑوں پر جائیں گے اور ریاست پھر فوج کو انھیں روکنے کے لیے بھیجتی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کراچی کے معاشی استحصال پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کراچی کو 2006 تک جی ایس ٹی کا 2.5% براہِ راست ملتا تھا بعد میں جی ڈی پی کا 1/6 براہِ راست ڈسٹرکٹ کو جاتا تھا لیکن 2010 کی ساتویں این ایف سی ترمیم کے بعد سب پیسہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں پارک ہونے لگا، کراچی کو اس سال 850 ارب روپے ملنے چاہیے تھے جبکہ حقیقت میں ایک سو ارب روپے بھی نہیں دیے گئے۔ پچھلے 17 سالوں میں کراچی کو 3000 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

مصطفیٰ کمال نے سابق چیف جسٹس گلزار احمد کے تاریخی فیصلے کا حوالہ دیا جس میں سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ آرٹیکل 140 اے صرف ایک روایتی شق نہیں، بلکہ آئین کی اس روح کی علامت ہے جو عوام کو بااختیار بنانے کا تقاضا کرتی ہے۔ بلدیاتی حکومتیں آئینی ادارے ہیں اور صوبے اُن کے اختیارات ختم نہیں کر سکتے۔ جسٹس گلزار احمد کے فیصلے نے یہ مؤقف مضبوط کیا کہ اختیارات کی مرکزیت قومی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اور پاکستان میں دیرپا ترقی اسی وقت ممکن ہے جب شہر اپنے فیصلے خود کر سکیں۔

Comments
Loading...