Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

کراچی سمیت حیدرآباد، سکھر اور میرپور خاص کے لیے بھی ماسٹر پلان کی تشکیل لازمی ہے۔علی خورشیدی

ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں سینئر مرکزی رہنماؤں نسرین جلیل،خواجہ اظہار الحسن کے ہمراہ قائد حزبِ اختلاف سندھ اسمبلی و اراکین اسمبلی اور وکلاء کی اہم پریس کانفرنس

0

کراچی سمیت حیدرآباد، سکھر اور میرپور خاص کے لیے بھی ماسٹر پلان کی تشکیل لازمی ہے۔علی خورشیدی

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی رہنما خواجہ اظہار الحسن نے مرکز بہادرآباد میں وکلاء کی ٹیم اور مرکزی کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ طارق منصور اور پوری ایم کیو ایم کی ٹیم کو کراچی اسٹریٹیجک ماسٹر پلان پر قانونی کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ عوامی مسائل کا یہ مقدمہ ایم کیو ایم تسلسل سے لڑتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے ہماری درخواست پر اداروں کو پابند کیا ہے کہ وہ ماسٹر پلان پر عملدرآمد یقینی بنائیں، جس کے نتیجے میں کرپشن کے حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ خواجہ اظہار الحسن نے پیپلز پارٹی پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے کرپشن اور لوٹ مار کا دوسرا نام قرار دیا اور کہا کہ 2007 میں ورلڈ بینک کے تعاون سے تیار کیے گئے کراچی اسٹریٹیجک ماسٹر پلان کو 2018 میں منظور کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی نے اسے اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا، کیونکہ اگر اس پلان پر عملدرآمد ہو جاتا تو بلڈنگ مافیا اور واٹر مافیا کے عزائم خاک میں مل جاتے اور پیپلز پارٹی کے وزراء کنگال ہو جاتے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ سندھ حکومت نے بلاول بھٹو کے وژن کے مطابق سولر انرجی کے منصوبے کے نام پر ورلڈ بینک پروجیکٹ کے 26 ارب روپے ہڑپ کرلیے ہیں۔ خواجہ اظہار الحسن نے عسکری قیادت سے مطالبہ کیا کہ کور کمانڈر کراچی کے ذریعے کنٹونمنٹ ایریاز میں بھی ماسٹر پلان پر فوری عملدرآمد کروایا جائے کیونکہ یہ شہر یتیم خانہ بن چکا ہے جس کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے۔ اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے زور دیا کہ ایم کیو ایم پاکستان شہری سندھ کی سب سے بڑی جماعت ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی ہی نہیں، حیدرآباد، سکھر اور میرپور خاص سمیت سندھ کے تمام بڑے شہروں کے لیے ماسٹر پلان بنایا جائے اور متحدہ قومی موومنٹ اس کے نفاذ تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ 02 دسمبر کو عدالت عالیہ کے سامنے تمام ادارے بیان حلفی جمع کروائیں گے۔

ایڈوکیٹ طارق منصور نے کہا کہ سندھ حکومت بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرانے منظور شدہ ماسٹر پلان کو پس پشت ڈال رہی ہے اور ہمارے کیس کے بعد نئے ماسٹر پلان کے لیے 2 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں، اور اب اپنی کرپشن چھپانے کے لیے قانون تبدیل کرکے سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کو شہر پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے پبلک سرونٹس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومتی سازش کا حصہ نہ بنیں کیونکہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این او ڈی سی کے تحت یہ کام بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے اور انکوائری کمیشن بننے پر بین الاقوامی کنونشن کے تحت ان پر کارروائی لازمی ہوگی۔

اس موقع پر پریس کانفرنس میں سینیٹر خالدہ اطیب،اراکینِ اسمبلی احمد سلیم صدیقی، سکندرا خاتون، عامر صدیقی، معاذ محبوب، عادل عسکری اور ایڈوکیٹ نعیم صدیقی، ایڈوکیٹ محمد جیوانی اور وکلاء ٹیم کے اراکین بھی موجود تھے۔

Comments
Loading...