محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے “اسٹوڈنٹ-ٹیچر ریشو” اقدامات پر عمل درآمد کرتے ہوۓ اساتذہ کی تعیناتی کردی گئی۔
وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی ہدایت پر سرکاری اسکولز میں طلباء کے تناسب (ایس ٹی آر) کے تحت اساتذہ کی تعیناتی کا عمل شروع
سندھ کے تمام وائبل اسکولز فعال ہو چکے ہیں، استاد ایمانداری کے ساتھ ڈیوٹی سرانجام دیں۔ سردار شاہ
کراچی : وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی ہدایت پر سرکاری اسکولز میں طلباء کے تناسب (ایس ٹی آر) کے تحت اساتذہ کی تعیناتی کا عمل شروع۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے “اسٹوڈنٹ-ٹیچر ریشو” اقدامات پر عمل درآمد کرتے ہوۓ اساتذہ کی تعیناتی کردی گئی۔ پہلے مرحلے میں 4588 اساتذہ کی تعیناتی کے آرڈرز جاری۔ اساتذہ کی تعیناتی ضروت اور سہولت کے مطابق ان کے اپنے تعلقہ سطح پر کی گئیں ہیں۔ اس تعیناتی کا مقصد طلبہ و طالبات کی ضرورت کے مطابق اسکولز میں اساتذہ کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔ اسی ٹی آر پر عمل درآمد کی وجہ سے 320 ایسے اسکول کو استاد مل گئے ہیں جہاں کے استاد رٹائر یا انتقال کی وجہ سے کوئی استاد تعینات نہیں تھا۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے ایک استاد کی مدد سے چلنے والے 989 اسکولز کو مزید استاد مہیا کردیے ہیں۔ طلباء کے تناسب سے اساتذہ کی تعیناتی سے 1205 اسکولز کو مزید فعال بنانے میں مدد ملے گی۔
اپنے ایک جاری کردہ بیان میں وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ* نے کہا ہے کہ سندھ حکومت اسکولز میں اساتذہ کی دستیابی یقینی بنا رہی ہے۔ سردار شاہ نے کہا کہ سندھ کے تمام وائبل اسکولز فعال ہو چکے ہیں، استاد ایمانداری کے ساتھ ڈیوٹی سرانجام دیں۔ ایس ٹی آر کے عمل کو مرحلہ وار جاری رکھا جاۓ گا۔ کسی بھی اسکول میں استاد کے رٹائرمینٹ یا انتقال کی صورت میں اسکول کو ایس ٹی آر کے تحت فوری استاد مہیا کردیے جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے علاقوں کے اسکولز کی اونرشپ لیں۔
انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی حاضری کے حوالے سے نگرانی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔