ایم کیو ایم کے دور میں کیئے جانے والے کام پچھلے پچاس سالوں میں کیے جانے والے کاموں پر بھاری ہیں۔ سید مصطفی کمال
بنیادی سہولیات نا ہونے کے باوجود اپنی نسلوں کو پروان چڑھانے والی اس شہر کی خواتین کا کردار لائق تحسین ہے۔ سید مصطفی کمال
ایم کیو ایم کے دور میں کیئے جانے والے کام پچھلے پچاس سالوں میں کیے جانے والے کاموں پر بھاری ہیں۔ سید مصطفی کمال
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سرجانی ٹاؤن کے زیر اہتمام خدا کی بستی میں عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں خواتین کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب سے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رات کے اس پہر میں خواتین کی کثیر تعداد کا موجود ہونا پاکستان میں امید کے چراغ روشن ہونے کے مترادف ہے ہمارے اجداد صرف اپنے حصّے کا ہی نہیں بلکہ یہاں پہلے سے موجود قومیتوں کا پاکستان بھی اپنے ساتھ لائے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سب کو برابر کا پاکستانی سمجھتی ہے آنے والا وقت ایم کیو ایم کا ہے تاریخ میں پہلی بار ایم کیو ایم اپنی درست سمت کی جانب گامزن ہے، جب گلی گلی باڑ محلہ محلہ حصار تھا تب بھی اس شہر کی خواتین کے حوصلے کوئی طاقت پست نہیں کر سکی تھی اب یہ شہر کسی بھی جبر کو سہنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ہماری دلیل کا وزن مخالفین کے تمام ہتھیار ناکارہ کرنے کے لئے کافی ہے انکا مزید کہنا تھا کہ اس عام انتخابات میں سلیکٹڈ نہیں عوام کا الیکٹڈ نمائندہ جیتے گا۔
سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفی کمال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے علاؤہ اس شہر میں اور کوئی آپشن موجود نہیں ہے پندرہ سالوں میں مسلسل حکمرانی کرنے کے باوجود اس شہر کا انفراسٹرکچر تباہ و برباد ہے ایم کیو ایم کے دور نظامت میں اس خدا کی بستی کو شہر سے جوڑا گیا تھا اس کے بعد سے آج تک یہاں کوئی ترقیاتی کام نہیں کئے گئے۔
سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کے دور میں کیے جانے والے کام پچھلے پچاس سالوں میں کیے جانے والے کاموں پر بھاری ہیں اس معاشرے میں سب سے زیادہ ظلم ہماری خواتین پر ہوا ہے بنیادی سہولیات نا ہونے کے باوجود اپنی نسلوں کو پروان چڑھانے والی اس شہر کی خواتین کا کردار لائق تحسین ہے ایم کیو ایم کی جدو جہد کے توسط سے اب ظلم کی رات کا خاتمہ ہونے جارہا ہے یہ صرف ایک ٹاؤن کی بہنیں بیٹیاں موجود ہیں جابر حکمران دیکھ لیں کہ اس شہر کی خواتین اپنا حق لینا جانتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی جد و جہد یہی ہے کہ اختیارات و وسائل وزیر اعلیٰ ہاؤس سے نکل کر خدا کی بستی کے گھروں میں دستیاب ہوں 08 فروری 2024ء کو ایم کیو ایم کی صرف خواتین ہی متعصب پیپلز پارٹی کے ظالموں کا اس صوبے سے صفایا کرنے کیلئے کافی ہوں گی۔
سینئر ڈپٹی کنوینر نسرین جلیل نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں خواتین کی یہاں موجودگی اِس بات کی غمازی کر رہی ہے کہ ایم کیو ایم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا یہ بہنیں بیٹیاں ایم کیو ایم کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں اِس بار خواتین ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو چوری کیئے جانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوں گی۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں باصلاحیت خواتین کی کثیر تعداد موجود ہیں جو مردوں سے کسی صورت کم نہیں ہیں۔
رکن رابطہ کمیٹی کشور زہرا نے کہا کہ یہاں موجود خواتین اُنکی اولادوں میں سے ہیں جو اپنی عزتیں پامال کروا کر اِس مُلک کو دُنیا کے نقشے پر معرض وجود میں لائے ملک بنانے کے بعد اپنے حقوق لینے کی جدو جہد میں اِس شہر کی خواتین کا کردار مسلّم رہا ہے ان خواتین نے اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ ہر جبر کا مقابلہ ڈٹ کر کیا مگر ظُلم کے آگے کبھی سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دنوں رخشندہ اس شہر کی بیٹی اور ایک قابل ترین ٹیچر کو ڈکیتی کی واردات میں قتل کردیا انکا کوئی پرسان حال نہیں اس شہر کو ڈکیتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
رکن رابطہ کمیٹی ڈاکٹر نکہت شکیل نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات میں ایم کیو ایم ہر اُس نشست کو واپس لے گی جو 2018 میں چھین لی گئی تھیں اور یہ عوام اب اس شہر کے ساتھ کسی بھی نا انصافی پر اب مزید خاموش نہیں رہے گی اپنے حق کیلئے آواز ہر فورم پر آواز بلند کرے گی۔ رکن رابطہ کمیٹی بلقیس کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی خواتین کسی صورت مردوں سے کم نہیں یہ سعادت ایم کیو ایم ہی کی خواتین کے حصّے میں آئی کہ ظُلم کے دور میں اپنے بھائیوں کے جنازے پڑھائے چند مفاد پرست لوگوں کی شمولیت سے پیپلز پارٹی کی قیادت کسی خام خیالی میں نا رہے کراچی انہیں مسترد کر چُکا ہے۔
رکن رابطہ کمیٹی آسیہ اسحاق نے کہا کہ آج کا یہ صرف ایک ٹاؤن کا خواتین کنونشن مخالفین کی نیندیں حرام کرنے کے لیئے کافی ہے ایم کیو ایم پورے سندھ سے اِن غاضبوں کا صفایا کرے گی 2018 میں مصنوعی قیادت کے ذریعے اِس شہر کو حقیقی قیادت سے محروم کردیا گیا تھا۔ آسیہ اسحاق کا مزید کہنا تھا کہ اِس شہر کی خواتین نظریاتی سیاست کرتی ہیں نا کہ شخصیات کی ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کے حلق سے شہری آبادی کو بازیاب کروایا ہے۔
رکن رابطہ کمیٹی صوفیہ سعید نے کہا کہ بُنیادی ضروریات زندگی کی عدم دستیابی کا سب سے زیادہ اثر خواتین پر پڑتا ہے دُنیا تسلیم کرتی ہے کہ اِس شہر کو ترقی کے دور میں دوبارہ صرف ایم کیو ایم لے کر جا سکتی ہے۔
رکن رابطہ کمیٹی و سابق اپوزیشن لیڈر برائے سندھ اسمبلی رعنا انصار نے کہا کہ 08 فروری 2024 کا سورج ایم کیو ایم کی فتح کی نوید لےکر طلوع ہونے والا ہے ایم کیو ایم پاکستان میں خواتین کی عزت کو مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اس شہر پر گزشتہ 15 سالوں سے مسلط حکمران نے اس شہر کو خستہ حالی کا شکار کردیا ہے جو کہ سب کے سامنے ہے 2018 کے انتخابات میں یہاں کے عوام پر مزید ایک ٹولے کو لا کر مسلط کیا کہ جس نے تقریروں میں اس ملک اور شہر کراچی کی ترقی کیلئے بے شمار کاموں کا زکر کیا لیکن اس کو کبھی عملی جامہ نہیں پہنایا ۔
رکن رابطہ کمیٹی نائلہ منیر نے کہا کہ خُدا کی بستی میں خُدا کی نصرت سے آج صرف ایک ٹاؤن کی خواتین کا کنونشن ہے میں مخالفین کو دعوت دیتے ہیں وہ آئیں اور دیکھیں 8 فروری کے دن اپنی ہونے والی شکست کا اندازہ آج کے اس خواتین کنونشن سے کرلیں۔ رکن رابطہ کمیٹی منگلہ شرما نے کہا کہ خواتین نے ہمیشہ ایم کیو ایم میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے تمام تر نا مصائب حالات میں ایم کیو ایم کو مضبوط اور مستحکم کرنے میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔
رکن رابطہ کمیٹی کرن کاشف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 08 فروری کے دن سرجانی کے عوام ایک مرتبہ پھر سے ثابت کر دینگے یہ حلقہ ایم کیو ایم کا ہے اور اس کیلئے ایم کیو ایم قیادت کو پیشگی مبارکباد پیش کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اس شہر سے محظ چند ووٹوں کے عوض ٹاؤن ناظمین اور میر شپ حاصل کرنے والے یہ نا سمجھیں کہ ایم کیو ایم کو کلین سویپ کر دیا اس شہر سے وہ یہاں آئیں اور دیکھیں ایم کیو ایم اس شہر کے عوام کے دلوں میں بستی ہے اور یہ میر شپ بھی ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کی بھیک میں ملی ہے۔
اس موقع پر ڈپٹی کنوینر انیس احمد قائم خانی، رکن رابطہ کمیٹی و سابق وفاقی وزیر سید امین الحق و دیگر اراکین رابطہ کمیٹی، انچارج سی او سی فرقان اطیب و اراکینِ سی او سی، شعبہ خواتین کی انچارج و اراکینِ ، سرجانی ٹاؤن کی حق پرست خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔