Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

بلدیات کے منتخب نمائندے اور ملازمین 24 گھنٹے بارشوں کے بعد عوام کو مشکلات سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔ سعید غنی

ہم نے جو تیاریاں کی ہیں اگر بارش اتنی ہی ہوئی تو ہم معاملات کو کنٹرول کرلیں گے لیکن اگر بارش زیادہ ہوئی تو عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سعید غنی

0

بلدیات کے منتخب نمائندے اور ملازمین 24 گھنٹے بارشوں کے بعد عوام کو مشکلات سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔ سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات، ہائوسنگ ٹائون پلاننگ، پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ و رورل ڈویلپمنٹ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ ایسے ہی چلتے رہا تو دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اس وقت دنیا میں دو خطے ایسے ہیں جہاں رہنے والے لوگ ظلم و بربریت کا شکار ہیں، ایک فلسطین اور دوسرا کشمیر ہے۔ جب کشمیر اور فلسطین کی بات آتی ہے تو بڑے بڑے چیمپئنز کی زبانوں کو تالا لگ جاتا ہے۔ میں اب بھی یہی بولتا ہم زیادہ بارش کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے تحت یوم استحصال جموں و کشمیر کی مناسبت سے تصویری نمائش کے افتتاح کے بعد خطاب اور میڈیا کے سوالات کے جواب میں کیا۔ اس موقع پر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ہے صدر احمد شاہ، سردار نزاکت، دانش خان، بشیر سدوزئی و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت دنیا میں دو خطے ایسے ہیں جہاں رہنے والے لوگ ظلم و بربریت کا شکار ہیں، جن میں ایک فلسطین اور دوسرا کشمیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں انسانی حقوق کے چیمپئنز پوری دنیا میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر آواز اٹھاتے ہیں، لیکن یہ چیمپئنز فلسطین اور کشمیر کے حقوق پر خاموش رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے جموں کشمیر میں ظلم کی ایک نئی لہر چل پڑی، جب بھارت نے کشمیر کی حیثیت کو ختم کر دیا۔ سعید غنی نے کہا کہ نمائش میں ان تصاویر میں بزرگ، بچے اور جوان مظالم کا مقابلہ کرتے نظر آرہے، ان کشمیر میں بسنے والے بھائی بہنوں نے ایک تاریخ رقم کی ہے۔ دنیا کی بڑی فوج کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام مظالم کے باوجود جہاں سینکڑوں نواجوان کو قتل کیا گیا اور 6 ہزار سے زائد کشمیریوں کو غائب کردیا گیا اس کے باوجود آج تک کشمیر میں جدوجہد کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔سعید غنی نے کہا کہ ہم ہر سال 5 اگست کو یوم استحصال جموں و کشمیر منانے کا مقصد کشمیر کے عوام کو احساس دلائیں پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مظالم ایسے ہی چلتے رہے تو دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ان مظالم کو روکنے کے لیے دنیا کی بڑی طاقتیں سامنے نہیں آتیں تو ذمے دار یہی طاقتیں ہوں گی۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ بارش کوئی ایسی چیز نہیں کے آئے اور گزر جائے، ہمیں اپنے لوگوں سے سچ بولنا چاہیے،

انہوں نے کہا کہ دبئی اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی بارشوں کے بعد مشکلات آجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اب بھی یہی بولتا ہوں کہ ہم زیادہ بارش کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ہم نے جو تیاریاں کی ہیں اگر بارش اتنی ہی ہوئی تو ہم معاملات کو کنٹرول کرلیں گے لیکن اگر بارش زیادہ ہوئی تو عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہہ سکتے کے ہماری تیاریاں نہیں ہیں۔ بلدیات کے منتخب نمائندے اور ملازمین 24 گھنٹے بارشوں کے بعد عوام کو مشکلات سے بچانے کے لیے تیار ہیں اور اب تک جتنی بارشیں ہوئی ہیں۔

انہوں نے اپنی سکت سے زیادہ کام کرکے عوام کو ریلیف پہنچایا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ میں انجینیر نہیں کہ کوئی ماہرانہ رائے دوں، بارشوں کے موسم میں پانی زمین میں جاتا ہے تو زمین اپنی جگہ چھوڑ دیتی ہے، زمین کے جگہ چھوڑنے کے باعث روڈ بیٹھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو سڑکیں خراب ہوتی ہیں ان کے کنٹرکٹرز کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

Comments
Loading...