سید ناصر حسین شاہ کی ہدایات پرشہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فیصلہ کن اور بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔
تمام کارروائیاں منظور شدہ نقشے کے برعکس تعمیر شدہ غیر قانونی حصوں کے خلاف کی گئیں۔
سید ناصر حسین شاہ کی ہدایات پرشہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فیصلہ کن اور بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔
کراچی : سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے جانب سے شاہراہ فیصل پے قائم پارسا ٹاور سمیت گلشناقبال، کورنگی اللہُ والا ٹاؤن اور کیاماڙی میں انہدامی کاروائیاں صوبائی وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی ہدایات پر ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو کی سربراہی میں شہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فیصلہ کن اور بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ترجمان سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق، اتھارٹی نے رواں سال کے دوران اب تک 1756 غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد عمارتوں میں نقشہ جاتی خلاف ورزیوں اور غیر منظور شدہ تعمیرات کو مسمار کیا ہے۔آج کی نمایاں کارروائیاں
پارسا ٹاور، پی ای سی ایچ ایس
شارع فیصل پر واقع جی+14 پارسا ٹاور میں تعمیر شدہ غیر قانونی پینٹ ہاؤس کو ڈیمولیشن ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے مسمار کر دیا۔گلشنِ اقبال پلاٹ نمبر اے-02، بلاک 5 پر قائم جی+2 غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ڈسٹرکٹ ایسٹ میں کارروائی عمل میں لائی گئی اور تعمیرات کو مکمل طور پر گرا دیا گیا۔ اللہ والا ٹاؤن، کورنگی پلاٹ نمبر اے-09، سیکٹر 31-اے پر بغیر منظور شدہ نقشے کے تعمیر شدہ جی+2 عمارت کو ایس بی سی اے نے مسمار کیا۔
بی ایم سی ایچ ایس / کے سی ایچ ایس یونین لمیٹڈ
پلاٹ نمبر 172، بلاک 03 میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بھی ایس بی سی اے کا ایکشن، خلاف ورزی والے حصے مسمار کیے گئے۔
کورنگی — دوبارہ کارروائی کرتے ہوئے پلاٹ نمبر اے-09، سیکٹر 31-اے پر دوبارہ نقشہ جاتی خلاف ورزیوں کی نشاندہی پر ایس بی سی اے ڈیمولیشن ٹیم نے ایک اور کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات گرادیں۔
ڈسٹرکٹ کیماڑی
پلاٹ نمبر ایف-12، بلاک 3 میں چوتھی منزل کی غیر قانونی تعمیر کے خلاف ڈیمولیشن عمل مکمل کرلیا گیا۔
ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا کہ تمام کارروائیاں منظور شدہ نقشے کے برعکس تعمیر شدہ غیر قانونی حصوں کے خلاف کی گئیں۔ڈائریکٹر جنرل کا مزید کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے جانب سے مستقبل میں بھی شہر کراچی کو محفوظ اور قواعد و ضوابط کے مطابق ترقی دینے کے لیے ایسے آپریشن روزانہ کے بنیاد پر جاری رہینگی۔