جو لوگ ایمانداری سے وقت پر بل ادا کرتے ہیں ان کو 24 گھنٹے بلا تعطل بجلی ملنی چاہیے۔ سعید غنی
بجلی کا اشیو ہمارے کنٹرول سے باہر ہے اور کے الیکٹرک کی پالیسیاں بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔سعید غنی
جو لوگ ایمانداری سے وقت پر بل ادا کرتے ہیں ان کو 24 گھنٹے بلا تعطل بجلی ملنی چاہیے۔ سعید غنی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات، ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ و پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کسی ملک کی ترقی اور مزدورکےحالات اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتے جب تک صنعتوں کےحالات بہتر نہیں ہوں گے۔ کراچی میں بجلی کا اشیو ہمارے کنٹرول سے باہر ہے اور کے ای کی پالیسیاں بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔شہر کراچی میں اس وقت جتنے بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام ہورہے ہیں اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ کاٹی کے مسائل کے حل کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے گی، جس میں محکمہ بلدیات کے تمام ڈپارٹمنٹ کے ایک ایک افسران کو شامل کیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں منعقدہ تقریب اور بعد ازاں میڈیا کے سوالات کے جواب میں کیا۔ تقریب سے کاٹی کے صدر سید جوہر علی قندھاری، ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا، سنئیر نائب صدر نگہت اعوان، نائب صدر مسلم محمدی، قائمہ کمیٹی برائے کاٹی مسعود نقی، سی ای او کائٹ لمیٹڈ زاہد سعید، کاٹی کے سابقہ صدور و چیئرمین دانش خان، گلزار فیروز، فرحان الرحمان، ایس ایم یحیی، احتشام الدین، شیخ عمر ریحان جبکہ اس موقع پر ڈی جی ایس بی سی اے عبدالرشید سولنگی، ڈی جی کے ڈی اے شجاعت حسین، ایم ڈی سولڈ ویسٹ امتیاز شاہ، ایم سی کے ایم سی افضل زیدی، ٹائون چیئرمین کورنگی نعیم شیخ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ میں قانون موجود ہے اور اگر کسی جگہ مختلف اگر ٹائون میں اگر کوئی مسئلہ ہے تو اس کے لئے لوکل گورنمنٹ کمیشن بنا ہوا ہے اور کاٹی کے صنعتکاروں کو جو مسائل ٹائون کی حدود کو لے کر جو مسئلہ ہے وہ اس وقت کمیشن کے پاس ہے اور اس کا فیصلہ کسی قسم کے دبائو کے بغیر کیا جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ بجلی کا اشیو ہمارے کنٹرول سے باہر ہے اور کے الیکٹرک کی پالیسیاں بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ادارہ اپنی جیب سے خرچ کرکے بجلی فراہم نہیں کرسکتا یہ ہم جانتے ہیں، لیکن اصل اشیو یہ ہے کہ جو بجلی کے بل بروقت ادا کرتے ہیں اور بجلی چوری نہیں کرتے وہ لوڈشیڈنگ کا عذاب کیوں بھگتے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے ماضی میں فاٹا میں جو مشترکہ سزا کا قانون تھا جو اب وہاں بھی نہیں ہے وہ اپنے ادارے میں رائج کررکھا ہے اور ڈھٹائی سے اس کو مانتے بھی ہیں۔
سعید غنی نے کہا کہ اگر کوئی بجلی کے بل ادا نہیں کرتا اور چوری کرتا ہے تو اس کے خلاف بالکل کارروائی ہونے چاہیے لیکن کے الیکٹرک کے پاس کوئی نظام نہیں ہے تو پھر وہ کریں کہ یا تو سب کی بجلی بند کردیں یا سب کو بجلی فراہم کردیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسمبلی کے فلور پر بھی اور کے الیکٹرک کی انتظامیہ سے گذشتہ روز ہونے والی مٹینگ میں بھی کہا کہ یہ کمرشل بات نہیں بلکہ انسانی اشیو ہے، ان کے پاس سسٹم نہیں تو وہ سسٹم بنائیں۔ جو لوگ ایمانداری سے وقت پر بل ادا کرتے ہیں ان کو 24 گھنٹے بلا تعطل بجلی ملنی چاہیے۔ روڈ کٹینگ کے حوالے سے کاٹی کی جانب سے کئے گئے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ قانون میں واضح ہے کہ روڈ جو بناتا ہے وہی روڈ کٹینگ کی اجازت اور اس کے چارجز لیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا بخوبی علم ہے کہ صنعتوں کو پانی کے حصول میں مشکلات ہیں اور اس شہر میں پانی اور سیوریج کے مسائل ہیں اس سلسلے میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج امپرومنٹ پروگرام کے تحت 1.6 ارب ڈالر کی مالیت سے ایک منصوبہ شہر کے پانی اور سیوریج کے حوالے سے کام کررہا ہے اور اس کے مختلف فیز ہیں جس میں سے پہلا فیز مکمل ہونے والا ہے اور دوسرے فیز پر کام شروع کردیا گیا ہے، جس کے بعد پانی اور سیوریج کے مسائل کو کئی حد تک کنٹرول کرنے میں ہم کامیاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملیر ایکسپریس وے کا منصوبہ اس شہر کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے اور اس کے ثمرات کاٹی کے صنعتکاروں کو بھی حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مہران ٹائون کے متعدد اشیوز ہیں، ایک تو وہاں صنعتیں لگ گئی ہیں بہت ساری چیزیں ہم اپنے معزز جج صاحبان کو بتانا چاہتے ہیں، جو ہم کورٹ میں نہیں بتا سکتے۔ ہم چاہتے ہیں معزز جج صاحبان کبھی ہمیں وقت دیں تو ہم ان کو ان کے چیمبر میں جاکر شہر کے حوالے سے بریفنگ دیں۔
انہوں نے کہا کہ کاٹی کے ممبران کی جانب سے ڈیشلینیش پلانٹ کی بات کی گئی ہے، اس پر بھی موجودہ صوبائی حکومت کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے پانی کے پانی کے مسائل کے لئے کئی منصوبے جاری ہیں، جس میں سے حب سے 100 ایم جی ڈی پانی جو وہاں سے فراہمی کے راستوں کی وجہ سے صرف 70 ایم جی ڈی ہورہا ہے اس پر کام تیزی سے جاری ہے، جس کے بعد حب سے 100 کی بجائے ہم 150 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا کبھی یہ وطیرہ نہیں رہا کہ جہاں ہمارے ووٹرز یا کوئی ایم پی اے، ٹائون یا یوسی چیئرمین نہ ہو وہاں ہم کام نہ کروائیں۔ اس وقت ڈسٹرکٹ سینٹرل میں جہاں ہمارا کوئی ایم پی اے یا ٹائون یا یوسی کا چیئرمین نہیں اس وقت بھی 20 ارب روپے سے زائد کے منصوبے جاری ہیں، اسی طرح کورنگی میں بھی ہمارے منصوبے جاری ہیں بلکہ اس وقت کراچی میں جتنے بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام ہورہے ہیں اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کاٹی کے چیئرمین سید جوہر علی قندھاری نے کہا کہ کورنگی صنعتی علاقے کو بیشتر مسائل درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورنگی کےصنعتی علاقہ 10 ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں سے یومیہ 2 ارب روپےقومی خزانےمیں جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ کھالوں سے متعلق تحفظات ہیں، بقرعید آنے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین ٹائون یہاں پر ریونیو کلیکشن اور ٹریڈ لائیسنس سے متعلق دعویدار ہیں۔ یہاں کے صنعتکاروں کو کورنگی، لانڈھی اورشاہ فیصل کالونی سے نوٹسز آتے ہیں اس کا سدباب ہونا ضروری ہے۔ سیدجوہرعلی قندھاری نے کہا کہ ہم پریشان ہیں ٹیکس کس کو دیں۔ اب کے ایم سی کی طرف سے بھی نوٹسز آنے شروع ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم صرف ایک کو ٹیکس دے سکتے ہیں تین یا چار اداروں کو ٹیکس نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کرائم کی بجائے سب سے بڑا مسئلہ سیوریج اور پانی کومسئلہ ہے، انہوں نے صوبائی وزیر سے کہا کہ آپ بے شمار اداروں کو ہیڈ کررہے ہیں، لیکن آپ کے ادارے کے لوگ مسائل کو سنتے ہیں لیکن حل نہیں کرتے، اس لئے آپ سے استدعا ہے کہ کاٹی کے حوالے سے ایک کمیٹی یا بورڈ بنانےکی ضرورت ہے، جس میں آپ کے اور ہمارے نمائندے موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بجلی گیس مارک اپ آئی ایم ایف سے متعلق مسائل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کو یقینی بنائےاورقیمتیں کم کرائیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زاہد سعید نے کہا کہ وفاقی حکومت میں آپ کاعمل دخل کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اس لئے آپ کے پاس معزرت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ صوبے اور لوکل گورنمنٹ میں آپ کی نمائندگی ہے۔