Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

جماعت اسلامی تعلیم کے معاملے پر ہر ایک کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کو تیار ہے۔ منعم ظفر خان

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس

0

جماعت اسلامی تعلیم کے معاملے پر ہر ایک کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کو تیار ہے۔ منعم ظفر خان

کراچی : امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس۔ انہوں نے کہا کہ شہر کراچی میں بڑا مسئلہ ایچ ایس ایس پارٹ ون کے طلبہ کا مسئلہ ہے۔ نتائج سے ئلثابت ہوا پی پی کی حکومت کراچی کے طلباء کی نسل کشی کر رہی ہے۔ انٹربورڈ کے نتائج میں خوردبرد کی گئی ہے۔ نتائج میں بیٹھنے والے طلباء کو غیر حاضر قرار دیا گیا۔ کراچی کے طلباء کی نسل کشی کی جا رہی۔ میٹرک انٹر بورڈ نتائج ہوں ایم ڈی کیٹ ہوں۔ ایم ڈی کیٹ میں ڈھائی تین مہینے کا پورا پراسیس ہے۔ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جس سے کراچی کا طالب علم گزر رہا ہے۔ کسی شہر کو ہدف بناکر یہ عمل کیا جا رہا۔ اس کی مذمت کی کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنی تعلیمی کمیٹی بنائی ہے۔ جن طلباء کے مسائل ہیں وہ آئیں اور اپنے مسائل بتائیں۔ اس ظلم کے خلاف جماعت اسلامی آواز بلند کرے گی۔ ایک طرف مایوسی ہے دوسری طرف ایسے اقدامات سوالیہ نشان ہیں؟ سندھ کے بورڈز میں سارا کام ایڈہاک ازم پر ہے۔ کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ میں کم و بیش پانچ چیئرمین تبدیل ہو چکے ہیں۔ کمشنر کو گزشتہ دنوں چارج دیا گیا۔ کمشنر کی پہلے اتنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ بورڈ نہ ہوا تھانہ ہوگیا من پسند افراد لگاتے رہیں۔ اگر وہ نتائیج نہ دیں تو تبدیل کردیں۔ میٹرک میں اے ون لینے والوں کے انٹر میں ڈی اور ای گریڈ آرہے ہیں۔ جو عمل انتخابات کے موقع پر فارم سینتالیس سے دھاندلی کی شکل میں شروع ہوا۔ آج وہ تعلیمی نتائج میں ردو بدل تک پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنہوں نے پچیس تیس سال سے اس شہر کی تعلیم اور اقدار تباہ کی چاہے وہ پیپلز پارٹی ہو یا ایم کیو ایم ہو۔ دھونس دھاندلی کرپشن کے ذریعے سندھ کے بورڈز میں کام کرتے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں جہاں اس صوبے میں سندھ اور کراچی کی جامعات کی فیسوں میں فرق ہے۔ جامعات کی خودمختاری پر حملے کیا جا رہا ہے۔ اب سندھ میں وائس چانسلر کے لیے تعلیمی قابلیت ضروری نہیں۔ پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے دو کروڑ تہتر لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ تعلیم کو تجارت بننے سے روکا جائے۔ انٹربورڈ کے حوالے سے اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے۔ ایسے نہ ہو بس نمبر بڑھا دیے جائیں۔ ایڈہاک ازم کا خاتمہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میرٹ کی بنیاد پر کنٹرولر اور چیئرمین کا تقرر ہو۔ اسکروٹنی کا عمل مفت ہونا چاہیے۔ ہر طالب علم کو اس کا حق ہو اور یہ سہولت مفت فراہم کی جائے۔ جماعت اسلامی تعلیم کے معاملے پر ہر ایک کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کو تیار ہے۔ ان تین مطالبات کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ شہر میں اس وقت انفرااسٹرکچر تباہ ہے۔ ٹوٹی سڑکیں بہتے گٹر ہیں۔ گزشتہ سال حکمران اس شہر میں کی آبادی کھاگئے۔ پیپلز پارٹی سمیت سب نے مل کر اس پر دستخط کیے آدھے آبادی کھا گئے۔ اکیسویں صدی میں چاند اور مریخ پر جانے کی باتیں ہیں۔ لیکن کراچی کے بچے گٹر میں گر کر مر رہے ہیں۔ شرم کا مقام ہے میئر کراچی کے لیے پھر وہ کہتے ہیں یہ میری ذمہ داری نہیں ہے تو پھر کس کی ذمہ داری ہے۔ میئر کراچی ذمہ داری تو لیں۔ وزیر داخلہ اور ساری مشنری آپ کی ہے۔ سولہ سال گزر گئے اس پورے عمل میں آپ اس قابل بھی نہیں یوسیز کو گٹر کے ڈھکن دے سکیں۔

انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے نو ٹاؤنز میں پندرہ ہزار گٹر کے کورز کا انتظام کیا۔ کھدائی کرکے شہر کو چھوڑ دیا گیا۔ دو دو تین سال سے کھڈے کھود کر چھوڑ دیے گئے۔ وزیر بلدیات نام کے ہیں عملا چنیسر ٹاؤن کی پانچ یوسیز کے وزیر ہیں۔ ریڈ لائن کے نام پر کراچی کے لوگوں کو دھوکا دیا جا رہا ہے۔ پانی کی لائن توڑ دی گئی آدھا شہر ویسے پانی سے محروم ہے۔ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی دیکھا دیکھی دس روز سے گلشن حدید کا اسٹیل مل نے پانی بند کردیا ہے۔ ہر ادارہ کرپشن کا اڈا بنا ہوا ہے۔ سارے کرپٹ افراد مرتضیٰ وہاب کے دائیں بائیں نظر آتے ہیں۔ اختیارات نچلی سطح پر تقسیم نہیں ہو رہے۔ آپ خود کو جمہوری کہتے ہیں یہ جمہوریت ہے۔ ڈیڑھ سال میں آپ سٹی کونسل میں کمیٹیاں تشکیل نہیں دے سکے۔ پورے سندھ میں ایم ڈی کیٹ کا ایک ہی پیپر آتا ہے۔ جب سندھ میں نصاب ایک ہے تو پورے سندھ۔ یں ایک ہی پیپر آنا چاہیے۔ جہاں نقل ہو رہی ہے اسے روکنا بھی انتطامیہ کی ذمہ داری ہے۔ پورے سندھ میں کوالٹی آف ایجوکیشن ہونا چاہیے۔ تاکہ سندھ کا طالب علم آگے بڑھ سکے۔ این ای ڈی کے ٹیسٹ میں نجی بورڈ اور وفاقی بورڈکے طلباء سرفہرست تھے۔

Comments
Loading...