جلسے اور دھرنوں میں ہزاروں لوگ، بلدیات میں حکومت لیکن جنرل الیکشن 2024 میں ہار آخر کیوں ؟؟؟
جلسے اور دھرنوں میں ہزاروں لوگ، بلدیات میں حکومت لیکن جنرل الیکشن 2024 میں ہار آخر کیوں ؟؟؟
جلسے اور دھرنوں میں ہزاروں لوگ، بلدیات میں حکومت لیکن جنرل الیکشن 2024 میں ہار آخر کیوں ؟؟؟ تحریر سید ذیشان
بلاگ پوسٹ : کراچی شہر میں جماعت اسلامی ایک دم سے کراچی کی آواز بن کر سامنے آئے انہوں نے کراچی والوں کے لئے دھرنا دینا شروع کیا اور ان کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔ جس کی وجہ سے ان کی جماعت جس کا نام جماعت اسلامی ہے بھاری اکثیریت سے سے کامیاب ہوئی اور انہوں نے بلدیات کے نظام کو سنبھال لیا۔
لیکن پھر ایسا کیا ہوا کہ جنرل الیکشن 2024 میں جماعت اسلامی سیٹ جیت نہیں سکی۔ جہاں تک میں نے دیکھا سمجھا اور جانا وہ میں آپ لوگوں کو بتاتا ہوں۔ جماعت اسلامی نے عوام کو فائدہ دینے کے لئے ایک پروگرام کا اغاز کیا جس کا نام انہوں نے بنو قابل رکھا۔ یہ ایک فری کورس تھا جس کی وجہ سے لاکھوں لڑکوں اور لڑکیوں نے اس میں شرکت کی۔ لیکن سب سے سب صرف اور صرف جلسہ گاہ میں نظر آئے اس کے بعد بہت سے لوگ کلاس شروع نہیں کرسکے۔ اس کی وجہ وہ پیسے جمع نہیں کراسکتے تھے۔ جو جماعت اسلامی بنو قابل کی کلاس شروع کرنے کے لئے سکیورٹی کے طور پر مانگے گئے۔
جماعت اسلامی کے بلدیاتی لوگوں نے عوام کے ساتھ جو طریقہ اپنایا وہ سب کے سامنے ہی ہے۔ جہاں ان کا لیڈر عوام کے مسائل کو سن کر حل کرنے کی بات کرتا رہا، وہیں بلدیاتی امیدوار عوام کو سخت الفاظ میں جوابات دیتے ہوئے نظر آئے۔ نارتھ ناظم آباد میں ہی ان کے بلدیاتی امیدوار کا عوام کے ساتھ رویہ بہت زیادہ ہی خراب ہونے کی وجہ سے لوگوں نے ان کو جنرل الیکشن میں ووٹ دینے سے مسترد کردیا۔
ٹھیک ہے آپ کے پاس وسائل موجود نہیں، آپ کے پاس اختیار موجود نہیں لیکن آپ کا لوگوں سے بات کرنے کا طریقہ ٹھیک ہونا چاہیئے تھا۔ آپ نے عوام تو عوام، چھوٹے میڈیا کے لوگوں کوبھی اہمیت نہیں دی اور جب بھی انہوں نے آپ کے کسی بھی پروگرام کو کوور کرنا چاہا آپ کے وہ امیدوار سامنے آئے جو الیکشن میں کھڑے تھے انہوں نے منع کردیا اور ان کو کہا گیا کہ آپ کو پروگرام کی تفصیل جماعت اسلامی کے پیج سے مل جائے گی۔ حافظ نعیم الرحمن کے ساتھ جو جماعت اسلامی کا میڈیا چلتا ہے اس تک نے میڈیا کے لوگوں کو ناراض کیا۔ کیونکہ کہ اس نے اپنی کرویج اس طرح کی کہ مین اسٹریم میڈیا نے کئی جگہ اپنے کیمرے بند کرنے کی بات کی۔
عوام کا دل دکھانے کا ایک سال سال کا سفر جماعت اسلامی کی ہار کی وجہ بن گیا۔ انہوں نے کچھ کاموں کا آغاز کیا جس میں انہوں نے سندھ سولڈ وسیٹ، کے ایم سی، کلک کے ساتھ کھڑے ہوکر علاقوں میں جاری کاموں کا جائزہ لیا۔ اس دوران عوام سے سامنا بھی ہوا لیکن وہی بات آپ کا لہجہ، جس کی وجہ سے عوام کے مخالف کھڑی ہوناشروع ہوئی۔
پھر جب جنرل الیکشن 2024 کی کیمپین شروع ہوئی تو آپ نے پہلے سے ہی سوچ لیا کہ اس علاقہ میں ہم بلدیات میں جیت گئے تھے تو ہمیں عوام کے درمیان جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ علاقہ کی عوام آپ سے ناراض ہے جو آپ کے بلدیاتنی امیدوار کے لہجے کی وجہ سے ہوئی ہے اس کی ناراضگی دور کی جائے۔
انہوں نے اپنے آپ کو اتنا بڑا سمجھ لیا کہ جیسے دوسری پارٹیوں نے محلہ میں موجود محلہ کمیٹی سے ملاقاتیں کیں اور ان کے دروازے پر جاکر ان کو ان کے ساتھ مل کر کام کراوانے نے یقین دہانی کرائی، انہوں نے ملنا تو دور ان کے کے دروازے پر جانا اپنی شان میں غستاخی سمجا، ان کو بولنے پر جواب آیا وہ کای چیز ہے اور کون سی اس کی محلہ کمیٹی رجسٹرڈ ہے؟؟؟ جبکہ ان محلہ کمیٹیوں نے اپنے علاقوں میں کام کرایا اور عوام میں ان کی کافی مقبولیت موجود ہے۔
لوگوں میں بلدیاتی امیدوار اور ان کے کوآرڈینیٹرز کی طرف سے دئیے جانے والے جملہ جو مجھے پتہ ہیں۔
۔1۔ 15 سال سے تو آپ لوگ پریشان ہو کچھ دن اور رہ لو پریشان۔
۔2۔ پہلے والوں سے کبھی پوچھا ہے آپ نے جو ہم سے سوال کررہے ہو۔
۔3۔ ایسی درخواستیں بہت دیکھی ہے کچھ بھی نہیں ہوتا ہے ان سے۔
۔4۔ آپ کو کس نے بولا یہاں آنے کو؟ آپ یہاں نہیں آسکتے ہیں۔
۔5۔ آپ کون ہونے ہیں پوچھنے والے ہم سے، ہماری مرضی ہے جو چاہیئے ہم کریں۔
۔6۔ کون روکے گا ہمیں، یوسی بھی ہمارا ہے اور ٹاون بھی ہمارا ہے۔
۔7۔ ٹاون کی اجازت سے کام ہورہا ہے جاو جاکر ٹاون سے بات کرو۔
بس پھر کیا تھا عوام کا دل جماعت اسلامی کی طرف سے خراب ہونا شروع ہوگیا کیونکہ ان کی سمجھ میں آگیا کہ حافظ نعیم جو باتیں کرتے ہیں وہ ان کی سوچ ہے لیکن جو لوگ انہوں نے منتخب کرکے بیٹھائیں ہیں وہ ایک دم الگ سوچ رکھتے ہیں۔ ان کی شکایت کرنے پر بھی کوئی ایکشن پارٹی کی طرف سے نہیں لیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے عوام نے بری طرح جنرل الیکشن میں ان کو مسترد کردیا۔