ایک ننی سی جان کیا گئی، شہر بھر میں گٹروں کے ڈکھن لگنا شروع ہوگئے
معصوم بچے ابراہیم کی جان کا بلاواسطہ ذمہ دار کون؟
کراچی : حال ہی میں کراچی شہر میں ایک ایسا واقع پیش آیا جس کے بعد پورا شہر غم میں ڈوب گیا۔ ایک 3 سال کا معصوم بچہ جس کا نام ابراہیم تھا میں ہول کوور نا ہونے کی وجہ سے نالے میں جاگرا۔ 15 گھنٹے کے بعد اس کی لاش نکال لی گئی۔ اس کے گھر والوں پر کیا گزرا وہ تو وہی بتا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد دیکھنے میں آیا کہ مختلف علاقوں میں مختلف سیاسی اور سماجی لوگ گٹروں کے ڈکھن لگانے میں مصروف نظر آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دوسروں کو تنقید کا نشانہ بھی بنانا شروع کردیا۔
کیا کراچی جیسے شہر جہاں مسائل کا ایک امبار موجود ہے، وہاں کسی بھی کام کو کرانے کے لئے معصوموں کو جان دینے کی ضرورت ہے ؟؟؟ اس کے بعد ہی کام شروع کیا جائے گا؟؟ اس کے بعد ہی لوگوں کو خیال آئے گا کہ یہ کام ہونا چاہیے تھا ؟؟؟ ابراہیم تو اس دنیا سے چلا گیا لیکن اپنے پیچھے بہت سارے سوال چھوڑ گیا۔ اس کا ذمہ دار کون ؟؟؟
کراجی شہر میں کسی بھی سیاسی پارٹی کا جلسہ ہو، تو لاکھوں روپے خرچ کرکے بینرز لگائے جاتے ہیں۔ اسٹیج بنایا جاتا ہے، بس سروس دی جاتی ہے۔ لیکن جب کام کرنے کا وقت آتا ہے تو ان ہی لوگوں کو یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ یہ کام ہمارا نہیں دوسرے کا تھا۔ کراچی ایک شہر ہے۔ پھر اس کی سڑکیں اور گلیاں کیوں بٹی ہوئی ہے ؟؟؟ کہ یہ ہمارے اختیار میں نہیں ؟؟؟
بہت سارے سوال ہیں۔ لیکن ان کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ سب دعوے کرتے ہیں کہ شہر ہمارا ہے اور اس میں رہنے والے بھی ہمارے ہیں۔ لیکن کوئی ان کو اپنا سمجھتا نہیں ہے۔