حافظ نعیم الرحمن اپنی شکست کا اعتراف کررہے ہیں۔ سعید غنی
سعید غنی نے کہا ہے کہ میں 9 مئی سے پہلے سے بتا رہا ہوں کہ پی ٹی آئی کے لوگوں نے اپنی جماعت کو بتا دیا تھا کہ ہم جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں دیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن اپنی شکست کا اعتراف کررہے ہیں۔ سعید غنی
کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی نے کہا ہے کہ میں 9 مئی سے پہلے سے بتا رہا ہوں کہ پی ٹی آئی کے لوگوں نے اپنی جماعت کو بتا دیا تھا کہ ہم جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ حافظ نعیم الرحمن اپنی شکست کا اعتراف کررہے ہیں۔ انہیں یہ معلوم ہے کہ لوگ ان کے ساتھ نہیں ہیں ۔ اگر کوئ پی ٹی آئی کا چیئرمین جماعت اسلامی کو ووٹ دینا نہیں چاہتا اور حافظ صاحب اٹھ کر بولیں کہ وہ اغواء ہوگیا ہے تو اس کا علاج ہمارے پاس نہیں ہے۔
پیپلز پارٹی کے مئیر کے نامزد امیدوار پر پارٹی میں اتفاق ہے اور اس سلسلے میں چلائی جانے والے خبریں اس موجودگی میں ان کو غلط ثابت کرتی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر نثار احمد کھوڑو ، جنرل سیکرٹری سینیٹر وقار مہدی ، کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری جاوید ناگوری ، پیپلز پارٹی کے مئیر کراچی کے امیدوار مرتضیٰ وہاب، ڈپٹی مئیر کے امیدوار سلمان مراد، نجمی عالم و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔
سعید غنی نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن اپنی شکست کا اعتراف کررہے ہیں ، انہیں یہ معلوم ہے کہ لوگ ان کے ساتھ نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حافظ صاحب بتائیں کہ جب انہوں نے جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں کو ادارہ نور حق میں بلایا تھا کہ کتنے لوگ اس دعوت میں آئے تھے، سعید غنی نے کہا کہ میں بتاتا ہوں کہ اس دعوت میں پی ٹی آئی کے چند جبکہ خود جماعت اسلامی کے منتخب چیئرمین پورے نہیں آئے اور انہوں نے وہ دعوت کی کینسل کردی۔ سعید غنی نے کہا کہ میں 9 مئی سے پہلے سے بتا رہا ہوں کہ پی ٹی آئی کے لوگوں نے اپنی جماعت کو بتا دیا تھا کہ ہم جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں دیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئ پی ٹی آئی کا چیئرمین جماعت اسلامی کو ووٹ دینا نہیں چاہتا اور حافظ صاحب اٹھ کر بولیں کہ وہ اغواء ہوگیا ہے تو اس کا علاج ہمارے پاس نہیں ہے ۔ سعید غنی نے کہا کہ جو پی ٹی آئی کے لوگ گرفتار ہیں اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہیں ان لوگوں کو ووٹ کے لئے لےآنا حکومت کی زمہ داری ہے اور ہم ان کو لے کر آئیں گے، لیکن کسی کو زبردستی حافظ صاحب کو ووٹ دلوانے کی زمہ داری تو ہم نہیں لے سکتے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ نثار احمد کھوڑو سندھ کے صدر ہیں ، وقار مہدی جنرل سیکرٹری ہیں ، میں خود کراچی ڈویژن کا صدر ہوں، جاوید ناگوری کراچی ڈویژن کا جنرل سیکرٹری ہے، نجمی عالم ڈپٹی جنرل سیکریٹری ہیں، کراچی کے تمام اضلاع کے عہدیدار یہاں اس وقت موجود ہیں ان سب کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پیپلز پارٹی کے مئیر کے نامزد امیدوار پر پارٹی میں اتفاق ہے اور اس سلسلے میں چلائی جانے والے خبریں اس موجودگی میں ان کو غلط ثابت کرتی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب ملکر جس طرح کوشیشیں کررہے ہیں میں 100 فیصد یقین سے کہہ رہا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں مئیر اور ڈپٹی مئیر پیپلز پارٹی کے کامیاب ہوں گے اور حافظ نعیم الرحمن کے خواب جو اب سے ہی چلنا چور ہوگئے ہیں وہ 15 جون کو مکمل چکنا چور ہو جائیں گے۔ ایک سوال کہ حافظ نعیم الرحمن کا علاج کیا ہے تو اس پر انہوں نے کہا کہ وہ لاعلاج ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں بار بار بتا چکا ہوں کہ حافظ نعیم الرحمن کی دو خواہشات ہیں ، ایک جماعت اسلامی کا مرکزی امیر بننا اور دوسرا کراچی کا مئیر بننا۔ اس میں سے میں بتا رہا ہوں کہ وہ جماعت اسلامی کا امیر بن جائے گا، دوسرا کراچی کا مئیر وہ نہیں بنے گا میں وہ بھی بتا رہا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن کے ہاتھوں میں مئیر بننے کی لکیر نہیں ہے اور اگر اسے اپنے آپ کو مئیر کہلوانے کی خواہش ہے تو وہ نادرا میں جاکر اپنا نام تبدیل کروا کر مئیر حافظ نعیم الرحمن کروا دیں تو وہ ساری زندگی کے لئے مئیر ںلبن جائے گا ۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری یہ خواہش شروع سے رہی ہے کہ کراچی میں جن جن پارٹی کا مینڈیٹ ملا ہے، ہم ان سب کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں ، کراچی کو چلانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اختیار نہیں ہے کہ میں یہ فیصلہ کروں کہ کسی کو مئیر یا ڈپٹی مئیر بنائوں البتہ اگر حافظ صاحب ڈپٹی مئیر کے لئے رضامند ہوتے ہیں تو میں اپنی پارٹی اور اعلیٰ قیادت سے منت سماجت کرسکتا ہوں ۔