Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

سندھ میں سروے کے لیے کچے کی زمین کا مجموعی رقبہ تقریباً 16 لاکھ 10 ہزار ایکڑ ہے

سروے آف پاکستان کے ذریعے کچے کی زمینوں کا سروے کرایا جائے گا، سندھ کابینہ فیصلہ

0

کچے کی زمینوں کی درست میپنگ سے سرکاری اراضی پر غیرقانونی قبضے کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ سید مراد علی شاہ

کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سی ایم ہاؤس میں صوبائی کابینہ کا اجلاس۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران شریک۔ سندھ کابینہ نے صوبے بھر میں کچے کی زمینوں کے جامع سروے اور نقشہ سازی کی منظوری دے دی۔ سروے آف پاکستان کے ذریعے کچے کی زمینوں کا سروے کرایا جائے گا، سندھ کابینہ فیصلہ۔ سندھ کابینہ نے کچے کی زمینوں کے سروے کے لیے 70 کروڑ 50 لاکھ روپے کی منظوری دے دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کچے کی زمینوں کے سروے کا منصوبہ حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ کچے کی زمینوں کا جامع اور درست ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔

سندھ کابینہ نے ’’سروے آف کَچا لینڈ اِن سندھ‘‘ منصوبے کی منظوری دے دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ سروے کا مقصد زمینوں کے انتظام، منصوبہ بندی اور ریونیو مینجمنٹ کو بہتر بنانا ہے۔ کچے کی زمینوں کی میپنگ سے ماحولیاتی تحفظ اور تجاوزات کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ منصوبہ 15.5 ماہ کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ بورڈ آف ریونیو اور سروے آف پاکستان کے درمیان منصوبے کا معاہدہ جولائی 2026 میں طے پایا۔

سروے آف کَچا لینڈ اِن سندھ منصوبے کو 31 مارچ 2026ء کو اصولی منظوری دی گئی تھی۔

کابینہ کو بریفنگ میں بتایا کہ کچے کی زمینوں کے سروے کے لیے نان اے ڈی پی اسکیم کی اصولی منظوری دی گئی تھی۔ کچے کی زمینوں کا سروے دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں کچے کی زمینوں کی حدود اور رقبے کا تعین کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں سیٹلائٹ تصاویر، جی آئی ایس میپنگ اور جیوڈیٹک کنٹرول کا کام ہوگا۔ پہلے مرحلے میں تصاویر کی پروسیسنگ اور کچے کی زمینوں کے رقبے کا حساب لگایا جائے گا۔

دوسرے مرحلے میں کیڈسٹرل میپنگ اور دیہہ، تعلقہ و ضلع کی سطح پر نقشہ سازی کی جائے گی۔ زمین کے استعمال کی جیو ٹیگنگ اور حدود کی باقاعدہ نشاندہی کی جائے گی۔ کچے کی زمینوں کی پارسل لیول میپنگ بھی کی جائے گی۔

زمینوں کی ملکیت اور استعمال سے متعلق ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا۔ سروے کے بعد حتمی نقشے اور جامع سروے رپورٹس تیار کی جائیں گی۔ کچے کی زمینوں کا سروے حیدرآباد، سکھر، لاڑکانو اور شہید بینظیرآباد ڈویژنز میں ہوگا۔ چار ڈویژنز کے 613 دیہہ کچے کی زمینوں کے سروے میں شامل ہوں گے۔

سندھ میں سروے کے لیے کچے کی زمین کا مجموعی رقبہ تقریباً 16 لاکھ 10 ہزار ایکڑ ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ درست نقشہ سازی اور دستاویز بندی شفاف لینڈ ایڈمنسٹریشن کے لیے ضروری ہے۔ کچے کی زمینوں کی درست میپنگ سے سرکاری اراضی پر غیرقانونی قبضے کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ کچے کی زمینوں کی میپنگ سے ماحولیاتی تحفظ کو بھی فروغ ملے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ کی بورڈ آف ریونیو اور سروے آف پاکستان کو منصوبہ بروقت مکمل کرنے کی ہدایت۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سروے میں درستگی اور شفافیت کے اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنایا جائے۔کچے کی زمینوں کے سروے کا کام مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔

سندھ کابینہ نے بورڈ آف ریونیو کی تجویز پر کچے کی زمینوں کے جامع سروے کی منظوری دے دی۔

Comments
Loading...