ادارہ شماریات کی فائنڈنگ اور نتائج کو ثبوت و شواہد کے ساتھ پیش کیا جسے حکومتی وفد نے تسلیم کیا۔ ترجمان ایم کیو ایم پاکستان
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ایم کیو ایم کے وفد کی تین وفاقی وزراء سمیت حکومتی اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات،ترجمان ایم کیو ایم پاکستان
ادارہ شماریات کی فائنڈنگ اور نتائج کو ثبوت و شواہد کے ساتھ پیش کیا جسے حکومتی وفد نے تسلیم کیا۔ ترجمان ایم کیو ایم پاکستان
اسلام آباد : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ایم کیو ایم کے وفد نے وفاقی وزراء سمیت اعلیٰ سطحی حکومتی وفد سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ایم کیو ایم پاکستان کے وفد میں سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفیٰ کمال ,ڈاکٹر فاروق ستار، سید امین الحق اور جاوید حنیف شامل تھے۔
جبکہ حکومتی وفد میں وزیردفاع خواجہ محمد آصف، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق ، وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری سید توقیرحسین شاہ، چیف کمشنر مردم شماری ڈاکٹر ندیم الظفر اوردیگرحکام شامل تھے۔ ایم کیو ایم کے وفد کی حکومتی وزراء سے ملاقات ڈھائی گھنٹے جاری رہی۔
جس میں اب تک کی مردم شماری کے اعداوشمار کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے مردم شماری میں ہونے والی زیادتی اور ناانصافی پر شہری سندھ بلخصوص کراچی کا مقدمہ وضاحت کے ساتھ پیش کیا اور اعلیٰ حکومتی وفد کے سامنے غلطیوں کی نشاندہی پر ادارہ شماریات کی فائنڈنگ اور نتائج کو ثبوت و شواہد کے ساتھ فراہم کیا۔
حکومتی وفد نے پیش کئے جانے والے ثبوت و شواہد کا بغور جائزہ لیتے ہوئے ایم کیو ایم کے تمام تحفظات کو تسلیم کیا۔ترجمان کے مطابق ایم کیو ایم کے وفد نے مردم شماری پر حکومت کے سنجیدہ رویے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے عملی اور فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے دونوں وفود میں معاملات کو حل کی جانب لے جانے کیلئے عملی کوششیں تیز کرنے اور مردم شماری کے اعدادوشمار میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو فلفور روکنے پر اتفاق ہوا ہے اور مردم شماری میں شہری سندھ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور ادارہ شماریات کی غلطیوں کے تدارک کیلئے ایم کیو ایم کی حکومتی وفد سے مزید ملاقاتیں ہونگی۔
حکومتی وفد اور ایم کیو ایم نے مل کر مسائل کے دیرپا اور عملی حل نکالنے پر اتفاق کیا تاکہ مردم شماری میں بغیر کسی تردد ایک ایک شہری کا درست اندراج ممکن ہوسکے۔