وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت حیدرآباد کے پانی منصوبے پر اجلاس
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا پانی کے نظام کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا
کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت حیدرآباد کے پانی منصوبے پر اجلاس۔ اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی و ترقیات و آبپاشی جام خان شورو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف عباس اور دیگر حکام شریک۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمارا مقصد تمام شہریوں کو پانی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اور آبپاشی جام خان شورو کی اجلاس میں بریفنگ۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قاسم آباد میں پانی کی فراہمی بہتر بنانے کا منصوبہ ہے۔ حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے منصوبے کیلئے قاسم آباد میں اراضی الاٹمنٹ کی درخواست کی تھی۔ ضلعی حکام نے گوٹھ مصری شیخ میں تقریباً 25 ایکڑ سرکاری زمین کی نشاندہی کی۔ اراضی کا 22 ایکڑ اے ون کیٹیگری میں آتا ہے اور فوری استعمال کے لیے موزوں ہے۔
حیدرآباد میں 6 ایم جی ڈی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر کیا جائے گا ، وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی۔
وزیر آبپاشی نے کہا کہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبے سے پانی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبے پر فوری عملدرآمد کی ہدایت دیدی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے حیدرآباد میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لیے 22 ایکڑ زمین کی منظوری۔ وزیراعلیٰ سندھ کا پانی کے نظام کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے حکم دیا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبے پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو صحت مند اور صاف پینے کا پانی فراہم کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ حیدرآباد ، قاسم آباد و ملحقہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کو بہتربنائی جائے۔
انکا کہنا تھا کہ تمام قانونی اور انتظامی کارروائیاں تیزی سے مکمل کی جائیں۔ منصوبہ بندی و ترقیات محکمہ کو تیزی سے کام مکمل کرنے کا حکم۔ حیدرآباد میں پانی صاف کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ یہ عوامی صحت، بہتر معیارِ زندگی اور پائیدار شہری ترقی کا معاملہ ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اراضی کے استعمال میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبے کی سخت نگرانی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ کا حکم۔ حیدرآباد کی ترقی اور عوامی صحت کے لیے یہ اہم قدم ہے۔