Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

نجی شعبہ کے لیے ہمارا مقصد واضع ہے کہ سندھ کے دور دراز علاقے کے بچوں کو معیاری تعلیم دینا۔ سید سردار علی شاہ

وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز کے نمائندگان کے ساتھ اہم اجلاس کی صدارت

0

کراچی : وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز کے نمائندگان کے ساتھ اہم اجلاس کی صدارت۔ اجلاس میں اسپیشل اسسٹنٹ ٹو سی ایم سندھ قاسم نوید قمر، چیئرمین پی اینڈ نجم شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ اسد ضامن، چیف پروگرام مینجر ڈاکٹر جنید سموں، سینئر ڈائریکٹر پی پی پی نوڈ یاسین قربان اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

اس موقع پر ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائیزیشنز (ای ایم او)، نجی اسکولوں کی مینجمنٹ، این جی اوز، سندھ ایجوکیشن سے وابستہ آپریٹرز، نان فارمل ایجوکیشن کے نمائندگان موجود تھے۔ اجلاس میں سندھ کے سرکاری اسکولوں کے انتظام میں نجی شعبے کی شمولیت اور شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

سندھ میں 1,133 نئے اور اپ گریڈ شدہ سرکاری اسکولز ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز کے ساتھ شراکت داری کے لیے تیار ہیں۔ اجلاس میں بریفنگ۔ 1,133 اسکولوں میں ایس ایس ای آئی پی کے تحت 838 جبکہ سلیکٹ کے تحت 295 اسکول شامل ہیں۔

ورلڈ بینک اور ایشین ڈولپمنٹ بینک کی معاونت سے تعمیر کردہ اسکول سندھ کے 19 اضلاع میں جدید اور مکمل سہولیات سے آراستہ کیمپسز پر مشتمل ہیں۔ وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ تعلیمی نظام میں نجی شعبہ کی شمولیت کے مقاصد کے سلسلے میں ای ایم اوز کو آگاہ کیا۔

صوبائی وزیر سید سردار شاہ نے کہا کہ پبلک سینٹر سارا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، سوسائٹی کی شمولیت کے ہم چیزوں کو مزید بہتر کر سکتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت اکیلے ہر چیلنج کا حل نہیں نکال سکتی، ہمیں ان لوگوں کو بھی ساتھ لانا ہوگا جو تعلیم کے شعبے میں اپنی مہارت اور تجربہ رکھتے ہیں۔ ای ایم اوز کو اسکولوں کے انتظام، تعلیمی نتائج اور طے شدہ کارکردگی کے اہداف کے حصول کی ذمہ داری دی جائے گی۔

وزیر تعلیم سندھ نے مزید کہا کہ نجی شعبہ کے لیے ہمارا مقصد واضع ہے، “سندھ کے دور دراز علاقے کے بچوں کو معیاری تعلیم دینا”۔ سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے تمام ماڈلز کے بہتر نتائج کے ساتھ چلائے جا رہے ہیں۔ ہر اسکول کے لیے اوپن اور مسابقتی ریکویسٹ فار پروپوزل کے ذریعے شفاف طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ای ایم او ماڈل میں اسکولوں کی کارکردگی کی آزاد ماہر اور آڈیٹر کے ذریعے تصدیق کا نظام شامل ہوگا۔ ای ایم او ماڈل میں اسکول کی سرگرمیوں سے زیادہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور حقیقی نتائج کو اہمیت دی جائے گی۔

سندھ کے 1,133 اسکولوں کی مرحلہ وار حوالگی دسمبر 2026 سے دسمبر 2027 تک مکمل کی جائے گی۔ نئے اسکولوں میں کلاس رومز، فرنیچر، سائنس لیبارٹریز، ڈیجیٹل لائبریری، آر او پلانٹ، سولر سسٹم اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولیات شامل ہیں۔

وزیر تعلیم سندھ نے نجی شعبے کے تعاون کو سرکاری اسکولوں کے تعلیمی معیار اور انتظامی کارکردگی میں بہتری کے لیے مؤثر بنانے پر زور دیا۔

Comments
Loading...