کچھ سیاسی مخالفین اس وقت بیوقوفی کی باتیں کررہے ہیں۔ سعید غنی
سندھ بھر میں مون سون کی بارشوں کے بعد سندھ حکومت اور محکمہ بلدیات مکمل طور پر صورتحال کو کنٹرول کررہی ہے۔ سعید غنی
کچھ سیاسی مخالفین اس وقت بیوقوفی کی باتیں کررہے ہیں۔ سعید غنی
کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں مون سون کی بارشوں کے بعد سندھ حکومت اور محکمہ بلدیات مکمل طور پر صورتحال کو کنٹرول کررہی ہے۔ پنجاب حکومت کا دو ماہ کے کیے پینتالیس ارب روپے خرچ کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ دو ماہ کا ریلیف سیاسی دکھاوا ہے، شہریوں کو مستقل ریلیف دیا جائے۔ ماضی میں ایسے بد دیانت جج گزرے ہیں، جنہوں نے آئین اور قانون سے بالاتر ہوکر فیصلے دئیے ہیں، ان ججز کو سزائیں ہونی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے لوکل گورنمنٹ قاسم سومرو بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ ڈسٹرکٹ دادو میں اس وقت بھی بارش ہو رہی ہے، دادو کینال میں شگاف پڑا ہے امکان ہے آئندہ چند گھنٹے میں یہ پر کر دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ جوہی میں بھی اس وقت پانی ہے، اس کی نکاسی کے لئے تمام مشینری کام۔کررہے ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ 36 گھنٹوں میں سکھر میں شدید بارش ہوئی پانچ اسپیل آئے، جس میں 3 اسپیل ہیوی تھے، جس میں 281 سے 292 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سکھر کے حوالے سے محکمہ موسمیات اور ڈپٹی کمشنر کی بارش کے اعداد و شمار الگ ہیں۔ محکمہ موسمیات کے پاس ہر جگہ بارش کے حوالے سے طریقہ کار موجود نہیں ہے، اس کے برعکس سندھ حکومت کے پاس طریقہ کار ہے جو ہر تعلقہ میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سکھر شہر کے کچھ علاقوں میں پانی ہے، جس کو نکالنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھر اور نیو سکھر سٹی میں اسٹیشن گرائونڈ، قریشی روڈ، لال مسخ، بہار کالونی، گلشن اقبال اور آئرن مارکیٹ اور شیر چوک کے پیچھے حصہ میں پانی کی نکاسی کا کام جاری ہے۔ اسی طرح صالح پٹ کی مین سڑک پر کچھ پیچیجز اور دیہہ تارائی، اسی طرح روہڑی میں کندھواڑا، دراوان اور ٹنڈو علی آباد اور پنو عاقل میں یوسی روپہار میں کچھ علاقوں سے پانی کی نکاسی کا کام تیزی سے جاری ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ کچھ سیاسی مخالفین اس وقت بیوقوفی کی باتیں کررہے ہیں، ان کو نہیں معلوم کیا کہ دوران بارش کسی سڑک سے پانی صاف نہیں کیا جاسکتا، البتہ بارش رکنے کے بعد کام شروع ہوتا ہے اور اس وقت بھی ان علاقوں میں مئیرز چیئرمینز، کونسلرز، بلدیاتی ملازمین و پی ڈی اے کے ملازمین سب مل کر کام کررہے ہیں اور کوئی بڑا مسئلہ اس وقت نہیں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے وزیر اعلٰی سندھ، چیف سیکرٹری سندھ اور خود میری صدارت میں متعدد اجلاس مون سون کی بارشوں کے حوالے سے منعقدہ ہوئے اور میں نے حیدرآباد میں اجلاس کے دوران حیسکو اور سیپکو کے افسران سے یقین دہانی کروائی تھی کہ بارشوں کے دوران لوڈشیڈنگ نہ کی جائے اور جن جن علاقوں میں پمپنگ اسٹیشن ہیں وہاں تو ہر صورت بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ سعید غنی نے کہا کہ مون سون بارشوں کے لے کر سندھ حکومت کے سارے محکمے الرٹ ہیں۔ پنو عاقل کی علاقوں میں بھی کام ہو رہا ہے سکھر کو کلیئر کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج صبح سے دادو میں پچیانوے ملی میٹر بارش ہوئی ہے، لاڑکانہ میں بھی تیز بارش ہوئی تھی، وہاں کے نشیبی علاقوں میں پانی نکالنے کا کام کیا جا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ہم پنجاب کی اندھی تقلید کیوں کرے۔ انہوں نے 2 ماہ کے لئے 45 ارب روپے کی بجلی میں سبسیڈی دی ہے، اس کے بعد کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دو ماہ کے کیے پینتالیس ارب روپے خرچ کرنا سمجھ سے باہر ہے اور اب اس کی تشہیر کے لئے اربوں روپے کے اشتہار چل رہے ہیں۔ دو ماہ کا ریلیف سیاسی دکھاوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ شہریوں کے لیے سستی بجلی پیدا کرنے کے اقدامات کی بات کی ہے۔ سستی بجلی منصوبوں سے بجلی پیدا کرکے کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں سستی بجلی کے حوالے سے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ ماضی میں حکومتوں نے غلطیاں کی ملبہ ہم پر نہ ڈالے ۔ شہریوں کو مستقل ریلیف دیا جائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ چلتی بارشیں اللہ تعالی کے سوا کوئی ایسی طاقت نہیں جو سڑکوں کو خشک رکھے، جو سڑکیں حال ہی میں بنی ہیں اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی ہیں ایسے کنٹریکٹر کے خلاف کاروائی ہوگی۔ وزیر اعلٰی سندھ اور وزراء کی تبدیلیوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وزارتیں تبدیل کرنے کا اختیار وزیر اعلٰی کے پاس اور وزیر اعلٰی کو تبدیل کرنے کا پارٹی قیادت کے پاس ہے۔ تبدیلیوں کی غلط خبریں چل رہی ہوتی ہیں اور ہم ہنس رہے ہوتے ہیں.
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ بارش کے حوالے سے جدید نظام تو نہیں ہے مگر سندھ حکومت کے تعلقہ کی سطح پر سسٹم لگے ہوئے ہیں، وہ کونسی مشینیں ہوتی ہیں یہ تو مجھے نہیں معلوم ہے۔ ایک سوال پر سعید غنی نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات پر سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو گھر بنا کر دے رہے ہیں اور یہ تمام ایک۔لاکھ 50 ہزار گھر پکے اور بارشوں سے متاثر نہ ہو ایسے بنائے گئے ہیں۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس ملک کا کوئی ادارہ بھی احتساب سے بالا نہیں ہونا چاہئے، ججز فیصلوں میں بااختیار ہے میں مانتا ہوں مگر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرسکتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ماضی میں ایسے بد دیانت جج گزرے ہیں، جنہوں نے آئین اور قانون سے بالاتر ہوکر فیصلے دئیے، ایسے ججز کو سزائیں ہونی چاہئے۔ کورنگی کے چکرا گوٹھ کا ہائیڈرنٹ کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کے پھر سے کھلنے کا علم نہیں اگر کھل گیا ہے تو پھر کاروائ کریں گے۔اور جو بھی چکرا گوٹھ ہائیڈرنٹ کھولنے میں ملوث ہے کاروائی ہوگی۔
مخدوم جمیل الزماں کی پارٹی سے کسی قسم کی ناراضگی کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ مخدوم ہمارے سنئیر رہنما ہیں، ان کے خاندان کا پیپلز پارٹی سے رشتہ بنیادی طور سے ہے۔ اگر ان کو کسی قسم کی کوئی ناراضگی ہوگی تو ہم ان کو منا لیں گے۔