سندھ کے شہری مسائل کا واحد حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ایم کیو ایم مرکز بہادر آباد میں قانونی ماہرین و لیگل ایڈ کمیٹی کا اہم اجلاس، شہری سندھ کے مسائل، نئے انتظامی یونٹس، قوانین کے سقم دور کرنے اور اسیر ساتھیوں کی رہائی کے لئے قانونی حکمت عملی پر غور
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے مرکز بہادر آباد میں متحدہ لائرز فورم، متحدہ لیگل ایڈ کمیٹی اور ممتاز ماہرینِ قانون کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اہم فکری و مشاورتی ملاقات کی، اس موقع پر سینئر مرکزی رہنماء وسیم اختر و دیگر بھی موجود تھے جبکہ سابق جج قاضی خالد صاحب نے خصوصی شرکت کی۔
ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی و آئینی صورتحال بالخصوص سندھ کے شہری علاقوں کو درپیش سالہا سال کے گھمبیر مسائل نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی اشد ضرورت، نظامِ عدل کی کارکردگی اور مروجہ قوانین میں موجود ان فنی و آئینی سقم پر سیر حاصل گفتگو کی گئی جو عام شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں بالخصوص کراچی حیدرآباد و دیگر اضلاع میں بنیادی سہولیات اور اختیارات کی عدم منتقلی نے عوام کو سخت بے چینی میں مبتلا کر رکھا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں انتظامی توازن اور عوام کو ان کی دہلیز پر حقوق کی فراہمی کے لئے نئے اور بااختیار انتظامی یونٹس کا قیام وقت کا سب سے بڑا چیلنج اور حل ہے، متحدہ لیگل ایڈ کمیٹی اور قانونی ماہرین نے قیادت کو بریفنگ دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ موجودہ قانون سازی اور ضوابط میں ایسے متعدد نقائص موجود ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر شہری حقوق کو سلب کیا جاتا ہے، وکلاء نے ان قانونی پیچیدگیوں اور سقم کو ختم کرنے کے لئے باضابطہ قانونی تجاویز اور مسودات پیش کیئے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مظلوم و محروم طبقات کو بروقت ارزاں اور شفاف انصاف کی فراہمی کے لئے عدالتی نظام میں دور رس اصلاحات ناگزیر ہیں، قانونی ماہرین نے یقین دہانی کرائی کہ وہ مظلوم شہریوں کو قانونی امداد فراہم کرنے کے سلسلے کو مزید فعال اور وسیع بنائیں گے۔
اجلاس کے اختتام پر قانون دانوں اور ایم کیو ایم قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے غصب شدہ حقوق کی بحالی آئینی حدود میں رہتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل اور قانونی نقائص کے خاتمے کے لئے سیاسی آئینی و قانونی محاذ پر بلاشبہ ایک مربوط اور منظم جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔