جماعت اسلامی والے مہاجر دشمن ہیں۔ سید مصطفی کمال
جماعت اسلامی والے مہاجر دشمن ہیں، جب کوٹہ سسٹم نافذ ہوا یہ اس وقت اسمبلیوں کا حصہ تھے۔ سینئر ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم پاکستان
جماعت اسلامی والے مہاجر دشمن ہیں۔ سید مصطفی کمال
کراچی : جماعت اسلامی والے دوہرے میعارکے لوگ ہیں اس شہر کے نوجوانوں کو کشمیر اور افغانستان میں جہاد کے نام پربھیجااور ان کی جانیں لیں جبکہ اپنے بچوں کو جہاد پر نہیں بھیجا یہ مہاجروں کے دشمن ہیں۔ ان خیالات کا اظہار متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفی کمال نے مرکزی الیکشن آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا اس وقت جماعت اسلامی والے اسمبلیوں کا حصہ تھے اس شہر کی درسگاہوں میں جماعت اسلامی نے اسلحہ کی سیاست متعارف کرواکر تھنڈر اسکواڈ بنائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں 9/11 کے واقعے نے دنیا کی تاریخ تبدیل کر دی جس کے سبب ایران، عراق، شام، لیبیا اور افغانستان کے مسلمانوں پرمظالم ڈھائے گئے۔
اس واقع کا ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد جماعت اسلامی کی ناظمہ کے گھر سے گرفتار ہوا کراچی میں القائدہ کے چھ؎ دہشتگرد سابق اولمپیئن محمود شاہد علی کے گھر سے برآمد ہوئے شاہد علی اور ان کی اہلیہ کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا، 2002 میں انہوں نے خیبرپختونخوا میں آواز اٹھائی کہ عورت کا ووٹ ڈالنا حرام ہے جبکہ خواتین کی مخصوص نشست پر امیر جماعت اسلامی کی اپنی صاحبزادی نامزد ہوئیں تب یہ حرام نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ القائدہ سے جماعت اسلامی والوں نے بھرپور ڈالر لیے ہیں جو اب تک ختم نہیں ہوئے زکوٰۃ اور خیرات کے پیسے حافظ نعیم الرحمن کی تشہیر کے لیے استعمال کیئے جا رہے ہیں تشہیری میں لگایا گیا ان کا سارا پیسہ ضائع ہونے جا رہا ہے ہم انہیں مزید پریشان کرینگے، انہیں پریشانی اس بات کی ہے ایم کیو ایم نے الیکشن میں اترنے کی تیاری کر لی ہے جس کے ہوتے ہوئے یہ ایک یوسی نہیں جیت سکتے 2005میں ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کی خیرات پر نعمت اللہ خان میئر بنے، 2015 میں جماعت اسلامی کو ڈھائی لاکھ ووٹ ملے جس تناسب سے ان کا ووٹ بینک ایک فیصد بھی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پکا قلعہ آپریشن کی آڑ میں ہونے والے ظلم پر کیوں خاموش تماشائی بنی رہی،قصبہ علی گڑھ میں بے گناہ عوام کے قتل عام پر جماعت اسلامی نے کبھی آواز بلند نہیں کی 25 ہزار نوجوانوں کو کراچی میں ماورائے عدالت قتل کیا گیا پیپلزپارٹی کے دہشتگرد پولیس اہلکاروں نے عورتوں کو اور شیر خوار بچوں کو شہید کیا، بلدیہ فیکٹری کیس میں معصوم نوجوانوں کو سزائے موت دی جا رہی ہے مگرجماعت اسلامی اس پر بھی سیاست کر رہی ہے اور مظلوموں کا مذاق اڑا رہی ہے ہم بلدیہ فیکٹری کیس لڑ رہے ہیں اور عوام کو حقائق بتا رہے ہیں کہ مالکان بھاگ گئے ہیں۔
ان کی کوتاہی کی وجہ سے اتنا بڑا سانحہ ہوا۔انکا کہنا تھا کہ آج کی جماعت اسلامی تقسیم ہو چکی ہے، کسی بینر پر امیر جماعت اسلامی کی تصویر نہی دکھتی جو اسلام کی بات کرتے ہیں، حافظ نعیم الرحمن کو دیکھ یہاں سب صرف ٹک ٹاک بنانے میں مصروف ہیں اور یہی کرتے رہیں گے، حقیقی مسائل پر کسی کی توجہ نہیں۔