بھارت میں ریپ کے واقعات کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مودی خاموش
عوامی احتجاج اور میڈیا کی توجہ نے خواتین کی حفاظت کے لیے آگاہی بڑھائی ہے
بھارت میں ریپ کے واقعات کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مودی خاموش
تفصیلات کے مطابق بھارت میں خواتین کے ساتھ ریپ کے واقعات ایک سنگین سماجی اور قانونی مسئلہ ہیں، اور 2025 تک کے اعداد و شمار اور رپورٹس اس کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ذیل میں 2025 تک کے تازہ ترین معلومات کی بنیاد پر بھارت میں ریپ کے واقعات کی شرح اور متعلقہ تفصیلات پیش کی جاتی ہیں:ریپ کے واقعات کی شرح (2025 تک):
- نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار:
- 2022 میں بھارت میں روزانہ اوسطاً 86 ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جو کل 31,516 کیسز بنتے ہیں۔
- 2024 میں ریپ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا۔ مثال کے طور پر، مدھیہ پردیش میں 2024 میں روزانہ اوسطاً 20 کیسز رپورٹ ہوئے، جو 2020 کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہیں (6,134 سے بڑھ کر 7,294 کیسز)۔
- اڑیسہ میں 2024 میں ریپ کے کیسز میں 8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مجموعی جرائم میں 7 فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا۔
- غیر رپورٹ شدہ کیسز: بہت سے ریپ کے واقعات سماجی دباؤ، شرمندگی، یا پولیس پر عدم اعتماد کی وجہ سے رپورٹ نہیں ہوتے۔ ماہرین کے مطابق اصل تعداد رپورٹ شدہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اہم واقعات اور عوامی ردعمل (2024-2025):
- کولکتہ ریپ اینڈ مرڈر کیس (اگست 2024): کولکتہ میں ایک 31 سالہ ٹرینی ڈاکٹر کے ساتھ ہسپتال میں ریپ اور قتل کا واقعہ پیش آیا، جس نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ اس واقعے کے بعد ہزاروں ڈاکٹرز ہڑتال پر چلے گئے، اور عوام نے “ری کلیم دی نائٹ” مارچز کے ذریعے احتجاج کیا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کو بنیادی حقوق اور خواتین کی حفاظت کے تناظر میں سنا اور نئے حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
- جھارکھنڈ میں ہسپانوی سیاح کے ساتھ ریپ (مارچ 2024): جھارکھنڈ کے دمکہ ضلع میں ایک 28 سالہ ہسپانوی سیاح کے ساتھ اجتماعی ریپ کا واقعہ رپورٹ ہوا، جس نے خواتین کی حفاظت کے بارے میں دوبارہ سوالات اٹھائے۔
علاقائی تقسیم:
- مدھیہ پردیش: 2024 میں 7,294 ریپ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 1,769 شیڈول کاسٹ، 2,062 شیڈول ٹرائب، 2,502 دیگر پسماندہ طبقات، اور 869 جنرل کیٹیگری سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل تھیں۔ قبائلی علاقوں میں ریپ کے واقعات میں 26 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
- دہلی، اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان، اور بہار: نیشنل کمیشن فار ویمن (این سی ڈبلیو) کے مطابق، 2014-2019 کے دوران سب سے زیادہ ریپ کے شکایتی کیسز ان ریاستوں سے رپورٹ ہوئے۔
- اڑیسہ: 2024 میں ریپ کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں سے زیادہ تر ناکام محبت کے معاملات سے منسلک تھے۔
اہم عوامل:
- سماجی و ثقافتی عوامل: بھارت کے پدرسری نظام، غربت، جنسی تعلیم کی کمی، اور سست عدالتی عمل ریپ کے واقعات میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
- کم سزا کی شرح: 2022 میں ریپ کے کیسز کی سزا کی شرح صرف 27.4 فیصد تھی، جو قتل یا اغوا جیسے جرائم کے مقابلے میں کم ہے۔ سخت سزاؤں کے باوجود، ثبوتوں کی کمی یا عدالتی عمل کی سست روی کی وجہ سے سزا کی شرح کم رہتی ہے۔
- پولیس کا رویہ: اکثر پولیس کی جانب سے مقدمات درج کرنے میں تاخیر، متاثرین کے ساتھ غیر مہذب سلوک، اور اخلاقی فیصلے سنائے جانے کی شکایات ملتی ہیں۔
حکومتی اقدامات:
- ساکھی ون اسٹاپ سینٹر اسکیم: 2015 میں شروع کی گئی یہ اسکیم خواتین کے خلاف تشدد کے متاثرین کو قانونی اور نفسیاتی مدد فراہم کرتی ہے۔
- بھارتیہ نیایا سنہتا (بی این ایس) 2023: اس نئے قانون نے ریپ کے لیے کم از کم 10 سال قید اور جرمانے کی سزا مقرر کی ہے، جو عمر قید تک ہو سکتی ہے۔
- عدالتی اصلاحات: 2013 کے کرمنل لاء ایمنڈمنٹ ایکٹ نے ریپ سے متعلق قوانین کو سخت کیا، لیکن نفاذ میں کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
چیلنجز:
- سماجی دباؤ: متاثرین کو خاندان یا کمیونٹی کی طرف سے مقدمات واپس لینے کا دباؤ پڑتا ہے۔
- پسماندہ طبقات: دلت، آدی واسی، اور مسلم خواتین کو عدالتی نظام تک رسائی میں اضافی رکاؤٹوں کا سامنا ہے۔
- میریٹل ریپ: بھارت میں میریٹل ریپ کو ابھی تک جرم قرار نہیں دیا گیا، جو ایک بڑا قانونی خلا ہے۔
نتیجہ:2025 تک بھارت میں ریپ کے واقعات کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر کچھ ریاستوں جیسے مدھیہ پردیش اور اڑیسہ میں۔ اگرچہ حکومتی اقدامات اور قانونی اصلاحات موجود ہیں، لیکن کم سزا کی شرح، پولیس کی غیر تربیت یافتہ رویہ، اور سماجی دباؤ اس مسئلے کو حل کرنے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ عوامی احتجاج اور میڈیا کی توجہ نے خواتین کی حفاظت کے لیے آگاہی بڑھائی ہے، لیکن بنیادی تبدیلی کے لیے نظام میں گہری اصلاحات کی ضرورت ہے۔