Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات ؟؟؟

دونوں کبھی اچھے دوست ہوا کرتے تھے لیکن آج کل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

0

ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات ؟؟؟

تفصیلات کے مطابق ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات کی نوعیت وقت کے ساتھ خاصی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، جو ابتدائی طور پر تعاون اور قربت سے شروع ہو کر بعد میں تنازعات اور دشمنی میں تبدیل ہو گئی۔ ذیل میں ان کے تعلقات کا ایک جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

ابتدائی تعاون (2016-2020):

  • مشاورتی کردار: 2016 میں ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد، ایلون مسک نے ان کی اکنامک ایڈوائزری کونسل اور مینوفیکچرنگ گروپ میں شمولیت اختیار کی۔ مسک نے اس وقت کہا تھا کہ وہ تنقید کرنے کے بجائے نظام کے اندر رہ کر مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔
  • ماحولیاتی اختلاف: 2017 میں، جب ٹرمپ نے امریکا کو پیرس کلائمیٹ ایگریمنٹ سے الگ کیا، تو مسک نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور مشاورتی کونسل سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ کے بغیر وہ مزید مشورے نہیں دے سکتے۔

2024 صدارتی انتخابات اور دوبارہ قربت:

  • مسک کی حمایت: 2024 کے صدارتی انتخابات میں مسک نے ٹرمپ کی حمایت کی۔ جولائی 2024 میں پنسلوینیا میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد مسک نے فوری طور پر ان کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے 250 ملین ڈالر سے زیادہ عطیہ کیا اور انتخابی ریلیوں میں بھی حصہ لیا۔
  • حکومتی کردار: ٹرمپ کی جیت کے بعد، انہوں نے مسک کو ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی (ڈی او جی ای) کی سربراہی سونپی، جس کا مقصد سرکاری اخراجات میں کمی اور بیوروکریسی کو کم کرنا تھا۔
  • مار-اے-لاگو میں وقت: مسک نے الیکشن کی رات ٹرمپ کے ساتھ فلوریڈا کے مار-اے-لاگو ریزارٹ میں گزاری، اور ٹرمپ نے اپنی فتح کی تقریر میں مسک کی تعریف کی۔

تنازعات اور دشمنی (2025):

  • اختلافات کا آغاز: 2025 کے اوائل سے دونوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے، خاص طور پر اخراجات میں کٹوتیوں اور بجٹ سے متعلق مسک کی تجاویز پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے۔
  • تلخ کلامی: مارچ 2025 میں ایک کابینہ اجلاس کے دوران مسک اور ٹرمپ کے وزرا (خاص طور پر سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو اور سیکریٹری ٹرانسپورٹیشن شون ڈفی) کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ مسک نے وزرا پر اخراجات کم کرنے میں ناکامی کا الزام لگایا۔
  • ایپسٹین فائلز تنازع: جون 2025 تک تعلقات مزید خراب ہو گئے جب مسک نے بغیر ثبوت کے الزام لگایا کہ ٹرمپ کا نام جیفری ایپسٹین کی فائلوں میں موجود ہے۔ مسک نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کی حمایت نہ ہوتی تو ٹرمپ 2024 کا الیکشن ہار جاتے۔
  • ٹرمپ کی دھمکیاں: جواباً، ٹرمپ نے مسک کے سرکاری معاہدوں اور سبسڈیز کو ختم کرنے کی دھمکی دی، جو ان کی کمپنیوں (ٹیسلا اور اسپیس ایکس) کے لیے اہم ہیں۔ ٹرمپ نے مسک پر منشیات کے استعمال کا الزام بھی لگایا اور انہیں “پاگل” قرار دیا۔
  • ملک بدری کی دھمکی: جولائی 2025 میں ٹرمپ نے مسک کو امریکا سے ملک بدر کرنے پر غور کرنے کا عندیہ دیا، یہ کہتے ہوئے کہ مسک نے اپنا “مینڈیٹ کھو دیا” اور شاید انہیں جنوبی افریقہ واپس جانا پڑے۔
  • امریکا پارٹی کا اعلان: مسک نے جولائی 2025 میں “امریکا پارٹی” کے قیام کا اعلان کیا، جسے سیاسی تجزیہ کاروں نے ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ٹرمپ نے اسے “مضحکہ خیز” کہہ کر مسترد کیا۔

موجودہ صورتحال (جولائی 2025):

  • دونوں کے درمیان تعلقات اب کھلے عام دشمنی کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جو سوشل میڈیا پر الزامات، دھمکیوں اور ذاتی حملوں تک جا پہنچے ہیں۔
  • مسک کی کمپنی ٹیسلا کے شیئرز جون 2025 میں 14-15% گر گئے، جو اس تنازع کے مالی اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
  • سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ تنازع دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ دونوں کی بڑی انا اور اثر و رسوخ اسے ایک طویل لڑائی بنا سکتے ہیں۔

نتائج:ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات ایک پیچیدہ رولر کوسٹر رہے ہیں، جو سیاسی اور کاروباری مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔ ابتدائی تعاون کے بعد نظریاتی اور ذاتی اختلافات نے انہیں ایک دوسرے کے مدمقابل لا کھڑا کیا۔ مسک کی نئی سیاسی جماعت اور ٹرمپ کی انتظامیہ کے اقدامات سے یہ تنازع مستقبل میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

Comments
Loading...