کراچی نے فیصلہ دے دیا اور جو کراچی کا فیصلہ ہوتا ہے وہی اس قوم اور ملک کا فیصلہ ہوتا ہے۔ سید مصطفٰی کمال
پیپلز پارٹی والوں آئندہ ہمارے پاس ووٹوں کی بھیک مانگنےنہیں آنا ہم متعصب لوگوں کو ووٹ نہیں دینگے۔ سید مصطفٰی کمال
کراچی نے فیصلہ دے دیا اور جو کراچی کا فیصلہ ہوتا ہے وہی اس قوم اور ملک کا فیصلہ ہوتا ہے۔ سید مصطفٰی کمال
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان شاہ فیصل ٹاؤن کے زیر اہتمام شاہ فیصل کالونی نمبر 02 گرین بیلڈ پر 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں ایک عظیم و شان جلسے کا انعقاد کیا گیا۔جلسے میں کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول ، سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفٰی کمال ، ڈپٹی کنوینر انیس احمد قائم خانی ، اراکین رابطہ کمیٹی نے شرکت کی۔
اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفٰی کمال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں کے سارے پروپیگنڈے کے دھرے رہ گئے عوام کو ایم کیو ایم سے دور کرنے کی ساری سازشیں دم توڑ گئیں اور اب صرف ایک ہفتے کا ٹائم باقی رہ گیا ہم نے تو چند دنوں پہلے قائد اعظم کے مزار کے سائے میں کراچی والوں سے انکا فیصلہ لےلیا ہم نے پیسے پر گھمنڈ کرنے والوں کو بتایا کہ سرکاری طاقت رکھنے اور 22 ہزار ارب روپے جیب میں ڈالنے کے باوجود کراچی کو ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔
انہوں نے کہا کہ آج باطل قوتوں کے تابوت میں شاہ فیصل کورنگی ڈسٹرکٹ والو میری ماں بہنوں تم نے اخری کیل ٹھوک دی ہے انشاءاللہ تعالی جو انویسٹمنٹ ہوئی ہے اس شہر کے مینڈیٹ کو چلانے کے لیے وہ سب پیسے زائد ضائع ہو گئے کورنگی ڈسٹرکٹ کی میری ماں بہنوں بزرگو نوجوانوں آج پاکستان پیپلز پارٹی حلق پھاڑ پھاڑ کر یہ بتا رہی ہے کہ ایم کیو ایم کتنی بری جماعت ہے ایم کیو ایم کے لوگ کتنے برے ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ ادھر ادھر کی بات کرنے کے بجائے یہ اعلان کرو کہ اج کے بعد تم کبھی بھی ایم کیو ایم کے دروازے پر ووٹوں کی بھیک مانگنے نہیں آگے اور یہ اعلان بھی کرو کہ ہم ایم کیو ایم کے دروازے پر آئندہ کبھی ووٹوں کی خیرات مانگنے اور حکومت کی بھیک مانگنے نہیں آوگے ہمت پیدا کرو اور اعلان کرو اور میں پیپلز پارٹی کے نوجوانوں کو کہتا ہوں کہ اگر تاریخ یاد نہیں ہے تو اپنے بزرگوں ذرا تاریخ سن لو یہ جو کراچی قبضہ کرنے کے لیے یہ شہر پٹے پہ دے رکھا کہ سینٹرل کوئی قبضہ کر کے دے کماڑی کوئی قبضہ کر کے دے یہ سب کچھ نہیں کر سکتے۔
پیپلز پارٹی والوں تم کتنے بد نصیب ہو کہ تم کو سب دکھ رہا ہے کہ جس طرح سے اس شہر نے ایم کیو ایم کی آواز پران لبیک کہہ دیا ہے اور یاد رکھو ایم کیو ایم اپنے 2013 کا مینڈیٹ واپس لینے جا رہی ہے اور 2013 کا مینڈیٹ کیا تھا اس شہر میں 20 نیشنل اسمبلی کی سیٹیں تھیں اور ایم کیو ایم 17 جیتی تھی سب کو یہ دکھ رہا ہے کہ ایم کی ایم اپنے 2013 کا کھویا ہوا مینڈیٹ واپس لینے جا رہی ہے لیکن پیپلز پارٹی والو تم کتنے بد قسمت ہو ایم کیو ایم کے پاس تو وزیراعظم کا کوئی کینڈیڈیٹ نہیں ہے تمہارے پاس وزیراعظم کا کینڈیڈیٹ ہے لیکن تم نے ایم کیو کو کراچی کے لوگوں کو ان کے ساتھ زیادتی کر کے دیوار سے لگا دیا تم نے اس شہر کو ایک قطرے پینے کا پانی نہیں دیا آج جو پانی میری لائنوں میں آتا ہے وہ ایم کیو ایم کے دور میں کئے جانے والے کاموں کی وجہ سے آرہا ہے تم نے ان لائنوں پہ بھی ہائڈینڈ بنا کر ہمارا پانی چوری کر کے ہمیں ہی بیچتے ہو آج دنیا چاند پر جا رہی ہے لیکن میرا شہر کا بچہ گٹر میں گر کر مر رہا ہے تم اتنے ظالم ہو تم نے اس کوٹا سسٹم کو رائج کیا تمہاری پہلے والی نسلوں میں اور تمہاری اج کی نسل مجھے اس کوٹا سسٹم پہ بھی کوٹا نہیں ٹھہری۔
جب میرا کوٹا جب تمہارا کوٹا دہی ختم ہو جاتا ہے تم شہری کوٹے پہ جالی دو مسائل بنا کر میرے شہر کا کوٹا کھا جاتے ہو پانچ لاکھ نوکریوں میں سے ایک نوکری کراچی اور حیدراباد کے نوجوانوں کو تم نے نہیں دی آج شہر میں ایک سڑک ثابت نہیں ہے اج اس شہر میں کوئی پیلے کالا لال اسکول کوئی کام نہیں کر رہا کسی ہسپتال میں دوا نہیں ہے کوئی پار گرین نہیں ہے اج شہر کا انسان اپنی ذاتی جائز زمینوں کو تمہارے قبضے سے چھڑوانے کے لیے تمہارے سسٹم کے لوگوں کو کروڑوں روپے کروڑوں روپے رشوت دے کر اپنی جائز زمین چھڑواتا ہے کوئی ادارہ کوئی کراچی میں حیدراباد میں سندھ میں ادارہ نہیں ہے جہاں پر کوئی رشوت کے بغیر کوئی کام کر واسکے آج پیپلز پارٹی کے لوگوں نے بلاول بھٹو زرداری کی وزیراعظم کی کرسی کے راستے میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں نہیں بن سکتے وزیراعظم بلاول بھٹو ایم کیو ایم کے بغیر اج تک نہ کوئی وزیراعظم بنا ہے اور نہ ائندہ بنے گا وزیراعظم اور ہم کسی کو سپورٹ نہیں کرینگے کراچی نے فیصلہ دے دیا اور جو کراچی کا فیصلہ ہوتا ہے وہی اس قوم اور ملک کا فیصلہ ہوتا ہے۔