Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

تھر کے پاور پلانٹس سے بننے والی سستی بجلی ہے۔ مراد علی شاہ

اسوقت ملک میں بجلی کا بڑا مسئلہ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ

0

تھر کے پاور پلانٹس سے بننے والی سستی بجلی ہے۔ مراد علی شاہ

کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے لاہور کے صحافیوں کی ملاقات۔ وزیراعلیٰ سندھ کو صحافیوں نے بتایا کہ وہ تھر کا دورہ کر کے آئے ہیں۔ تھر اور صوبے کے ترقیاتی اور دیگر مسائل پر بات چیت۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اسوقت ملک میں بجلی کا بڑا مسئلہ ہے۔ تھر کے پاور پلانٹس سے بننے والی سستی بجلی ہے۔ تھر سے پیدا ہونی والی بجلی براہ راست نیشنل گرڈ میں جاتی ہے۔ تھر سے پیدا ہونے والی سستی بجلی سے پورا ملک روشن ہوتا ہے۔

ہیلتھ انشورنس کے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ کی بات۔ انہوں نے کہا کہ جو رقم سرکار کے پاس ہے وہ عوام کی امانت ہے۔ ہم عوام کا پیسہ عوام پر لگا کر ان کی زندگیاں بدلنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کی انشورنس کر کے 50 فیصد انشورنس کمپنی اور نجی اسپتالوں کو دینا نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ بھی فنڈز سرکاری اسپتالوں پر لگا کر عوام کا مفت علاج کریں۔ ہمارے جے پی ایم سی، این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، سائبر نائف، گمبٹ اسپتال بہت کامیاب ہیں۔ این آٗئی سی وی ڈی کے 30 چیسٹ پین یونٹس ہیں اور وہ شہر کے مختلف علاقوں میں لگائے ہیں۔ سندھ حکومت زراعت کی ترقی پر کام کر رہی ہے۔ سندھ میں 4 بلین روپے کی پیاز کاشت ہوئی ہے۔ ہم زراعت کو مکینزم اور جدید ٹیکنالاجی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تھر میں موجود کوئلے سے پورے ملک کی بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ تھر کی سستی بجلی سے ملک کی صنعتی ترقی ہوسکتی ہے۔ آج سے 10 سال پہلے ہم نے کہا رینیوئینل انرجی میں سرمایہ کاری کریں۔ آج ہماری بات سہی ثابت ہو رہی ہے۔ تھر سے 3000 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے اور سیدھی نیشنل گرڈ میں جاتی ہے۔ تھر سے پیدا ہونے والی ببجلی سندھ مین استعمال نہیں ہوتی۔ ہمیں آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے صنعتی ترقی کی روشنی میں دیکھنے ہونگے۔ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے 20 تا 25 سال کے ہوتے ہیں۔ جس صوبے سے گیس نکلتی ہے اس پر اس کا پہلا حق وہاں کے لوگوں کا ہے۔ تھر میں سندھ حکومت کی اپنی 2 بلین روپے کی سرمایہ کاری ہے۔ سندھ حکومت کی سرمایہ کاری کا فائدہ پورے ملک کو ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سے لاہور میں 6 فیصد بارش ہوتی ہے اور لاہور سے سنگاپور میں زیادہ برسات ہوتی ہے۔ سندھ تاریخی طور پر سرسبز اور شاداب تھا، دریاؤں پر بند نہیں تھے۔ سب سے پہلے بیراج بنے جس سے پانی روکا گیا۔ سندھ میں قدرتی نکاسی آب کے راستے تھے۔ سنہ 1868 میں پہلا بیراج تعمیر ہوا۔ اس وقت جو نارا کینال ہے وہ اصل میں ڈورا تھا۔ سکھر بیراج بنا تو نارا کینال ہوگیا۔ یہ جو پانی کے بہاؤ کی روکتھام ہوئی وہ بھی موسمیاتی تبدیلی کا سبب ہے۔ ایل بی او ڈی کو بنا کر تمام قدرتی پانی کی گزرگاہیں بند ہو گئیں۔ سیلاب میں ایل بی او ڈی کو 17 شگاف پڑے تھے۔ اب نیدھر لینڈ میں جو بھی دریاؤں پر بند بنائے گئے ہیں وہ ٹوٹ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بھی قدرتی آبی گزرگاہوں کو بحال کر رہے ہیں۔ برطانیہ نے جب ریلویز بنائی تو 200 فٹ کی پل بنائی اور ہم نے ساتھ سڑک بنائی۔ اس صورتحال میں پانی کہاں جائے گا، اس وجہ سے اب دوب رہے ہیں۔ سندھ حکومت 21 لاکھ گھر سیلاب متاثرین کیلئے بنا رہی ہے۔ ہر گھر میں ایک پکا کمرا اونچائی پر بنا رہے ہیں۔ ہر ایک گھر پر 300000 روپے لاگت آ رہی ہے۔ مکان کی تعمیر میں گھر میں رہنے والے خود مزدوری کر رہے ہیں۔ دنیا میں 150 ممالک ایسے ہیں جن کی آبادی 12 ملین سے کم ہے۔ 21 لاکھ گھروں میں 120 ملین لوگ آباد رہے ہیں۔ 50 بلین روپے وفاقی حکومت دی رہی ہے اور سندھ حکومت 50 بلین دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تھر میں ڈاکٹر ثمر مبارک کا پروجیکٹ وفاقی حکومت کا تھا۔ وہ پروجیکٹ نہیں چل سکا اب ہم اس کے اثاثے سنبھال رہے ہیں۔ صوبائی حکومت بجلی پیدا کر سکتی ہے اور ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن بھی کر رہی ہے۔ مگر یہ سارے کام وفاقی حکومت کر رہی ہے۔ سندھ حکومت نے 2014 میں ٹراسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی بنائی۔ کمپنی نے نوری آباد تا کراچی بجلی کی ٹرانسمیشن لائن بچھائی۔ اب ہم نے بجلی بنانے کی کمپنی بنائی ہے۔ اب سندھ حکومت خود ٹیرف مقرر کرے گی۔ بجلی مہنگی ہونے سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔ ایک طرف 40000 میگا واٹ پیدا کر رہے ہیں اور ضرورت 300000 ہے۔ جو فیکٹریاں 8 گھنٹے دن کی ایک شفٹ چلا رہی ہیں ان کو دوسری چلانے کی ہدایت کی جائے۔ فیکٹری کی دوسری شفٹ میں کم قیمت پر بجلی مہیا کی جائے۔ ہم بجلی کو سستا کرینگے تو ڈمانڈ بڑھے گی۔ عوام کو امید دلوانے ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پیشنگوئی کی کہ 40 سال بعد گھر کراچی سے بڑا شہر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم بجلی سستی پیدا کر کے صنعتی ترقی کیلئے استعمال کرینگے۔ ہم تھر میں انجنیئرنگ یونیورسٹی قائم کر رہے ہیں۔ انجنیئرنگ یونیورسٹی سے بچے ٹیکنیکل ڈگری حاصل کر کے وہاں نوکری کرینگے۔ پنجاب نے چھوٹے شہروں میں بھہ چھوٹی چھوٹی صنعتیں لگائی ہیں۔ پنجاب کی چھوٹی صنعتوں کا بہترین ہے۔ سندھ حکومت چھوٹی صنعتوں کو فروغ دے رہی ہے۔

Comments
Loading...