کراچی جو ماضی میں دنیا کا چھٹا خطرناک شہر تھا؛ آج پرامن اور ترقی کرتا ہوا شہر ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
شرکاء میں پاک فوج کے افسران، سول سرونٹس اور 24 دوست ممالک کے 240 فوجی افسران چیف انسٹرکٹر میجر جنر محمد نعیم اختر کی سربراہی میں شریک
کراچی جو ماضی میں دنیا کا چھٹا خطرناک شہر تھا؛ آج پرامن اور ترقی کرتا ہوا شہر ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس 2025 کے وفد کی ملاقات۔ شرکاء میں پاک فوج کے افسران، سول سرونٹس اور 24 دوست ممالک کے 240 فوجی افسران چیف انسٹرکٹر میجر جنر محمد نعیم اختر کی سربراہی میں شریک تھے۔ ملاقات میں صوبائی وزرا شرجیل میمن، ناصر شاہ، سید سردار احمد شاہ، سعید غنی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، سیکریٹری ٹو سی ایم رحیم اور صوبائی سیکریٹریز شریک ہوئے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس 2025 کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ تاریخی طور پر صوفیاء کرام کی دھرتی ہے۔ سندھ میں تمام مذاہب اور مختلف مکتب فکر کے لوگ امن اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں۔ پاکستان میں 1990 کی دہائی میں انتہاپسندی، دہشتگردی نے معاشری میں بیچینی پیدا کردی تھی۔ حکومت سندھ نے ایک مربوط منصوبہ بندی کے تحت آپریشن کر کے امن امان بحال کیا۔ کراچی جو ماضی میں دنیا کا چھٹا خطرناک شہر تھا؛ آج پرامن اور ترقی کرتا ہوا شہر ہے۔ سندھ پولیس صوبے میں امن و امان قائم کرنے والا اہم ادارہ ہے۔ سر چارلس نیپئر نے 1843 میں پولیس قائم کی، ابتدائی نفری 4342 تھی۔ اسوقت سندھ پولیس ایک لاکھ 20 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ کراچی دنیا کا چھٹا بڑا شہر اور ملک کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے۔ صحرائے تھر تا دریائے سندھ کے کچے اور کشمور تا کراچی تک قیام امن سندھ پولیس کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ نے پولیس کو مستحکم کرنے کیلئے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ہم نے سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو اپ گریڈ کیا ہے۔ سندھ سیف سٹی منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ صوبے بھر کے 40 ٹول پلازہ پر چہرے اور نمبر پلیٹس کی خودکار شناخت کرنے والا ایس 4 منصوبہ شروع کیا ہے۔ انویسٹیگیشن کے بجٹ میں اصافہ، تھانوں کو 4 ارب 80 کروڑ کا براہ راست بجٹ دیا گیا ہے۔ ہم نے پولیس کے لیے 4.961ارب روپے کی ہیلتھ انشورنس پالیسی دی ہے۔ شہدا پیکج کو 10 ملین سے بڑھا کر 23 ملین کیا گیا ہے۔ شہید اہلکار کی ریٹائرمنٹ کی عمر تک لواحقین کے لیے تنخواہ کا اجراء کیا گیا ہے۔ شہید اہلکار کے خاندان کو 2 نوکریاں بھی دیتے ہیں۔ حکومت سندھ نے انسداد دہشتگری اور انتہاپسندی کے لیے خلاف اقدامات کیے ہیں۔ معلومات کا تبادلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہمراہ مشترکہ آپریشن کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کے خاتمہ اور امن کے فروغ کیلئے سماجی رابطے بڑھائے ہیں۔ حکومت کچے میں انفرااسٹرکچر کی بہتری اور سماجی خدمات سے حالات بہتر کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ کچے کے حالات پر ضابطہ لانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی سندھ پولیس کو فراہم کر رہے ہیں۔ سندھ پولیس کو ڈرون، اے پی سی گاڑیاں اور 12.7 گنز دے رہے ہیں۔ کچے میں نقل و حمل بہتر بنانے کیلئے سڑکیں اور پل تعمیر کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے خطاب میں بجٹ 25-2024ء کا حساب بھی بتا دیا جس میں انہوں نے کہا کہ تین کھرب سے زائد کے بجٹ میں 1912 ارب روپے کے محاصل شامل ہیں۔ بجٹ میں 959 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ 184 ارب 80 کروڑ روپے سرمایہ کاری پر خرچ ہوں گے۔ اس سال سندھ کی آمدنی 2 کھرب، 56ارب اور 20 کروڑ رہے گی۔ 1900 ارب 80 کروڑ روپے وفاقی محاصل سے موصول ہوں گے۔ 661 ارب 90 کروڑ روپے صوبائی آمدنی ہوگی۔ مالی سال کے پہلے 2 ماہ میں ایف بی آر سے 139 ارب روپے کم موصول ہوئے۔ 35 ارب 90 کروڑ روپے صوبائی محصول میں کمی کا سامنا ہے۔ اخراجات 300 ارب 90 کروڑ تک پہنچ گئے ہیں۔ حکومت سندھ کو 28 ارب 90 کروڑ کے خسارے کا سامنا ہے۔ مالیاتی نظم و ضبط ضروری ہے۔ تنخواہوں اور پنشن سمیت صوبے کے ضروری ماہانہ اخراجات 143ارب روپے ہیں۔ بیرونی امدادی منصوبوں میں انفرا اسٹرکچر، سماجی تحفظ اور عوامی خدمات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سنہ2022ء کے تباہ کن سیلاب سے 70 فیصد صوبہ متاثر ہوا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ افراد بے گھر اور بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے۔ حکومت نے ہنگامی اقدامات کیے، 20 ارب ڈالر نقصانات کا تخمینہ لگایا۔ جینیوا کانفرنس میں 11 ارب 60 کروڑ ڈالر کا بحالی منصوبہ پیش کیا۔ اس سال سندھ کا ترقیاتی بجٹ 959 ارب روپے ہے۔ ترقیاتی بجٹ انفرا اسٹرکچر، تعلیم، صحت اور زراعت پر خرچ ہوگا۔ سرکاری اور نجی شعبے میں شراکت داری پر پیشرفت جاری ہے۔ سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو ایشیا کا چھٹا بہترین یونٹ قرار دیا گیا۔ سیلاب متاثرین کیلئے گھروں کی تعمیر کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ شمسی توانائی کے منصوبے سے 3 لاکھ 60 ہزار خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ یہ اقدامات حکومت سندھ کے بحالی کے عزم اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے عکاس ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے شرکاء کو سندھ میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے آگاہی فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ملیر ایکسپری وے، دو جام صادق پل، پورٹ تا جام صادق پل تک ایکسپریس وے اہم منصوبے ہیں۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرنے کے لیئے ریڈ لائن پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ییلو لائن اور دیگر ٹرانسپورٹ کے منصوبوں پر کام شروع ہو رہا ہے۔ کراچی شہر کو جدید بنانے کے لئے سڑکوں، راستوں، فلائی اوور اور انڈر پاسسز بن رہی ہیں۔ کراچی شہر کے پانی کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے کے-فور، حب کئنال اور دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے۔ سندھ کے تمام 30 اضلاع میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔ اس مالی سال میں تمام جاری اسکیمز کو مکمل کرنے کے لیئے خصوصی طور پر فنڈز مختص کیئے ہیں۔ سرمایہ کاری کے لیئے خصوصی صنعتوں کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔