ہمارا مقصد کراچی کی نئی نسل کو کراچی واپس لاکر دینا ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کراچی میں کھلنے والے کیمپس کو درست سمت میں چلانے کیلئے متعلقہ انڈسٹری کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
جس طرح کراچی کے تاجر پورے پاکستان کو چلاتے ہیں اسی طرح انہیں کراچی کے تعلیمی اداروں کو بھی اُن کی شراکت کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کراچی : چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ پاکستان و وفاقی وزیر تعلیم اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مختلف جامعات کے کیمپس کراچی میں کھول چکے ہیں اور مزید اگلے چند ماہ میں کھلنے ہیں، ہمارا مقصد کراچی کی نئی نسل کو کراچی واپس لاکر دینا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے علاقے کورنگی انڈسٹریل ایریا میں نیشل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کے کراچی کیمپس کے افتتاح کے موقع پر تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارا حکومتوں کے ساتھ رہنے اور حکومتوں سے نکلنے کا تجربہ کچھ اچھا نہیں رہا ہے اسی لئے ہم چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد اُن تمام جامعات کے کیمپس کراچی میں کھولنا چاہتے ہیں جو کراچی میں موجود نہیں ہیں، ہم رہیں یا نہ رہیں کراچی میں کھلنے نئے کیمپس کو درست سمت میں چلانے کیلئے متعلقہ انڈسٹری کے لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کراچی کی تاجر برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کراچی کے تاجر پورے پاکستان کو چلاتے ہیں اسی طرح انہیں کراچی کے تعلیمی اداروں کو بھی اُن کی شراکت کی ضرورت ہے کیوں کہ یہیں سے کراچی اور پاکستان کا مستقبل نکلتا ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج اسلام آباد اتنی ترقی کرچکا ہے کہ پاکستان کا حصہ نہیں لگتا اور جدت دیکھ کر خوشی ہوتی ہے جبکہ کراچی کو اپنے ٹیکس سے پورے ملک کو پالتا ہے اُس کی حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، ہم دعا کرتے ہیں کہ کراچی سمیت پورا پاکستان اسلام آباد جیسا بنے۔ آخر میں انہوں نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے بلدیاتی نمائندوں کی کارکردگی کتنا خراب ہے یہ معلوم کرنے کیلئے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہم سب جانتے ہیں کہ موجودہ بلدیاتی نمائندے اس گلے سڑے اور معذور بلدیاتی قانون کے تحت کچھ کر ہی نہیں سکتے، جو بلدیاتی انتخابات کروائے گئے وہ انتخابات نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی سازش تھی جس میں جماعت اسلامی بھی برابر سے شریک رہی اسی لئے ہم نے اُس سازش کا بائیکاٹ کردیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو وزارتوں کا کبھی شوق نہیں رہا اور اسی لئے ہم وہ واحد جماعت ہیں جو حکومت میں رہتے ہوئے بھی وزارتیں چھوڑ دیتے ہیں۔ اس موقع پر قائد حزب اختلاف برائے سندھ اسمبلی علی خورشیدی، سید امین الحق، حق پرست اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار، سیکریٹری ایجوکیشن محی الدین وانی اور ٹیکسٹائل و آئی ٹی انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات موجود تھیں۔