پہلی مرتبہ جماعت اسلامی نے ہی اس پورے مسئلے کو پوری قوم کے سامنے پیش کیا۔ حافظ نعیم الرحمن
ہم نے تفصیل سے جب ورکنگ پوری قوم کے سامنے رکھی تو اس کے بعد پھر ہم نے احتجاجی تحریک شروع کی۔ حافظ نعیم الرحمن
پہلی مرتبہ جماعت اسلامی نے ہی اس پورے مسئلے کو پوری قوم کے سامنے پیش کیا۔ حافظ نعیم الرحمن
کراچی : امیر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کل وزیراعظم صاحب نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا۔ اس کمی کا تو ہم نے خیر کیا ہے۔ حکومت ائی پی پیز سے بات کرنے کے لیے حکومت تیار نہیں تھی۔ حکومت یہ کہہ رہی تھی کہ چونکہ ہمارے ان سے معاہدے ہیں اور یہ بین الاقوامی عدالتوں میں چلے جائیں گے۔ اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ لہذا ان ائی پی پیز کو ہمیں ایسے ہی چلنے دینا ہے اور یہ ہماری مجبوری ہے۔ پہلی مرتبہ جماعت اسلامی نے ہی اس پورے مسئلے کو پوری قوم کے سامنے پیش کیا۔ پوری ورکنگ کی اور یہ بتایا کہ 1994 سے لے کر اب تک جو ائی پی پلیز بنی ہے اور ان سے معاہدے ہوئے اکثریت جعل سازی پر مشتمل ہے۔ یا اس میں دھوکہ دہی کی گئی ہے یا اس میں کرپشن کی گئی ہے یا اس میں اپنے من پسند لوگوں کو نوازا گیا ہے۔ اس میں حکومتی ائی پی پیز بھی شامل ہیں اور اس میں انڈیویجولز کے آیی پی پیز بھی ہیں اور بین الاقوامی آیی پی پیز بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے تفصیل سے جب ورکنگ پوری قوم کے سامنے رکھی تو اس کے بعد پھر ہم نے احتجاجی تحریک شروع کی۔ اپ کو یاد ہوگا کہ راولپنڈی اسلام اباد میں تاریخی دھرنا ہوا۔ اور دھرنے کے ایک ہفتے تک تو حکومت ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ کہ ائی پی پی سے بھی کوئی بات ہو سکتی ہے۔ لیکن بالاخر ہم نے انہیں مجبور کیا۔ اور اس کے بعد حکومت نے دھرنے سے ایک معاہدہ کیا۔ اور اس معاہدے کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ ہم نے یہ بات اس میں طے کی تھی کہ جو ائی پی پیز سے نیگوشییٹ کیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں جو قومی خزانے کو فائدہ ہوگا اور اس کا اثر بجلی کے بلوں میں انا چاہیے۔ اس پر حکومت تیار نہیں ہو رہی تھی۔ لیکن ہم نے معاہدے میں اس شق کو شامل کروایا اور پھر بات وہاں ختم نہیں ہوئی اس کے بعد بھی ہم نے اپنے احتجاج کے سلسلے کو جاری رکھا۔ پاکستان کی تاریخ کی سب سے کامیاب ہڑتال گزشتہ سال 28 اگست کو کی۔جس میں پوری قوم اور تاجر برادری نے متفقہ طور پر شرکت کی اور اس طرح یہ پریشر ڈیویلپ ہوتا چلا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران حکومت لیٹولال سے کام لیتی رہی۔ لیکن ہم نے اس کا تعاقب جاری رکھا اور بالاخر ابھی یہ پہلا مرحلہ ہے۔ ہم اسے سمجھتے ہیں کہ جس میں وزیراعظم نے یہ اعلان کیا ہے۔ ہم یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ سات روپے 41 پیسے فی یونٹ کا جو ریلیف ہے یہ ریلیف اس سے کہیں زیادہ ہونا چاہیے۔ مجموعی طور پر پاکستان میں بجلی کی پیداوار ہے اس کی جو کپیسٹی ہے وہ تو تقریبا 45 ہزار میگا واٹ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ جبکہ ہماری کنزمشن 30 ہزار سے زیادہ نہیں جاتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بقیہ بجلی 15 ہزار میگا واٹ کی پیمنٹ کرتے ہیں جو بجلی بنتی ہی نہیں ہے۔ ہمارے پاس ہائیڈل پاور موجود ہے جو سستی بجلی ہے نیوکلئر پاور سے جب ہماری انویسٹمنٹ ہو چکی ہے تو سستی بجلی بنتی ہے۔ اسی طرح سولر میں اس کے بہت بڑے امکانات موجود ہیں۔ اسی طرح ونڈ انرجی ہے تو یہ جو اور ہمارا اپنا کوئلہ ہے ہم کیوں درامدی کوئلے کے پر یہ پلانٹ چلائیں۔ ہم کیوں گیس پر یہ پلانٹ چلائیں ہم کیوں ار ایل این جی پہ یہ پلاٹ چلائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کیوں آئل پر یہ پلانٹ چلائیں کہ جس کو ہم افورڈ ہی نہیں کر سکتے۔ یہ جو کچھ پچھلے عرصے میں ہوتا رہا بدقسمتی سے ہر حکومتی اس میں شامل رہی۔ 1994 سے یہ سلسلہ شروع ہوا اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ پھر اس کے بعد نواز شریف صاحب کی حکومت ائی یہ سلسلہ اگے بڑھا۔ نئے ائی پی پیز اس میں شامل ہوتے رہے پھر اس کے بعد مشرف صاحب کے زمانے میں تو کے الیکٹرک کے ای ایس سی کی پرائیویٹائزیشن ہو گئی اور اس میں کرپشن ہوئی اور لوٹ مار ہوئی اور ایم کی ایم پوری طرح اس میں شریک جرم تھی۔ کراچی کا ادارہ کے ایم سی کمبوں کی قیمت کے برابر ان لوگوں نے مل کر بیچ دیا اور اج تک بھگت رہا شہر کراچی۔
انہوں نے کہا کہ قاف لیگ آئی اور قاف لیگ کے بعد پھر پیپلز پارٹی کی حکومت ائی ہر حکومت میں ایم کیو ایم شامل رہتی ہے اور یہ لوٹ مار کا سلسلہ پورے ملک میں جاری رہا۔ اس شہر کے لوگ بھی پریشان رہے پورے ملک کے لوگ پریشان رہے اور اس کے بعد پھر نواز شریف صاحب اور پھر پی ٹی ائی۔ اور پھر اس کے بعد جو ہے پی ڈی ایم ون اور پی ڈی ایم ٹو یہ ساری حکومتوں میں ائی پی پیز کو مکمل سپورٹ دی گئی۔ عمران خان صاحب کے زمانے میں جن ائی پی پیز کی فیس سے نیگوشیٹ کیا گیا وہ چند ائی پی پیز سے نیگوشییٹ کیا گیا۔ وہ بھی ایک فکس پرائس پر اور جو رپورٹ ائی اس پر عمل درامد نہیں ہوا۔ اس لیے کہ ان کے قریب ترین جو لوگ تھے وہ ان ائی پی پیز کے اونرز میں شامل تھے۔ لہذا اس دوران جتنی بھی حکومتیں رہی ہیں ان سب حکومتوں نے خون نچوڑنے والی آئی پی پیز کو سپورٹ فراہم کیا۔ اس لیے بات صرف اتنی سی نہیں ہے کہ سات روپے 41 پیسے کم ہو گئے یا سات روپے 59 پیسے کم ہو گئے۔ بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے بھی پاکستان کے ساتھ یہ کھلواڑ کیا ہے ان سب کو قوم کے سامنے لانا پڑے گا۔ فرانزک اڈٹ ہوگا تو سب کا پتہ چل جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہر حکومت اور ائی پی پیز اور نیپرا یہ سن 97 سے بننے والا یہ ادارہ یہ نیبرا کیا کرتا ہے۔ ہر جرم کے اندر اپ جائیں گے تو نیپرا کی شرکت موجود ہوگی۔ رپورٹیں ساری ہوتی ہیں اگر اپ صرف نیپرا کی رپورٹوں پہ ہی چلے جائیں تو اپ کو رپورٹیں ساری مل جائیں گی۔ لیکن رپورٹیں ایک طرف فیصلے دوسری طرف فیصلے چند لوگوں کو مضبوط کرنے والے کرپشن کے اس کاروبار کو بڑھانے والے ہوتے ہیں۔ اور عوام اس کو بھگتے رہتے ہیں۔ میں شہباز شریف صاحب سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ فارنزک اڈٹ کرایا جائے اور ابھی تو اپ نے 27 یا 29 ائی پی پیز کی بات کی ہے۔ یہ تو 100 سے زائد ائی پی پیز ہیں۔ تو گورنمنٹ کی اپنی ائی پی پیز سے کیوں بات نہیں کرتی ہے۔ بقیہ آئی پی پیز سے بات کرنے کا عمل تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے ۔ براہ راست بجلی کے بلوں پہ اس کا اثر انا چاہیے۔ بہرحال ہماری جدوجہد کے نتیجے میں اگر ایک بات قوم کے سامنے ائی ہے۔ اور اس کے اوپر کوئی پیشرفت ہوئی ہے تو ہم اس کو ویلکم کرتے ہیں۔ لیکن بات کا یہ اغاز ہے یہ اختتام نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت عالمی مارکیٹ میں کل بھی سات فیصد کمی ہوئی ہے۔ پیٹرول اس وقت تاریخ کی سستی ترین قیمت پر مل رہا ہے۔ یعنی پچھلے اگر اپ چار پانچ چھ سال کو دیکھیں گے تو اس وقت پرائس عالمی مارکیٹ میں انتہائی کم ہے۔ لیکن ہمارے ہاں پیٹرول کی قیمت تو کم نہیں کیا جا رہا۔ بلکہ ایک طرف پیٹرول کی قیمت پھر اس کے اوپر ٹیکسز اور پھر ایک اضافی لیوی جو پہلے 60 روپے تھی 70 روپے کر دی اب کہتے 80 روپے کریں گے۔ تو اس طرح تو اپ ادھر سے دے کر ادھر سے لینے والی بات کر رہے ہیں۔ جب تک پیٹرول سستا نہیں ہوگا تو بجلی کی قیمت مزید کم نہیں ہوگی۔ تو کیسے انڈسٹری چلے گی اور کیسے عام ادمی کو ریلیف مل سکے گا۔ اس لیے بہت ضروری ہے یہ بات کہ پیٹرول کی قیمت بھی کم کی جائے۔ بجلی کی قیمتوں کو بھی مزید کم کیا جائے۔ ڈیمز کے ذریعے نیوکلیئر پلانٹ کے زریعے، سولر اور اس کے ساتھ ساتھ ونڈ پاور اور ہمارے اپنے کوئلے سے سستی بجلی حاصل کرسکتے ہیں۔ اپنے کوئلے پر پلانٹ چلایا جائے باقی پلانٹس کے ساتھ بات کی جائے اور اس کے نتیجے میں انتہائی سستی بجلی پوری قوم کو ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب یہ سستی بجلی پوری قوم کو ملے گی تو اس پہ ہماری انڈسٹری گرو کرے گی۔ امریکہ میں ٹیرف لگ گیا ہے اوراس کے نتیجے میں ہماری پروڈکٹس کا پرابلم پیدا ہو جائے گا۔ آپ بجلی سستی کریں تاکہ کمپیٹ کر سکیں ورنہ ایکسپورٹ کیسے ہوگی۔ اور کس طرح سے ہم اگے بڑھ سکیں گے۔ یہ جو بات کی جاتی ہے کہ جناب اسٹاک ایکسچینج بہت اچھا ہو گیا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں ہماری معیشت بہتر ہو گئی ہے۔ یہ بالکل عارضی اور مصنوعی قسم کی چیزیں ہوتی ہیں۔ معیشت اس وقت بہتر ہوگی جب انڈسٹری چلے گی۔ معیشت اس وقت مستحکم ہوگی جب ائی ٹی انڈسٹری کو اپ گرو کریں گے۔ معیشت اس وقت مستحکم ہوگی جب عام لیبر سے لے کر صنعت کارڈ تک ریلیف محسوس کریں گے۔ یوٹیلٹی بلز میں پھر پائیدار بنیادوں پہ ہم کھڑے ہوں گے۔ اس وقت تو ٹیکس جمع کرنے کی صورتحال یہ ہے کہ ایف بی ار کا ادارہ جس کا کام ٹیکس جمع کرنا ہے۔ اس کے 25 26 ہزار ملازمین ہیں۔ اور ان ملازمین کا حال یہ ہے کہ ایک سال میں 1300 ارب روپے کی وہ کرپشن کی جاتی ہے۔ جو قابل ٹیکس جو جمع ہو سکتا ہے ٹیکس وہ جمع نہیں کرتے ہیں اس میں کرپشن کرتے ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ پوری قوم کے ساتھ یہ کیا مذاق ہے،۔ ایف بی آر کے 26 ہزار ملازمین کر کیا رہے۔ جبکہ اپ بجلی کے بل پر بھی ٹیکس لگا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موبائل کے کارڈ پہ ٹیکس لگا دیتے ہیں موبائل فون پہ ٹیکس لگا دیتے ہیں۔ امپورٹ پہ ٹیکس لگا دیتے ہیں ڈائریکٹ ایکسپورٹ پہ ڈائریکٹ ٹیکس لگ جاتا ہے جتنی پورٹ پر چیزیں آرہی ہیں اس پہ ٹیکس لگ جاتا ہے۔ جو سب سے زیادہ کنٹریبیوشن کر رہا ہے اس پر مزید اپ ٹیکس لگا دیتے ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ جو ابھی ہمارا اندازہ ہے یہ 500 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرائے گا۔ اور جو بڑے بڑے جاگیردار حکومت میں بیٹھے ہوئے ہیں سینکڑوں مربع زمین والے جاگیردار یہ سب ملا کے چار پانچ ارب روپے جمع کرائیں گے۔ اور تنخواہدار 500 ارب روپے جمع کرا رہا ہے۔ تقریبا تین ساڑھے تو اب تک جمع بھی ہو چکے ہیں۔ جو دو تین مہینے کی پہلے کی فگر ہے اور یہی جاگیردار طبقہ چینی مافیا بھی ہے یہ امپورٹ میں بھی اور ایکسپورٹ میں بھی جاگیردار طبقے کو کون پکڑے گا۔ انہی کی ائی پی پیز نہیں ہیں اور یہی لوگ پنپ رہے ہیں۔ اور پھر شرم بھی نہیں اتی کہ اپنی مرات میں بھی یہی لوگ اضافہ کرتے ہیں۔ خود بیٹھ کر طے کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں موجود لوگوں کی تنخواہوں کو بڑھایا جائے۔ تو یہ جو صورتحال ہے کہ جس میں ایک مخصوص طبقہ ہر لحاظ سے فائدہ حاصل کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اور اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اس کی مرات میں کوئی کمی نہیں ہے اس طبقے کی اور جو عام ادمی ہے عام تنخواہدار ہیں پروفیشنل لوگ ہیں ڈاکٹرز ہیں انجینیئرز ہیں بزنس ایڈمنسٹریشن سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں مینجمنٹ سائنسز کے لوگ ہیں یا ٹیچرز ہیں ان سب لوگوں کو اپ نے ان کا ٹیکس جو ہے وہ ایک سورس کاٹ لیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں سب سے بڑے ٹیکس پیریے بن کر سامنے اتے ہیں۔ ہم نے جو دھرنا دیا تھا اس میں ہماری ایک بنیادی بات یہی تھی کہ تنخواہدار لوگوں کے اوپر جو ٹیکس کا سلیب ہے اس کو اس کو ختم ہونا چاہیے۔ تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس ریوائز ہونا چاہیے اور ہم اپنی بھی اس پر اسٹینڈ کرتے ہیں۔