Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

عوامی تعاون کے بغیر ماحولیاتی تحفظ کا نظام مؤثر نہیں ہو سکتا۔ دوست محمد راہموں

کاربن فٹ پرنٹ کم کیے بغیر ماحولیاتی تحفظ ممکن نہیں۔ ڈی جی سیپا

0

حیدرآباد 5 جون: عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) حکومتِ سندھ کے زیرِ اہتمام آج ممتاز مرزا آڈیٹوریم حیدرآباد میں ایک تقریب منعقد کی گئی، سیمینار میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات، ماحولیاتی تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال، زراعت، صحت، قانون اور میڈیا کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی دوست محمد راہموں، ڈی جی سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی وقار حسین پھلپوٹو ، جامعہ سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری، سندہ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف سیال، بینظیر بھٹو شھید یونیورسٹی اینڈ ٹیکنالوجی خیرپورمیرس کے وائس چانسلر ڈاکٹر رسول بخش مہر، ڈپٹی ڈائریکٹر سیپا ریجنل آفیس حیدرآباد علی نواز بھمبھرو سمیت صنعتی تنظیموں کے نمائندگان اور طلبا وطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ کے مشیر دوست محمد راہموں نے کہا کہ محکمہ ماحولیات دیگر محکموں سے مختلف ہے کیونکہ اس محکمے کو عوام کے بھرپور ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے، سندھ حکومت کلائمیٹ فنانسنگ (موسمیاتی فنڈنگ) کے لیے اربوں روپے دے رہی ہے آج ننگر پارکر کے لوگ باقاعدگی سے فصلیں اگا رہے ہیں۔ جو پہلے ممکن نہیں تھا ہم نے وہاں ڈیم بنا کر یہ ممکن بنایا ہے۔ سندھ حکومت کے مختلف محکمے موسمیاتی تبدیلی پر کام کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کام کرنا پڑے گا اگر ہم سارے کام حکومت پر چھوڑ دیں گے تو نظام نہیں چل سکے گا۔

ڈی جی سیپا وقار حسین پھلپوٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی آج کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ کئی دہائیوں سے چلی آ رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں پاکستان پانچویں نمبر پر ہے اور پاکستان میں صوبہ سندھ سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہے اس لیے ہمیں ہر مسئلے کا فطری حل نکالنا ہوگا۔ حکومت نے پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی لگائی لیکن عوام نے ساتھ نہیں دیا، ہمیں اپنی زمین سے پیار کرنا ہوگا اور اپنا طرزِ زندگی ایسا بنانا ہوگا جس سے کاربن فٹ پرنٹ کم ہو۔

سندھ حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کے لیے سب سے زیادہ کام کیا ہے مثال کے طور پر صوبے میں 6 ہزار میگا واٹ بجلی کی طلب ہے جس میں سے ونڈ پاور سے 2 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے اور سولر سے بھی بڑے پیمانے پر بجلی بنائی جا رہی ہے، اس کے علاوہ حیدرآباد شہر میں بائیو گیس پلانٹ لگانے پر بھی کام جاری ہے، وقار حسین پھلپوٹو نے مزید کہا کہ آئیے ہم سب مل کر وعدہ کریں کہ زندگی میں کم از کم کوئی ایک مثبت کام ضرور کریں گے اگر کچھ اور نہیں کر سکتے تو درخت لگائیں، اور اگر درخت بھی نہیں لگا سکتے تو بجلی کا استعمال کم کریں ۔

دانشور محمود مغل نے کہا کہ آج کے بچوں کو پودا لگانا تک نہیں آتا والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے تربیت کریں، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرِ قانون ڈاکٹر سردار علی شاہ نے کہا کہ جنگلات دھرتی کے پھیپھڑے ہوتے ہیں جو اب ختم ہو رہے ہیں اس وقت دنیا میں موسمیاتی تبدیلی سے منسلک مضامین پر اسکالرشپ آسانی سے مل جاتی ہے اس کی وجہ یہ اس شعبے میں کام کرنے والے ماہرین کی کمی ہے، پاکستان کو اب تک موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے 30 ارب ڈالر کا مالی نقصان ہو چکا ہے جبکہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ محض ایک فیصد ہے، آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 9 شہریوں کو زندگی جینے کا حق دیتا ہے، جس میں صاف ستھرا ماحول بھی شامل ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر رسول بخش مہر نے کہا کہ بڑے ڈیم بنانے کے بجائے چھوٹے ڈیم بنانے سے مقامی لوگوں کو زیادہ فائدہ ہوگا، ڈاکٹر فیروز میمن کا کہنا تھا کہ ہم ہر کام حکومت پر چھوڑ دیتے ہیں، صفائی نصف ایمان ہے اگر ہم صرف اسی اصول پر عمل کر لیں تو اپنے ماحول کو کسی سائنسی طریقے کے بغیر بھی بچا سکتے ہیں، دنیا میں سڑکوں کے مقابلے میں درخت زیادہ ہیں لیکن ہماری سڑکوں پر درخت غائب ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی اموات میں سالانہ ڈھائی لاکھ کا اضافہ ہو سکتا ہے، اس وقت بھی 25 فیصد اموات موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر الطاف سیال نے کہا کہ صوبہ سندھ کو تین اقسام کے سیلابوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو دوسرے صوبوں کو نہیں کرنا پڑتا، جب 1400 ملی میٹر بارش ہوگی تو ایل بی او ڈی کیا کرے گا؟ ایل بی او ڈی کی گنجائش بہت کم ہے، بلوچستان کی بارشوں کا پانی بھی سندھ میں آتا ہے، اب کی بار بھی اگر شدید بارش ہوئی تو خیرپور ناتھن شاہ دوبارہ ڈوب جائے گا، ہمارا محکمہ زراعت صرف واٹر کورس پکے کرنے تک محدود ہے، آبادگار اندھا دھند ٹیوب ویل چلا رہے ہیں جس سے زیرِ زمین بورنگ کا پانی خراب ہو رہا ہے، لاڑکانہ کا پانی کبھی سب سے زیادہ میٹھا ہوتا تھا لیکن آج وہ پینے کے قابل نہیں رہا، کیڑے مار ادویات کے بے دریغ استعمال نے بھی زیرِ زمین پانی کو زہر آلود کر دیا ہے۔

سندھ میں جنگلات کا خاتمہ ہو چکا ہے، اب سیٹلائٹ پر پورے صوبے میں صرف دو جنگلات نظر آتے ہیں، دنیا بھر میں کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ جتنا کاربن خارج کریں گی اتنے جنگلات لگانے کے لیے فنڈز دیں گی اور پیسفک سمندر میں آنے والی تبدیلیوں سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس سال کتنی گرمی ہوگی اور اس سال ریکارڈ توڑ گرمی کی پیشگوئی کی گئی ہے، ہمیں بیرونِ ملک ہونے والے تجربات کو جوں کا توں سندھ پر لاگو نہیں کرنا چاہیے، حکومت اس مد میں اربوں روپے خرچ کر چکی ہے، ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ سندھ کو جغرافیائی لحاظ سے جو چیلنجز درپیش ہیں وہ دوسرے صوبوں کو نہیں ہیں، یہاں سیلاب بھی زیادہ آتے ہیں اور قحط سالی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، صنعت کاروں کو اس معاملے میں زیادہ ذمہ داری لینی ہوگی، ہمیں اب چیریٹی اداروں پر انحصار ختم کر کے کارپوریٹ سیکٹر کو متحرک کرنا ہوگا۔

اس موقع پر پاک ترک اور اسپارک اسکول کے طلبہ نے ٹیبلو بھی پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر مشیرِ اعلیٰ نے مقررین کو اجرک اور شیلڈ پیش کیں، جبکہ طلبہ میں بھی شیلڈ تقسیم کی گئیں۔

Comments
Loading...